BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 November, 2005, 13:37 GMT 18:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’زلزلے کے بعد رد عمل سُست تھا‘
بینظیر بھٹو
’بر وقت رد عمل سے جانی نقصان کم ہو سکتا تھا‘
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ اور ملک کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد فوج اور انتظامیہ کا رد عمل انتہائی سست تھا۔

انہوں نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ صدر مشرف کو فوج اور انتظامیہ کو متحرک کرنے اور لوگوں تک پہنچنے میں تین روز لگ گئے جبکہ اس کے مقابلے میں برطانیہ کی ٹیم چوبیس گھنٹے کے اندر پاکستان پہنچ چکی تھی۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ ان کے خیال میں بہت سے لوگوں کی جانیں حکومت کی طرف سے تاخیر کی وجہ سے ضائع ہوئیں۔

پاکستان کی سابق وزیر اعظم نے جو جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں کہا کہ فوجی حکومتیں قدرتی آفات سے نمٹنے میں کم موثرہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج کی تربیت سرحدوں کی حفاظت کے لیے کی جاتی ہے انہیں نظام حکومت چلانے کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومتوں پر ووٹروں کا دباؤ ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے بینظیر بھٹو کے حوالے سے کہا کہ صدر مشرف کی حکومت نے بھارت کی امداد بھی قبول نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگ مر رہے ہوں اس وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون مدد کر رہا ہے بلکہ ایسی صورتحال میں مدد قبول کر لی جاتی ہے۔

ایل او سی کھولے جانے کے بارے میں بینظیر بھٹو نے کہا یہ بہت دیر سے ہوا۔ انہوں نے کہا یہ لوگوں کو قریب لانے کا اچھا موقع تھا لیکن اس کا فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔

اسی بارے میں
فوج نے تاخیر کی: اے آر ڈی
31 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد