جرنیل راج کا آخری سال ہے: زرداری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلزپارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں جرنیلوں کی حکومت کا یہ آخری سال ہے اور عام انتخابات اسی سال ہوں گے۔ آصف زرداری اس سے پہلے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کی بات کرتے رہے ہیں۔ زرداری یومِ مئی پر مزدوروں کے لیے پیپلزپارٹی کے لیبر بیورو کی جانب سے نکالی جانے والی ایک ریلی سے لکشمی چوک میں خطاب کر رہے تھے۔ یہ جلوس ریلوے اسٹیشن سے شروع ہو کر لکشمی چوک پر ختم ہوا جس میں تقریباً ایک ہزار افراد شریک تھے۔ آصف زرداری نے کہا کہ کوئی کسی کو ملک آنے سے نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لاہور آ چکے ہیں اور بے نظیر بھٹو بھی جلد پنجاب کی دھرتی پر آنے والی ہیں اور پارٹی ان کا استقبال کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سنہ دو ہزار پانچ عام انتخابات کا سال ہے اور پیپلزپارٹی کے اقتدار میں آنے کا سال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی بے نظیر بھٹو کو اسلام آباد پہنچائے گی اور انہیں تیسری بار وزیراعظم بنائے گی۔ آصف زرداری نے کہا کہ وہ مزدوروں کو دعوت دیتے ہیں کہ جس طرح پیپلز پارٹی ان کی جدوجہد میں شامل ہے وہ بھی پارٹی کی جدوجہد میں شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو علم نہیں کہ روٹی، کپڑا اور اناج کیا بھاؤ ہے، فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں اور مزدوروں کے چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں جبکہ حکمران ایوانوں میں چین کی نیند سو رہے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ پیپلزپارٹی ہر وہ قانون اور شق ختم کر دے گی جو مزدوروں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی حکومت میں آ کر روٹی، کپڑا اور مکان کا اپنا وعدہ پورا کرے گی۔ آصف زرداری نے مزید کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے اور ان کی جماعت اقتدار میں آ کر مزدوروں کی امنگیں اور خواب پورے کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا منشور ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور پیپلز پارٹی اپنے منشور پر عمل کرے گی۔ آصف زرداری ریلی کے اختتامی مقام سے قریب گلستان سینما کے چوک پر مزدوروں کے لیے نکالے جانے والی اس ریلی میں شامل ہوئے۔ سولہ اپریل کو دبئی سے لاہور آمد کے بعد زرداری کا یہ کسی ریلی سے پہلا خطاب تھا۔ لاہور آمد کے موقع پر صوبائی حکومت نے انہیں جلوس کی صورت میں ایئر پورٹ سے داتا دربار جانے کی اجازت نہیں دی تھی اور پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کر کے انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت ان پر مقدمات دائر کردیے گئے تھے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے ترجمان کے مطابق پارٹی کے چھ سے زیادہ کارکن اب بھی جیلوں میں ہیں جن کا تعلق سندھ سے ہے۔ گزشتہ روز پیپلزپارٹی پنجاب کی سینٹرل کونسل نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ آئندہ مقامی حکومت کے انتخابات میں اپنے طور سے حصہ لے گی کیونکہ اتحاد برائے بحالی جمہوریت کوئی انتخابی اتحاد نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||