’بینظیر، نواز کو واپس آنے دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیگٹو کمیٹی اور وفاقی کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کو باعزت ملک واپس لوٹنے کی اجازت دی جائے۔ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل جن کا مشترکہ اجلاس اتوار کے روز لندن میں ہوا میں پاس کی جانے والی قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ پارٹی کی سربراہ محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف قائم کیے گئے تمام مقدمات واپس لیے جائیں اور ان کی ملک میں ’باعزت‘ واپسی کے تمام راستے کھولے جائیں۔ بیظیر بھٹو نے اجلاس کو بتایا کہ وہ نہ صرف ملک واپس آئیں گی بلکہ اگلے انتخابات میں حصہ بھی لیں گیں۔ بینظیر بھٹو نے البتہ اپنی پاکستان واپسی کا تعین نہیں کیا۔ بینظیر بھٹو نے اجلاس میں بتایا کہ وہ حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کریں گی اور اپنے خلاف ملک کے اندر اور ملک سے باہر قائم کیے گئے تمام ’جھوٹے‘ مقدموں کا سامنا کریں گی۔ بنیظیر بھٹو نے کہا کہ وہ حکمرانوں کی بلیک میل میں نہیں آئیں گی۔ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیگٹو کمیٹی اور وفاقی کونسل نے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی انتقام کی پالیسی کو ختم کرے اور تمام سیاسی رہنماؤں کو ملک واپس آنے دیا جائے۔ اجلاس میں نیب کو سیاسی مخالفوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کرنے پر حکومت کی مذمت کی گئی اور کہا جو لوگ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے سے انکار کر دیتے ہیں نیب ان کے خلاف مقدمے درج کر لیتا ہے جبکہ ایسے تمام لوگوں جو حکومت کے ساتھ مل جاتے ہیں ان کے خلاف مقدمات کو التو میں ڈال کر وزیر بنا لیا جاتا ہے۔ پی پی سنٹرل ایگزیکٹو نے کہا یوسف رضا گیلانی، اور مخدوم جاوید ہاشمی موجودہ فوجی حکومت کی انتقامی پالیسیوں کی واضح مثالیں ہیں۔پی پی سنٹرل ایگزیکٹو نے مطالبہ کیا کہ بسم اللہ کاکڑ میت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کر دے۔ اجلاس میں موجود اراکین نے پارٹی کی سربراہ پر زور دیا کہ وہ وطن واپس آئیں تاہم کچھ اراکین کا خیال تھا کہ انہیں آئندہ برس مارچ میں پاکستان آ جانا چاہیے جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کو عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد پاکستان آنا چاہیے۔ بیظیر بھٹو نے اجلاس میں اپنی پاکستان واپسی کی کسی واضح تاریخ کا اعلان نہیں کیا اور ان کا کہنا تھا کہ ’میں عوام کو جلد خوشخبری دوں گی‘۔ کانفرنس میں پاس ہونے والی قرار دادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ پارٹی کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف قائم کیے تمام مقدمے واپس لیے جائیں اور ان کے ملک میں باعزت واپسی کے تمام راستے کھولے جائیں۔ بیظیر بھٹو نے کہا کہ وہ حکمرانوں کی بلیک میل میں نہیں آئیں گی۔ پی پی سنٹرل ایگزیکٹو نے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی انتقام کی پالیسی کو ختم کرے اور تمام سیاسی رہنماؤں کو ملک واپس آنے دیا جائے اور نیب کو سیاسی مخالفوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ پی پی سنٹرل ایگزیکٹو نے کہا یوسف رضا گیلانی، اور مخدوم جاوید ہاشمی فوجی کو قید کی سزا موجودہ فوجی حکومت کی سیاسی مخالفوں کو انتقامی پالیسیوں کا نشانہ بنانے کی واضح مثالیں ہیں۔ | اسی بارے میں مصالحت کی کشتی میں ہلچل21 December, 2004 | پاکستان بے نظیر مشرف ڈیل، حقیقت کیا؟06 March, 2005 | پاکستان ’پیپلز پارٹی بھٹک گئی ہے‘ قاضی19 April, 2005 | پاکستان فوج سے بات چل رہی ہے: امین فہیم 23 April, 2005 | پاکستان بالا بالا ڈیل نہیں کرینگے: فہیم 28 April, 2005 | پاکستان جرنیل راج کا آخری سال ہے: زرداری01 May, 2005 | پاکستان سندھ میں پیپلز پارٹی کی شکست06 October, 2005 | پاکستان ’زلزلے کے بعد رد عمل سُست تھا‘27 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||