’مسلم لیگ قاف میں نے بنوائی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی کتاب کی باقاعدہ تقریبِ رونمائی تو واشنگٹن میں ہو رہی ہے لیکن اسلام آباد کے بازاروں میں یہ کتاب قارئین کے لیئے دستیاب ہے۔ ’ان دی لائن آف فائر، اے میموائر‘ کے نام سے شائع ہونے والی اس کتاب میں صدر مشرف نے متعدد اہم انکشافات کیئے ہیں اور کارگل کی جنگ، 1999 کی فوجی بغاوت، خود کش حملے، دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ، القاعدہ اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ جیسے موضوعات کا احاطہ کیا ہے۔ اس کتاب کو چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور اس میں بتیس ابواب ہیں۔ کتاب کا انتساب پاکستان کےعوام کے نام بھی ہے جبکہ ابتدائیے میں صدر مشرف نے اس کتاب کو پاکستان کے بارے میں جاننے کی کوشش کرنے والوں کے لیئے ایک کھڑکی قرار دیا ہے۔ کتاب کے پرولاگ میں صدر مشرف نے دسمبر 2003 میں خود پر ہونے والے حملوں کی تفصیل بیان کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ وہ موت کا شکار ہونے سے بال بال بچے ہوں بلکہ ان کی زندگی میں متعدد ایسے مواقع آئے جب موت انہیں چھو کر گزر گئی۔
کارگل جنگ کے بارے میں صدر مشرف لکھتے ہیں کہ یہ آپریشن پاک فوج کی تاریخ میں ایک تاریخی اہمیت کا حامل ہے جس میں پاکستان کی پانچ بٹالین فوج نے حریت پسند گروپوں کی مدد سے بھارت کو مجبور کر دیا کہ وہ اس علاقے میں چار ڈویژن سے زائد فوج تعینات کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ کارگل کی جنگ اپنے طور پر کوئی علیحدہ جنگ نہیں تھی بلکہ سیاچن گلیشیئر پر قبضے کے زمانے سے شروع ہونے والی لڑائی کا حصہ تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایل او سی کے درمیان واقع خالی پہاڑیوں پر قبضہ کرنے کو کسی قانون کی خلاف ورزی تصور نہیں کیا جاتا۔ وہ لکھتے ہیں کہ پہلے تو اس علاقے میں کشمیری عسکریت پسند ہی لڑ رہے تھے اور مئی کے مہینے میں پاکستان فوج کی ناردرن لائٹ انفنٹری کے دستوں نے کچھ پوسٹوں پر پوزیشنیں سنبھالی تھیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ پندرہ مئی سنہ ننانوے کو جب انہوں نے پاکستانی دستوں کو اپنی پوزیشنیں مضبوط کرنے کا حکم دیا تو مجاہدین انڈیا کے آٹھ سو مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر چکے تھے۔ صدر مشرف نے اپنی کتاب میں جہاں یہ انکشاف کیا ہے کہ سنہ ننانونے میں پاکستان کی جوہری طاقت آپریشنل نہیں تھی وہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کی سیاسی قیادت جنگ کے موڈ میں نہیں تھی لہذا یہ باتیں صحیح نہیں کہ انڈیا نے پاکستان پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ انڈین قیادت نے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ صدر مشرف کا کہنا ہے کہ یہ بات تاحال ان کے لیئے ایک معمہ ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو سیزفائر اور فوج کی واپسی کی کیا جلدی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ نواز شریف کو پہلے انتیس جنوری کو سکردو میں اور پھر پانچ فروری 1999 کو کیل میں کارگل پر بریفنگ دی گئی جس کے بعد بارہ مارچ بھی کو آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل نے انہیں علاقے کے حالات پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ دو جولائی کو جنرل مشرف نے خود کابینہ کی دفاعی کمیٹی کو بریف کیا۔
