BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 October, 2005, 10:29 GMT 15:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’زلزلے کی وارننگ چار سال سے تھی‘
 بینظیر بھٹو
سابق وزیر اعظم کے مطابق فوجی حکومت نے زلزلوں کی وارننگ پر کوئی دھیان نہیں دیا۔
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹونے کہا ہے کہ ہولناک زلزلے کی چار سال پہلے وارننگ دی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اس میں چالیس ہزار لوگ ہلاک اور ایک لاکھ کے قریب زخمی ہو سکتے ہیں۔

بینظیر بھٹو بی بی سی نیوز کو بتایا کہ کہ اگر فوجی حکومت نے اخباروں میں چھپنے والی اس خبر پر دھیان دیا ہوتا تو اس پیمانے پر تباہی نہ ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں جمہوریت ہوتی تو لوگوں کی حالات زار یہ نہ ہوتی کیونکہ جمہوری لوگوں نے پھر عوام کے پاس جانا ہوتا ہے۔

بینظیر بھٹو نے کہا ہے اس وقت ملکوں اور لوگوں کو مل کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لینا چاہیے اور ان لوگوں کو مدد کریں جن کو اس کی سخت ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا دنیا اور خاص طور پر برطانیہ کی حکومت نے پاکستان کے زلزلہ زدگان کے لیے بہت مدد کی ہے اور ان حالات میں ہماری پہلی اولیت زخمیوں کا علاج ہونا چاہیے ۔

انہوں کہا کہ کہاں کہاں غلطیاں ہوئی ہیں اور کیسے ان سے بچا جا سکتا تو یہ باتیں بعد میں کی جانی چاہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد