BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 May, 2006, 11:41 GMT 16:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کارگِل حملے کا واجپئی سے پتہ چلا‘
نواز شریف اور پرویز مشرف
نواز شریف نے حیرت کا اظہار کیا کہ اب انڈیا اسی جنرل پرویز مشرف سے بات چیت کر رہا ہے جنہوں نے کارگل آپریشن کیا تھا
پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انہیں کارگل پر لڑائی کے بارے میں انڈیا کے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سے معلوم ہوا تھا۔

پی ٹی آئی کے مطابق نواز شریف نے اتوار کو انٹرویو میں صدر جنرل پرویز مشرف کو کارگل کے’مس ایڈونچر‘ کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ وہ چاہیں گے کے ان پر اس سلسلے میں مقدمہ چلایا جائے۔

’مسٹر پرائم منسٹر، کارگل میں کیا ہو رہا ہے؟‘ اٹل بہاری واجپئی نے مئی انیس ننانوے میں نواز شریف کے مطابق ان سے فون پر پوچھا۔

نواز شریف نے بتایا کہ فوج کے اکثر کور کمانڈر بھی کارگل آپریشن سے ناواقف تھے جو ’مشرف اور ان کے دو تین حواریوں کی غیر سوچی سمجھی مس ایڈونچر‘ تھی۔

نواز شریف نے اپنے اس انٹرویو میں کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے ان کے اور اٹل بہاری واجپئی کے درمیان پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر سمیت تمام اختلافات کو حل کرنے کے بارے میں ہونے والی مفاہمت کو سبوتاژ کر دیا تھا۔

نواز شریف نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ اب انڈیا اسی جنرل پرویز مشرف سے بات چیت کر رہا ہے جنہوں نے کارگل آپریشن کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی سمجھ سے باہر ہے۔

نواز شریف اور پاکستان کی ایک اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے درمیان چودہ مئی کو ہونے والے معاہدے ’میثاق جمہوریت‘ میں کارگل آپریشن کے اسباب اور ذمہ داری کی نشاندہی کے لیے کمیشن کے قیام کی بات بھی کی گئی ہے۔

پی ٹی آئی نے نواز شریف سے پوچھا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جنرل مشرف کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو ان کا جواب تھا کہ ’یہ بالکل واضح ہے کہ معاہدے کے تحت قائم ہونے والا کمیشن ذمہ داری کا تعین کرے گا اور قصوروار کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔

نواز شریف نے کہا کہ ’انڈیا اس وقت کچھ بھی کر سکتا تھا کیونکہ اس پر بلا اشتعال حملہ کیا گیا تھا‘۔

اسی بارے میں
کارگل جنگ اور چار کا ٹولہ
24 July, 2004 | پاکستان
کارگل کے قیدیوں کا تبادلہ
09 August, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد