فوجی عدالتوں پر اختیارنہیں: کورٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ نے جنرل مشرف پر قاتلانہ حملے کے مقدمے میں فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل سننے سے انکار کیا ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ کے فل بنچ نےلاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس میں اس نے قرار دیا تھا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کی سربراہی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کر رہے تھے جبکہ بنچ میں شامل دیگرججوں میں جسٹسں عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس سید سعید اشہد شامل تھے۔ فل بنچ نے چودہ اور پچیس دسمبر سنہ دو ہزار تین کو راولپنڈی میں صدر پر ہونے والےحملوں کے بارہ ملزمان کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ سپریم کورٹ میں یہ اپیلیں دائر کرنے سے قبل ملزمان کے وکلاء نے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ میں بھی سزا کے حلاف اپیلیں دائر کی تھیں جنہیں ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ فوجی عدالتوں کی جانب سے سنائی جانے والی سزاؤں کے خلاف اپیل کی سماعت عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ ملزمان کے وکیل حشمت حبیب نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اپیلیں مسترد کرنے کا فیصلہ پاکستان میں عدلیہ کی تاریخ کا ایک سیاہ فیصلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے تکنیکی بنیادوں پر اپیلوں کی سماعت سے انکار کیا ہے اور ایسے انتہائی اہم مقدمات میں عدالت کو ان وجوہات کی بنیاد پر اپیل خارج نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ صدر مشرف پر چودہ دسمبر 2003 کو ہونے والے حملے میں ملوث ہونے کے جرم میں ایک سویلین مشتاق احمد کے علاوہ ائر فورس کے چیف ٹیکنیشن خالد محمود، کارپورل ٹیکنیشن نوازش علی، جونیئر ٹیکنیشن نیاز محمداور جونیئر ٹیکنیشن عدنان رشید کو سزائے موت سنائی گئی تھی جبکہ اسی برس پچیس دسمبر کو ہونے والے دوسرے خودکش حملے کے جرم میں کمانڈو نائیک ارشد محمود اور چار سویلین افراد زبیر احمد، راشد قریشی، غلام سرور اور اخلاص احمد کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ انہی مقدموں میں ائر فورس کے دو اہلکاروں سینیئر ٹیکنیشن کرم دین اور جونیئر ٹیکنیشن نصراللہ اور رانا نوید سمیت پانچ سویلین افراد کو عمر قید جبکہ عامر سہیل نامی شخص کو بیس سال اور عدنان کو پندرہ سال قید کی سزا دی گئی تھی۔ اپیل کورٹ نے بعد ازاں رانا نوید اور عامر سہیل کی سزا کو بڑھا کر سزاِئے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ جھنڈا چیچی پل پر ہونے والے حملے کے ایک مجرم فوجی اہلکار اسلام الدین شیخ عرف عبدالسلام صدیقی کو بیس اگست سنہ 2005 کو ملتان کی سنٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ | اسی بارے میں القاعدہ پر کاری ضرب: مشرف27 September, 2004 | پاکستان کراچی: حفاظتی انتظامات سخت27 September, 2004 | پاکستان ’اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں‘ 27 September, 2004 | پاکستان گیارہ مبینہ دہشت گرد گرفتار28 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||