| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کشمیر پالیسی کے اہم موڑ
جنرل مشرف کی کشمیر پالیسی اس وقت واضح ہوگئی تھی جب بارہ جنوری سن دو ہزار دو میں انہوں نے کشمیر میں سرگرم عمل دو اہم تنظیموں لشکر طیبہ اور جیش محمد پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں کسی دوسرے ملک کے خلاف مسلح کاروائیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ البتہ انہوں نے اپنے روایتی موقف کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرارداد میں موجود ہے جس کو کشمیری عوام کی مرضی سے حل کیا جائے گا۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کی کشمیر پالیسی مکمل طور پر تبدیل کی گئی ہے اور جنرل مشرف اب اس طریقے سے اس تحریک کو آگے چلانے کے حق میں نہیں ہیں جس طرح سابق فوجی حکمران جنرل ضیاءالحق نے اس کی بنیاد ڈالی تھی۔ سن اٹھانوے میں بھارتی وزیراعظم واجپئی کے لاہور آنے سے قبل پاکستان کے سابق وزیراعظم نوازشریف نے پہلی بار کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے دونوں ملکوں کو لچک دکھانا ہوگی جس میں کشمیریوں کی مرضی کو فوقیت دی جائے گی۔ لیکن کارگل تنازعے کے فورا بعد یہ تاثر ابھرا کہ دونوں ممالک اپنے روایتی موقف سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں۔
سیاسی اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس کے موقف میں بھی اس وقت تبدیلی محسوس ہوئی جب اس نے کشمیر پر سہ فریقی مذاکرات سے ہٹ کر بھارتی حکومت سے براہ راست بات چیت کرنے پر رضامندی ظاہر کی- گو کہ پاکستان اور کشمیری قیادت نے اس معاملے پر کافی لچک دکھائی ہے لیکن بھارت اپنے موقف سے کس حد تک ہٹتا ہے؟ ابھی اس کا واضح اشارہ نہیں ملا تاہم جنرل مشرف نے کشمیری مزاج اور دنیا میں بدلتے سیاسی حالات کے پس منظر میں جس طرح کا بیان دیا ہے اس سے بقول مبصرین ان کی سیاسی بصیرت کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ اس سے پہلے ریاست میں مکمل آزادی کی خواہاں پارٹی جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ اقوام متتحدہ کی قراردادوں کو فرسودہ کہہ کر تیسرے آپشن کا مطالبہ کرتی آرہی ہے لیکن ہر بار دونوں ملکوں نے اسے ناقابل قبول قرار دیاہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||