BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 September, 2006, 08:02 GMT 13:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود کےترمیمی بل پرخدشات برقرار

اٹارنی جنرل مخدوم علی خان
حدود آرڈینس میں ترمیم ایک مثبت قدم ہے: اٹارنی جنرل مخدوم علی خان
حکمران جماعت سمیت کئی سیاسی جماعتیں متنازعہ حدود آرڈیننس میں ترمیم کے لیئے تیار ہوگئی ہیں مگراس قانون کے خلاف سرگرم انسانی اور حقوق نسواں کی تنظیم آرڈیننس کی مکمل منسوخی کے موقف پر قائم ہیں۔

پاکستان کے فوجی حکمران جنرل ضیاالحق کے دور میں نافذ کئے گئے حدود آرڈیننس کے خلاف خواتین حقوق کی تنظیمیں کئی سالوں سے سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں اور وہ حکومت کے حالیہ اقدامات سے ناخوش ہیں۔

جیل قوانین میں اصلاحات کے لیئے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ سابق جسٹس ناصر اسلم زاہد بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو چاہتے ہیں کہ حدود آرڈیننس منسوخ ہونا چاہئے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر چار چشم دید گواہ نہیں ہیں تو اسے زنا کہنا ہی نہیں چاہیے۔ اس کے لیئے آپ اور قسم کا کوئی قانون بنائیں جو اسے فحاشی قرار دے، قرآن میں لکھا ہے کہ جو آدمی چار چشم دید گواہ نہیں لائے گا تووہ فاسق ہے۔ اگر قرآن اس شخص کو فاسق قرار دیتا ہے، تو اس کی شکایت پر آپ تعزیر میں کیسے مقدمہ چلاسکتے ہیں۔

جسٹس ناصر اسلم زاہد کے مطابق ایسے واقعات کے لیئے دوسرے قانون بنائیں، مثلا جسم فروشی کا قانون بنا لیں کہ وہ اشارے کر رہی ہے، لوگوں کو متوجہ کر رہی ہے،مگر اسے آپ زنا کی زمرے میں نہ لائیں۔

وومین ایکشن فورم کی عظمیٰ نورانی اس صورتحال کو یوں بیان کرتی ہیں کہ ہم تو برابری کی بات کرتے ہیں اور ہمارا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ یہ امتیازی قانون ہے۔

انہوں نے کہا کہ حدود قوانین لائے گئے تھے تو اس وقت ایک اسلامی معاشرہ قائم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ مذہب ہمیشہ خواتین کے خلاف استعمال کیا گیا ہے، جب بھی عورتوں کو پابند کرنے کی بات ہوتی ہے، تو ہمیشہ مذہب کا نام استعمال کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم تو پھر بھی یہ کہیں گے کہ اس قانون کو منسوخ کرنے کی ضرورت ہے۔

حکومت کی جانب سے خواتین کے لیئے بنائی گئی نیشنل کمیشن آن اسٹیٹس آف وومین بھی حدود آرڈیننس کو منسوخ کرنی کی سفارش کرچکا ہے۔

کمیشن کی ایک رکن سیمی کمال کہتی ہیں کہ کمیشن نے یہ سفارش کی ہے کہ اس آرڈیننس کو مکمل طور پر منسوخ کیا جائے۔ پاکستان پینل کوڈ کی جو شقیں ہٹائی گئیں تھیں ان کو بہتر کیا جائے یا شامل کیا جائے۔

سیمی کمال کے مطابق ملک کے آئین میں یہ کہا گیا ہے کہ مرد اور خواتین برابر ہیں، ہم اگر اس برابری والے نظام کی طرف جا رہے ہیں تو ہمیں سپورٹ والے آرڈیننس نہیں چاہئیں، ہمیں برابری والے قوانین چاہئیں۔

انہوں نے بھی کہا کہ اس حدود آرڈیننس کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ہمارے پاس ایک پینل کوڈ موجود ہے جس کے ذریعے جرائم کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

وار اگینسٹ ریپ کی رہنما بیرسٹر دانش کہتی ہیں کہ سول سوسائٹی کا شروع سے ہی مطالبہ رہا ہے کہ حدود آرڈیننس کو منسوخ ہونا چاہیے، اس میں اتنی خرابیاں اور خامیاں ہیں جو ترامیم سے درست نہیں ہوسکتیں۔ اگرچہ ترمیمی بل میں کچھ اچھی باتیں ہیں مگر ابھی بھی ہمارے بہت سارے خدشات ہیں۔

بیرسٹر دانش زبیری کا کہنا ہے کہ یہ بل کامیاب ہوگا یا نہیں یہ سوال اپنی جگہ پر ہے، مگر اس میں کافی وضاحتیں اور تشریحات مطلوب ہیں اور اس پر عمل درآمد کیسے ہوگا یہ ایک ایشو ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک کچھ چیزیں واضح نہیں ہیں، اگر کوئی عورت شکایت کرے کہ اس کے ساتھ ریپ ہوا ہے تو مقدمہ زنا باالرضا میں تبدیل ہوجاتا تھا۔ کیا اب بھی ویسے ہی ہوگا؟ ابھی تک کافی وضاحتیں مطلوب ہیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ ایک پیش قدمی ہے، اس میں جو خرابیاں تھیں ان پر غور کیا گیا ہے، تاہم ابھی بھی یہ نہیں لگتا کہ سارے مسائل پر غور کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر حدود آرڈیننس کو ضیا الحق کا آمرانہ قانون قرار دیتے ہیں ان کا کہنا ہے اس پر نہ پارلیمنٹ کے اندر اور نہ ہی باہر بحث ہوئی ہے۔

ایک دو جج صاحبان نے ضیاالحق کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیئے ان کو اس لائن پر لگا دیا تھا۔

اقبال حیدر کا کہنا ہے یہ قانون اسلام کے مطابق ہرگز نہیں ہے، جسٹس ناصر اسلم زاہد اور جسٹس ماجدہ رضوی کی سربراہی میں بنائے گئے دو قانونی کمیشن اس امتیازی اورمتنازعہ آرڈیننس کو غیر اسلامی اور غیر انسانی قرار دے کر اس کو منسوخ کرنے کی سفارش کر چکے ہیں۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل مخدوم علی خان کا خیال ہے کہ یہ خواتین کے حق میں ایک مثبت قدم ہے۔اس سے قبل حدود آرڈیننس کے لیئے کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے، اب اس پر غور ہونا چاہئیے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ حدود میں کتنی خواتین قید رہیں اور کس کو سزا آئیں تو مخدوم علی خان کہنا تھا کہ اعداد و شمارحکومت کے پاس بھی ہیں اور این جی اوز کے پاس بھی ہیں جو متضاد ہیں۔

اگر حکومت کی طرف سے پیش کیا جانا والا ترمیمی بل اگر پاس ہو بھی جاتا ہے تو انسانی اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں کی تشفی نہیں کر پائے گا۔

اسی بارے میں
حدود قوانین پر فیصلہ مؤخر
28 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد