’زلزلے کی وارننگ چار سال سے تھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹونے کہا ہے کہ ہولناک زلزلے کی چار سال پہلے وارننگ دی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اس میں چالیس ہزار لوگ ہلاک اور ایک لاکھ کے قریب زخمی ہو سکتے ہیں۔ بینظیر بھٹو بی بی سی نیوز کو بتایا کہ کہ اگر فوجی حکومت نے اخباروں میں چھپنے والی اس خبر پر دھیان دیا ہوتا تو اس پیمانے پر تباہی نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں جمہوریت ہوتی تو لوگوں کی حالات زار یہ نہ ہوتی کیونکہ جمہوری لوگوں نے پھر عوام کے پاس جانا ہوتا ہے۔ بینظیر بھٹو نے کہا ہے اس وقت ملکوں اور لوگوں کو مل کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لینا چاہیے اور ان لوگوں کو مدد کریں جن کو اس کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا دنیا اور خاص طور پر برطانیہ کی حکومت نے پاکستان کے زلزلہ زدگان کے لیے بہت مدد کی ہے اور ان حالات میں ہماری پہلی اولیت زخمیوں کا علاج ہونا چاہیے ۔ انہوں کہا کہ کہاں کہاں غلطیاں ہوئی ہیں اور کیسے ان سے بچا جا سکتا تو یہ باتیں بعد میں کی جانی چاہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||