مشرف کتاب، فروخت ذرا کم کم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے معروف بک سٹالوں پر صدر مشرف کی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ فروخت کے لیئے پیش کر دی گئی ہے البتہ لاہور میں یہ کتاب اتنی زیادہ فروخت نہیں ہو پائی جیسا کہ اس کے بارے میں توقع کی جا رہی تھی۔ پاکستان میں یہ کتاب اسلامی مہینےکے مطابق یکم رمضان کو فروخت کے لیے پیش کی گئی ہے۔ پاکستان کے اشاعتی ادارے فیروز سنز لاہور کے ایک اہلکار نے بتایا کہ صبح سے اس کتاب کے بارے میں جاننے کے لیے لوگوں کے ٹیلی فون آ رہے تھے لیکن کتاب شام کو افطاری سے کچھ دیر پہلے آئی۔ بک شاپ کے ملازم عبدالستار بانٹھ نے بتایا کہ اب دکان بند ہونے میں کوئی دو گھنٹے رہ گئے ہیں اور صرف تین چار کتب فروخت ہوپائی ہیں۔ البتہ ان کو توقع ہے کہ کتاب کی قیمت بارہ سو پچانوے ہونےاور انگریزی میں ہونے کے باوجود اس کی فروخت ٹھیک ٹھاک رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج پہلا روزہ تھااور افطاری کے بعد ویسے ہی لوگ کچھ کم نکلتے ہیں ان کا خیال ہے کہ کل سے اس کی فروخت میں تیزی آجائے گی۔ ادھر اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کتاب مارکیٹ میں آتے ہی تیزی سے بکی ہے اور کئی افراد نے تو اس کی پہلے سے بکنگ کروا رکھی تھی۔ یہ کتاب تبصروں کے لیے قومی خبارات کے دفاتر میں بھی پہنچ گئی ہے جہاں اس کے مختلف حصوں کے ترجمے کیے جارہے ہیں جو صبح کے اخبارات کے صفحہ اول میں بطور خبر جگہ پائیں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کتاب کے مندرجات یقینی طور ملک میں ایک نئی سیاسی بحث کا آغاز کریں گے اور حزب اختلاف کی بعض جماعتوں خاص طور پر مسلم لیگ نواز کے رہنما اس پر شدید ردعمل کا اظہار کریں گے۔ بہرحال مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کتاب پر جتنی بحث کی جائے گی اس کے مندرجات کو جھوٹا سچا قرار دیا جائے گا یا تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا اتنا ہی اس کتاب کی فروخت بڑھے گی۔ اس کتاب کے صفحہ اول پر صدر مشرف کی تصویر ہے اور فلیپ پر ان کی ایک ایسی تصویر ہے جس میں وہ مسکراتے دکھائی دیتے ہیں اور اس تصویر کے نیچے ان کے مختصر حالات زندگی لکھے ہیں جس کے مطابق وہ چار سال کی عمر میں پاکستان آگئے تھےاور پاک فوج میں آنے کے بعد وہ ایک کمانڈو بنے اور انہوں نے انڈیا کے خلاف سنہ انیس سو پینسٹھ اور سنہ انیس سو اکہتر کی جنگوں میں حصہ لیا۔ اس تعارف میں یہ بھی لکھا ہے کہ پھر وہ جنرل کے رینک تک پہنچے اور وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ایک ڈرامائی تصادم کے بعد وہ پاکستان کے صدر بنے اس تعارف اختتام اس فقرے کے ساتھ ہوتا ہے کہ دو قاتلانہ حملوں کے باوجود وہ تاحال اپنے عہدے پر موجود ہیں۔ صدر مشرف نے اپنی کتاب کوپاکستانی عوام کے نام کیا ہے جو ان کے بقول اچھے مستقبل کا تحمل سے انتظار کر رہے ہیں اس کے ساتھ انہوں نے اس کتاب کو اپنی والدہ کےنام بھی کیا ہے۔ پاکستان میں لوگوں کو اس کے اردو ترجمے کا بھی انتظار رہے گا اور قیمت کم ہونے کا بھی جس کے بعد اس کتاب تک خواص کے علاوہ ان عام لوگوں کی رسائی میں بھی اضافہ ہوگا جو کتاب کے سستے اردو ایڈیشن آنے تک اس کے اخبارات میں شائع ہونے والے مندرجات پر اکتفا کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ہاں! مسلم لیگ ق میں نے بنوائی تھی: مشرف25 September, 2006 | پاکستان ’شاید وہ سچ نہیں بول رہے‘25 September, 2006 | پاکستان ’سی آئی اے نے کروڑوں ڈالر دیئے‘25 September, 2006 | پاکستان ’ آرمیٹیج سچے ہیں یا مشرف‘25 September, 2006 | پاکستان ’بائے دا بُک‘22 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||