کارگل: عدالتی تحقیقات نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کارگل لڑائی کی تحقیقات کرانے کے لئے ایک عدالتی کمیشن قائم کرنے کے مسلم لیگ (ن) کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔ سنیچر کے روز مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفرالحق نے مطالبہ کیا تھا کہ کارگل لڑائی کی عدالتی تحقیق کرائی جائے کیونکہ بقول ان کے یہ لڑائی انیس سو ننانوے کی فوجی بغاوت کی اہم وجہ تھی۔ چوھری شجاعت حسین نے تین ہفتے قبل وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا ہے۔ انہوں نے لاہور میں صحافیوں کو بتایا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران لڑائی کی تفصیلی بریفِنگ دی تھی۔ چودھری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ یہ بریفِنگ نواز شریف کو روزانہ دی گئی تھی۔ صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم شجاعت حسین نے کہا: ’تحقیقاتی کمیشن کیا کرتا ہے؟ شواہد اکٹھا کرتا ہے۔ میں نے آپ کو کافی شواہد دیے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||