سوئس عدالت: بینظیر کا بیان قلمبند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے پیر کو سوِئٹزرلینڈ میں اپنے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کے کیس میں تحقیقاتی مجسٹریٹ کی عدالت اپنا بیان قلمبند کرایا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق سوئٹرز لینڈ سے موصول ہونے والی آخری اطلاعات کے مطابق بینظیر بھٹو اور ان کے وکیل مجسٹریٹ کی عدالت میں موجود تھے۔ سوئٹرز لینڈ میں پیشی سے قبل بینظیر بھٹو کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بی بی سی کو بتایا کہ بینظیر بھٹو اپنے وکیل فاروق نائیک کے ہمراہ سوئس میجسٹریٹ کے سامنے اپنے خلاف حکومت پاکستان کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا دفاع کریں گی۔ سابق وزیر اعظم کے شوہر آصف زرداری ان کے ہمراہ سوئٹزر لینڈ نہیں گئے ہیں۔ اس سے قبل اگست سن دو ہزار تین میں سوٹزرلینڈ میں ایک تحقیقاتی مجسٹریٹ نے سابق وزیر اعظم اور ان کے شوہر کے خلاف کالے دھن کو سفید کرنے کا الزام لگاتے ہوئے چھ ماہ کی معطل سزا اور پچاس ہزار ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔تاہم یہ فیصلہ بعد میں اس وقت معطل کر دیا گیا تھاجب بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر نے سوئٹزرلینڈ کے اٹارنی جنرل کے پاس اپیل کی تھی جس پر اٹارنی جنرل نے ان تحقیقات کو از سر نو کروانے حکم دیا تھا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں پاکستان کی حکومت نے سوئس حکومت سے بینظیر بھٹو کے خلاف حکومتی معاہدوں میں کمیشن کھانے اور اس رقم کو سوئس بینکوں میں بے نامی اکاؤنٹس میں رکھنے کے بارے میں تحقیقات کی درخواست کی تھی۔ پاکستانی حکام کے مطابق تفتیش کے دوران سوئس حکام کو سات ایسے بینک کھاتے ملے تھے جن میں تقریباً تیرہ ملین ڈالر کی رقم جمع کرائی گئی تھی اور جن تک بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری کی پہنچ تھی۔ ان اکاؤنٹس کے نام نہیں ہوتے صرف نمبر ہوتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||