BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 September, 2006, 18:53 GMT 23:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود آرڈیننس: سیاست سے بچانے کا عزم

بیس ستمبر سے ایک ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے
حقوق نسواں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے حدود آرڈیننس کے مسئلہ کو سیاست کی نظر نہیں ہونے دیں گی اور بیس ستمبر سے ایک ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کریں گی۔

یہ اعلان بارہ غیرسرکاری تنظیموں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اتوار کو ایک اخباری کانفرنس میں کیا۔ ویمن ایکشن فورم، پتن ترقیاتی تنظیم، کمیشن برائے حقوق انسانی، عورت فاونڈیشن، بیداری، نیٹ ورک، پودا، روزن، پی ڈبلیو اے، سکنی اور ایس ڈی پی آئی کا کہنا تھا کہ ملک گیر تحریک کا آغاز بیس ستمبر سے اسلام آباد کے چائنا چوک میں ایک ریلی سے کیا جائے گا۔

اگرچہ تحفظ حقوق نسواں کے لیئے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں کا شکایت ہے کہ حکومت ان سے متنازعہ حدود آرڈیننس میں ترامیم کے مسئلے پر مشورہ نہیں کر رہی لیکن ان تنظیموں نے حکومت اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان ترامیم پر ہونے والی بات چیت پر مسلسل نظر رکھی ہوئی ہے۔

اس مشترکہ اخباری کانفرنس میں ان تنظیموں نے حدود آرڈیننس میں ترمیم میں تاخیر اور بقول ان کے حکومت اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے اس مسئلے کو اپنے سیاسی مقاصد کے استعمال پر تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا۔

تاہم ان تنظیموں کو اصل خدشہ اس بات کا ہے کہ کہیں گھریلو تشدد اور جبری شادی سے متعلق چھ مثبت ترامیم کے ساتھ کہیں وہ تین متنازعہ ترامیم بھی منظور نہ کروا لی جائیں جو ان تنظیموں کے بقول زیادہ خطرناک ہیں۔

حقوق نسواں کی کارکن فرزانہ باری نے اپنے خدشات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جن چھ سفارشات کو علماء کمیٹی کے حوالے سے پیش کیا جا رہا ہے وہ سال ہا سال سے غیرسرکاری تنظیموں اور عورتوں کی تحاریک کی جانب سے پیش کی جاتی رہی ہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں حکومت پہلے ہی انہیں نیشنل پلان آف ایکشن میں شامل کر چکی ہیں۔ ’انہیں ان علماء کے حوالے سے پیش کرنا جمہوری قوتوں کو کمزور کرنے کی ایک سازش ہے‘۔

جن چھ سفارشات کو علماء کمیٹی کے حوالے سے پیش کیا جا رہا ہے وہ سال ہا سال سے غیرسرکاری تنظیموں اور عورتوں کی تحاریک کی جانب سے پیش کی جاتی رہی ہیں

ان بارہ غیرسرکاری تنظیموں نے پارلیمان سے باہر مسلم لیگ (ق) اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان حدود ترامیم پر غور کے لیئے علماء کمیٹی کو غیرجمہوری اور غیرپارلیمانی قرار دیتے ہوئے اسے مذہبی جماعتوں کے ساتھ حقوق نسواں پر سودے بازی کی ایک شرمناک مثال قرار دیا۔

انہوں نے علماء کمیٹی کے تمام سفارشات کو حقوق انسانی کی نفی قرار دیتے ہوئے حدود آرڈیننس کی مکمل منسوخی کا اپنا مطالبہ دوہرایا۔ ’ہم حکومت اور مذہبی ٹھیکیداروں کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک حدود آرڈیننس کو منسوخ نہیں کیا جاتا‘۔

ان تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چونکہ وہ یہ مان چکی ہے کہ حدود آرڈیننس تعصب پر مبنی ہے لہذا وہ اسے فورا اس وقت تک معطل یا منسوخ کیا جائے جب تک پارلیمان ترامیم کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچتی۔

سپریم کورٹ سے بھی اس معاملے میں از خود مداخلت کا تقاضا کیا گیا ہے۔

مخدوم علی خانترمیمی بل پرخدشات
حدود کےترمیمی بل پرخدشات برقرار
بلوچبلوچ تحریکیں
بُگٹی بلوچ تحریک کاحصہ نہ تھے: آر رحمٰان
حدود آرڈیننس
پاکستان میں چھ ماہ میں حدود کے 278 واقعات
حدود قوانین کی شکار
اکثریت پنجاب سے، بلوچستان سے کوئی نہیں
اسلامی یا غیراسلامی
حدود قوانین پر نظریاتی کونسل کا اجلاس
حدود قوانین ترمیم
حکومت حددو قوانین میں ترمیم کے لیے راضی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد