حدود آرڈیننس کے حق میں مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کی سہ پہر لاہور میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والی خواتین کارکنوں نے اسلامی سزاؤں کے متنازعہ قانون حدود آرڈیننس میں ترمیم کیے جانے خلاف مظاہرہ کیا اور اسے برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔ جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے عورتوں سے زیادتی سے متعلق متنازعہ حدود آرٹیننس میں ترامیم کرنے کے لیے چودہ اگست کو پارلیمینٹ میں نیا مسودہ قانون پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے تاہم اسلامی جماعتیں حدود آرڈیننس میں کسی ترمیم کے سختی سے خلاف ہیں۔ جمعہ کی سہ پہر لاہور میں جماعت اسلامی کی درجنوں کارکن خواتین نے پریس کلب کے باہر حدود آرڈیننس میں کسی ترمیم کے خلاف مظاہرہ کیا۔ خواتین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا ہوا تھا کہ ’حدود آرڈیننس کو چھیڑنا خدا کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے’۔ جماعت اسلامی کی خواتین کمیشن کی صدر آسیہ سرور نے اس مظاہرہ کی قیادت کی۔ انہوں نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عورتوں کے مسائل حدود قوانین کو تبدیل کرنے سے نہیں بلکہ عدالتوں اور پولیس کے نظام میں اصلاح سے حل ہوں گے۔
جماعت اسلامی کی خواتین کا کہنا تھا کہ ملک کی اسمبلی ایسا کوئی بل منظور نہیں کرسکتی جو آئین کے خلاف ہو اور پاکستان میں کوئی قانون قران و سنت سے متصادم نہیں ہوسکتا۔ ملک میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان قوانین کے نفاذ کے بعد عورتوں سے زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ متاثرہ عورت کو اس قانون کے تحت اپنے ساتھ جبری زیادتی کے چار گواہ پیش کرنا لازمی ہوتے ہیں۔ انیس سو اناسی میں پاکستان کے فوجی حکمران جنرل محمد ضیا الحق نے حدود قوانین نافذ کیے تھے۔ |
اسی بارے میں ’حدود قوانین میں ترمیم ہو گی‘25 November, 2005 | پاکستان حدود قوانین منسوخ کرنے کا مطالبہ07 February, 2006 | پاکستان حدود قوانین کی نظرثانی پر اجلاس 27 March, 2006 | پاکستان حدود آرڈینینس کی شکار خواتین20 April, 2006 | پاکستان حدود مقدمات کی تفصیلات طلب09 July, 2006 | پاکستان 6 ماہ میں حدود کےتحت 278 کیس19 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||