اس بریفنگ میں بھی نواز شریف نے متعدد بار سیز فائر سے متعلق سوال کیا اور پھر تین جولائی کو انہیں نواز شریف کا پیغام ملا کہ وہ امریکہ جا رہے ہیں۔ روانگی سے قبل نواز شریف نے ان سے سیز فائر کے متعلق پوچھا جس پر جنرل مشرف نے انہیں کہا کہ’حالات ہمارے حق میں ہیں‘ ، وزیراعظم امریکہ گئے اور سیز فائر کا اعلان کر آئے۔ صدر مشرف نے اس کتاب میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر خان کو ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے سے ہی مکمل آزادی حاصل تھی اور وہ صرف صدرِ پاکستان کو جواب دہ تھے۔ غلام اسحاق خان کے دور میں فوج کے سربراہ کو اس نیٹ ورک میں شامل کیا گیا اور وہ صدرِ پاکستان کے نمائندے کے طور پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے رابطے میں رہتا تھا۔ کتاب میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر خان نے اس آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھایااور وہ 1987 سے ایٹمی معلومات کے تبادلے کے عمل میں مصروف ہو گئے۔ صدر مشرف کے مطابق انہیں جو ٹھوس ثبوت ملے ان کے مطابق خان ریسرح لیبارٹری کے چار سے چھ سائنسدانوں کا ایک گروپ دبئی میں موجود ایک ایسے گروپ کے ذریعے معلومات فراہم کرتا تھا جس میں کچھ بھارتی اور یورپی شہری شامل تھے جو بعد ازاں غائب ہوگئے۔ کتاب کے مطابق جوہری معلومات سب سے پہلے ایران کو فراہم کی گئیں اور اس کے بعد لیبیا اور شمالی کوریا کی باری آئی۔ جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے لیبیا کے ساتھ ایک سو ملین ڈالر کی ڈیل کی جبکہ اس کے علاوہ دو سو پی۔1 اور پی۔2 سنٹری فیوجز شمالی کوریا کو فراہم کیئے گئے جس کا ثبوت انہیں دورۂ امریکہ کے دوران سی آئی اے کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل جارج ٹینٹ نے سنٹری فیوجز کے بلیو پرنٹ کی صورت میں دیا۔
کتاب میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران ڈاکٹرخان کے دو ایسے خط بھی ہاتھ لگے جن میں سے ایک ایرانی شخص سے کہا گیا تھا کہ وہ کسی صورت میں آئی اے ای اے کے سامنے ڈاکٹر خان کا نام نہ لیں بلکہ اس عمل کی ذمہ داری مردہ افراد پر ڈال دیں جبکہ دوسرے خط میں ڈاکٹر خان نے لندن میں مقیم اپنی بیٹی کو چند برطانوی اخبارنویسوں کے نام بتاتے ہوئے کہا کہ وہ کس طرح پاکستان کے جوہری راز افشا کر سکتی ہیں۔ کتاب کے مطابق ایٹمی معلومات کے پھیلاؤ کے اس عمل میں اتنی بد احتیاطی برتی گئی کہ لیبیا کو جوہری معلومات فراہم کی گئیں انہیں جس لفافے میں رکھا گیا وہ اسلام آباد کے ایک درزی کی دکان کا تھا۔ جنرل مشرف نے اس کتاب میں تسلیم کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کی تشکیل ان کے ایماء پر ہوئی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ نواز شریف کی جلاوطنی کے بعد انہوں نے سوچا کہ اس ملک میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیئے جو ان دو جماعتوں ( پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن) کا مقابلہ کر سکے اور اس موقع پر ان کے پرنسپل سیکرٹری طارق عزیز نے چوہدری شجاعت کی جنرل مشرف سے ملاقات کا اہتمام کیا جس کے بعد یہ جماعت وجود میں آئی۔ جنرل مشرف نے اس جماعت کے قیام کے لیئے طارق عزیز کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ | اسی بارے میں ’سی آئی اے نے کروڑوں ڈالر دیئے‘25 September, 2006 | پاکستان ’شاید وہ سچ نہیں بول رہے‘25 September, 2006 | پاکستان ’پاکستان کوئی بنانہ ریپبلک نہیں‘25 September, 2006 | پاکستان ’ آرمیٹیج سچے ہیں یا مشرف‘25 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||