جلاوطنی معاہدہ نہیں مفاہمت ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جلاوطن سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کا جلاوطنی کے بارے میں حکومت پاکستان کے ساتھ کو ئی تحریری معاہدہ نہیں ہے البتہ سعودی عرب کی حکومت سے ایک مفاہمت ضرور ہے۔ میاں نواز شریف نے بی بی سی اردو کے شفیع نقی جامعی سے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا ’ہمارا حکومت پاکستان کے ساتھ کوئی تحریری یا زبانی معاہدہ نہیں ہے‘۔
ایک سوال پر کہ کیا ان کا سعودی عرب کی حکومت سے کوئی معاہدہ ہوا ہے تو میاں نواز شریف نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت سے اس بات پر مفاہمت ہوئی تھی کہ سعودی عرب میں جانے کے بعد ان پر دنیا میں کہیں بھی جانے پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔’بس یہی اس مفاہمت کے چیدہ چیدہ پوائنٹ ہیں‘۔ اس سوال پر کیا سعودی عرب سے ان کی ’مفاہمت‘ تحریری ہے یا زبانی، میاں نواز شریف نے یہ کہہ کر جواب دینے سے انکار کر دیا کہ وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔’ کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جو بتائی نہیں جا سکتیں۔ میں یہیں تک ہی آپ کو بتا سکتا ہوں‘۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ جیل میں تھے تو انہیں حکومت پاکستان سے جاری بات چیت کا قطعاً کوئی علم نہیں تھا۔’اللہ بھلا کرے شاہ عبداللہ اور شاہ فہد کا جو میرے بارے میں سوچتے رہے‘۔ نواز شریف نے کہا مجھے بعد میں اس بات کا علم ہوا کہ شاہ عبداللہ نے جنرل مشرف سے اقوام متحدہ میں ملاقات کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ نواز شریف کو جیل میں رکھنے کی بجائے سعودی عرب بھیج دیں۔ نواز شریف نے کہا:’شاہ عبداللہ کے میرے اور میرے خاندان پر بہت احسانات ہیں‘۔ نواز شریف نے کہا کہ جب پہلی دفعہ شاہ عبداللہ نے ان کو سعودی عرب بھیجنے کے لیے جنرل مشرف سے رابطہ کیا تو انہوں نے (مشرف) کہا کہ مقدمے کا فیصلہ ہو لینے دیں۔’شاید ان کا خیال تھا کہ عدالت مجھے پھانسی کی سزا دے گی لیکن جب ایسا نہ ہوا تو پھر انہوں نے سعودی حکومت سے بات کی۔‘ نواز شریف نے کہا کہ شاہ عبد اللہ کے نمائندے نے انہیں جیل میں بتایا کہ میرے والدین ملک سے چلے جانے پر آمادہ ہیں۔ ’تو پھر میں نے کہا اگر میرے والدین مان گئے ہیں تو میری کوئی بات ہی نہیں رہتی ہے‘ پاکستان میں راہِ جمہوریت کے لیے جہدوجہد کرنے کے بارے میں میاں نواز شریف نےکہا
گارگل پر فوجی کشی کے بارے میں میاں نواز شریف نے کہا کہ اس مہم جوئی کا پتہ صرف جنرل مشرف، جنرل عزیز، جنرل محمود اور ایریا ڈیو کمانڈر کو تھا۔ انہوں نے کہ گارگل کے واقعے کے باوجود وہ پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے سے برطرف کرنے کا کوئی پروگرام نہیں رکھتے تھے بلکہ انہوں نے کارگل کا الزام اپنے سر لے کر فوج کی عزت بچائی۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کوئٹہ کے کور کمانڈر طارق پرویز کو نکالے جانے کے بارے چھپنے والی خبروں کے بعد کیا گیا تھا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ انہوں جنرل طارق پرویز کو جنرل پرویز مشرف کے کہنے پر نکالا تھا لیکن خبروں میں یہ تاثر دیا گیا کہ جنرل پرویز مشرف نے طارق پرویز کو نواز شریف سے ملاقات کی پاداشت میں فوج سے نکال دیا ہے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کو ان خبروں کی تردید کرنے کے لیے کہا لیکن انہوں نے جب ایسا نہ کیا تو ان کو نکالنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ جنرل مشرف کو دوران سفر برطرف کرنے کی وجہ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ایسا اس خطرے کے پیش نظر کیا کہ جنرل مشرف ان کے احکامات کی خلاف ورزی نہ کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جنرل عثمانی سے کہا تھا کہ جنرل مشرف کو ان کی برطرفی کی اطلاع دے کر ایئرپورٹ سے عزت کے ساتھ لے آئیں لیکن اس دوران جنرل محمود اور جنرل عزیز نے ’ٹیک اوور‘ کر لیا۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل محمد، جنرل احسان اور جنرل اورکزئی نے ان سے اسمبلی توڑنے کے مشورے اور بطور وزیر اعظم استعفے پر دستخط کے لیے دباؤ ڈالا اور انکار کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ پاکستان کے سیاسی حالات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ قوم آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے حساب ضرور لے گی۔
سعودی عرب میں قیام کے دوران اپنے مشاغل کے بارے میں نواز شریف نے کہا کہ جسمانی ورزش کرنے کے علاوہ انہوں نے اپنی سوانح عمری پر بھی کام کیا ہے اور اپنی یاداشتیں اکٹھی ہیں۔ میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ وہ ابھی یقین کے ساتھ کے نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس سوانح عمری کو شائع کر پائیں گے یا نہیں۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ جلا وطنی میں ماضی حالات پر غور کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ذلت کی زندگی سے موت اچھی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر یہ شعر پڑھا: نواز شریف اپنی کیفیت کا اظہار یہ شعر پڑھ کر کیا۔ دل بغض و حسد سے رنجور نہ کر نواز شریف نے جنرل مشرف کی طرف سے ناشکری کے طعنے پر کہا کہ ان کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ جنرل پرویز مشرف کا کس بات کا شکریہ ادا کریں انہوں نے کہا کہ پاکستانی پاسپورٹ کا حصول ان کا بنیادی حق ہے جس سے انہیں معروم نہیں کیا جاسکتا۔ | اسی بارے میں ’بینظیر، نواز کو واپس آنے دیں‘28 November, 2005 | پاکستان ’سب بندر بانٹ کا مسئلہ ہے‘11 November, 2005 | پاکستان شریف خاندان کو پاسپورٹ مل گئے07 November, 2005 | پاکستان انسانی ہمدردی یا کچھ اور03 November, 2005 | پاکستان نواز شریف: پاسپورٹ کی اجازت02 November, 2005 | پاکستان ’نوازشریف 2010 تک نہیں آ سکتے‘05 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||