BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 September, 2006, 20:32 GMT 01:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت، اپوزیشن میں معاہدہ

پاکستان میں خواتین نے حدود آرڈیننس کے خلاف کئی مرتبہ مظاہرے کیئے ہیں
حکومت اور مذہبی جماعتوں کے درمیان حدود آرڈیننس میں ترامیم کے معاملے پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے اور اب یہ بل بدھ کو اسمبلی میں بحث کے لیئے پیش کیا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ قانون وصی ظفر نے مفاہمت کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات کے بعد بنائی جانے والی خصوصی علماء کمیٹی نے اسلام آباد میں اپنے اجلاس میں حدود آرڈیننس کے ترامیمی بل کا تفصیلی جائزہ لیا اور اپنی سفارشات پیش کیں۔ ان پر اتفاق کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اب اس بل میں اصولی طور پر قرآن و سنت کے منافی کوئی چیز شامل نہیں۔

وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ علماء نے حکومت کے ترامیمی بل میں سے کسی شق کو حذف نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حدود آرڈینیس کے ترامیمی بل میں قرآن و سنت سے متصادم کوئی چیز نہیں تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ علماء کی سفارشات پر اس بل میں تین سفارشات شامل کی جائیں گی جن کے مطابق اگر زنا بالجبر کے چار گواہ عدالت میں پیش کر دیئے جائیں تو اس پر حدِ زنا جاری کی جائے گی اور اگر گواہ موجود نہیں تو عدالت اس پر تعزیر کا نفاذ کرے گی۔

اس کے علاوہ زنا بالرضا کے حوالے سے تعزیراتِ پاکستان میں’فحاشی‘ کے عنوان سے ایک نئی دفعہ کا اضافہ کیا جائے گا جس کے ثابت ہونے پر پانچ برس تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔ وزیرِ قانون کا یہ بھی کہنا تھا کہ ترمیمی بل میں حدود آرڈینس سے حذف کی جانے والی دفعہ تین کو تبدیلی کے بعد بل میں دوبارہ شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ زنا کے مقدمات سے پولیس کا کردار ختم کر دیا گیا ہے اور اب یہ معاملات عدالتیں نمٹائیں گی۔

حکومت اور اپوزیشن میں تحفظ نسواں بل پر مفاہمت کا مسودہ سامنے آنے کے باوجود تاحال صورتحال واضح نہیں ہے۔ حکومت اور مذہبی جماعتیں دونوں یہ دعوٰی کر رہی ہیں کہ ان کے موقف کو درست تسلیم کیا گیا ہے تاہم یہ صورتحال تبھی واضح ہو گی جب یہ بل تحریری صورت میں ایوان کے سامنے بحث کے لیئے پیش کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
حدود بل، کارروائی جمعرات کو
04 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد