BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 September, 2006, 23:11 GMT 04:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بائے دا بُک‘

صدر بش اور صدر مشرف
صدر بش نے بعد میں مسکراتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں موجود صحافیوں کو مشورہ دیا کہ جائیں کتاب خرید کر پڑھیں
جب ابھرتے ہوئے مصنفین کتاب لکھتے ہیں تو اس کے فروغ کے لیئے مختلف قسم کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ایسا کم ہی دیکھا گیا ہے کہ کسی ملک کے صدر نے اپنی کتاب کی تشہیر کے لیئے سرکاری دورے یا صدارتی پریس کانفرنس کا استعمال کیا ہو۔

جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں صدر بش اور جنرل مشرف کے درمیان ملاقات کے بعد مشترکہ پرس کانفرنس میں کچھ یہی دیکھنے کو ملا۔

جب دونوں سے سوال جواب کے سلسلے کے دوران پوچھا گیا کہ یہ صدر مشرف کا حالیہ یہ بیان کس حد تک درست ہے کہ امریکہ نے گیارہ ستمبر کے حلموں کے بعد پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو امریکہ پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے، تو جنرل مشرف نے یہ کہہ کر اس پر بات کرنے سے انکار کیا کہ وہ اس موضوع پر اپنی کتاب کی تقریبِ رونمائی سے پہلے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

ابھی کچھ نہیں
 اس موضوع پر اپنی کتاب کی تقریبِ رونمائی سے پہلے کچھ نہیں کہہ سکتا
صدر جنرل مشرف

کہا جارہا ہے کہ کتاب کے پبلیشرز کے ساتھ صدر مشرف کی کتاب کے سودے کی لاگت ایک ملین امریکی ڈالرکی ہے۔ تین سو اڑسٹھ صفحات پر مشتمل کتاب کی امریکہ میں اکثر بک اسٹورز پر قیمت ستائیس ڈالرمقرر کی گئے ہے۔

پریس کانفرنس میں صدر بش نے بعد میں مسکراتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں موجود صحافیوں کو مشورہ دیا کہ جائیں کتاب خرید کر پڑھیں۔

جس طرح جنرل مشرف نے امریکہ کے سرکاری دورے میں بار بار اپنی کتاب کا ذکر کیا ہے کیا اس پر یہاں اکثرمبصرین کو خاصی حیرت ہے۔ اگر معاملہ کوئی اور ہوتا تو شاید اکثر لوگ اس کو ہلکے پھلکے اندز میں لے کر درگزر بھی کردیتے۔ لیکن جب بات ہورہی ہو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں لوگوں کی جانوں کی اور آپ کے ملک پر ممکنہ حملے کی تو ان باتوں کی اہمیت اور نزاکت الگ ہو جاتی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے نزدیک کتاب لکھنا اور اس کی اشاعت سے مالی فائدہ حاصل کرنا جنرل مشرف کی سرکاری ذمہ داریوں میں شامل نہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہب جمہوری معاشروں میں ایسا کم ہی ہوگا کہ کوئی رہنما اپنے ملک کے بارے میں سنسنی خیز قسم کے انکشاف کرے اور بعد میں محض اس بنیاد پر وضاحت پیش نہ کرے کہ سب کچھ ان کی آنے والی کتاب میں ہے۔

اسی بارے میں
دھمکی کا سن کر حیرت ہوئی: بش
22 September, 2006 | پاکستان
کبھی دھمکی نہیں دی: آرمیٹیج
22 September, 2006 | پاکستان
صدر مشرف کیا کہتے ہیں
22 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد