| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کارگل، ایل او سی پر فلم
ممبئی کا فائیو سٹار ہوٹل پیر کی رات کسی طرح بھی میدان جنگ سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ جگہ جگہ فلم کے پوسٹر لگے تھے۔ فلمی ستارے فوجی وردیوں میں ملبوس گھوم رہے تھے اور یہاں تک کہ ہوٹل کے بال روم کو بھی میدان جنگ کی طرح سجایا گیا تھا۔ فلم کے ہر گانے اور مکالمے کا تالیوں کی گونج میں استقبال کیا جا رہا تھا۔ حب الوطنی کا جذبہ ہال روم میں بیٹھے ہزار سے زائد مہمانوں کے چہروں پر دیکھا جا سکتا تھا۔ فلم کے ڈائریکٹر جے پی دتا اس طرح کے ردعمل کی امید نہیں رکھتے تھے اور خوش نظر آرہے تھے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اب جبکہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان قیام امن کی کوششیں ہو رہی ہیں تو ایسے وقت میں ایک متنازعہ فلم بنانے کی کیا ضرورت تھی تو انہوں نے کہا کہ اسو موضوع کو فلم کے لئے اس لئے منتحب کیا گیا ہے کہ یہی بھارت اور پاکستان کے درمیان بنیادی معاملہ ہے جو دونوں ملکوں کو اقتصادی طور پر کمزور کر رہا ہے۔ ’یہ معاملہ ہر وقت ہمیں بے چین رکھتا ہے۔ عام آدمی چاہے پاکستان کا ہو یا ہندوستان کا، وہ نہ تو لڑائی چاہتا ہے اور نہ جنگ میں ملوث ہونا چاہتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ یہی بات میں نے فلم بارڈر کے آخری گانے میں بھی کہی تھی ’میرے دشمن، میرے بھائی، میرے ہمسائے۔‘
جے پی دتا کی اس نئی فلم میں چالیس سے زائد ہیرو ہیروئینیں ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ ابھیشیک بچن، سیف علی خان، منوج واجپئی، سنجے دت، سنیل شیٹی سب کے سب فوجی وردیوں میں ملبوس تھے اور سچ مچ فوجی افسر لگ رہے تھے۔ جوش سے بھرے یہ لوگ اپنے کرداروں کو بہتر سے بہتر بنانے میں مصروف تھے۔ سنیل شیٹی سے میں نے پوچھا کہ بولی وڈ کی فلمیں پاکستان میں بھی کافی مقبول ہیں، ظاہر ہے ایل او سی بھی وہاں دیکھی جائے گی تو پاکستانیوں سے آپ کس طرح کے رد عمل کی توقع رکھتے ہیں؟
انہوں نے کہا’ یہ تو میں نہیں بتا سکتا کیونکہ یہ تو انڈیا کے پوائنٹ آف ویو سے بنائی جا رہی ہے۔ کارگل بھارتی فوجیوں کو خراج تحسین ہے۔ میں شاہ رخ کی بھی فلم کر رہا ہوں جو دونوں ملکوں کو قریب لانے کی کوشش ہے، ملاپ کی ایک کوشش ہے۔‘ لوگ کہہ رہے تھے کارگلل کی لڑائی مرد فوجیوں نے لڑی تھی تو پھر فلم میں دس ہیروئینوں کا کیا کام؟ یہی سوال میں نے دھرمیندر اور ھیمامالنی کی بیٹی ایشا دیول سے پوچھا جو اس فلم میں ابھیشیک بچن کی گرل فرینڈ ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’مجھے باقی لوگوں کے بارے میں تو زیادہ پتا نہیں لیکن میرا کردار ایک نوجوان سے محبت کا ہے۔ ہم محبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں اور مجھے یہ خبر ملتی ہے کہ میرا محبوب کارگل کے محاذ ہر جانے والا ہے تو میرے پہ کیا گزرتی ہے۔‘ فلم کی دیگر ہیروئینوں میں کرینا کپور، ماہیما چوہدری اور رانی مکرجی بھی شامل ہیں۔ سیٹ پر تین اصلی فوجی بھی موجود تھے، ان تین بٹالینوں کے کمانڈر جن کے سینکڑوں فوجی کارگل کے معرکے میں مارے گئے تھے۔ فلم کے گانے جاوید اختر نے لکھے ہیں جبکہ موسیقی انو ملک نے ترتیب دی ہے۔ فلم بارہ دسمبر کو ریلیز کی جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||