BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 October, 2006, 10:55 GMT 15:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تعمیرِ نو کے لیئے تین برس: مشرف

صدارتی امدادی فنڈ میں بارہ ارب روپے کی رقم جمع کرائی جا چکی ہے: صدر
صدر جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیرِ نو کا اسّی فیصد کام آئندہ تین برس کے عرصے میں مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بات بحالی اور تعمیرِ نو کے قومی ادارے ’ایرا‘ کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر کہی۔’ایرا‘ کو گزشتہ برس آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں تعمیرِ نو اور بحالی کے کام کے لیئے قائم کیا گیا تھا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے ایرا کو ہدایت دی جا چکی ہے کہ دسمبر دو ہزار آٹھ تک تمام متاثرین کو مستقل رہائش فراہم کر دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ’ ابھی ہمارا کام ختم نہیں ہوا اور میں امدادی اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور اس کام میں حکومت کا ساتھ دیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس تقریب کے انعقاد کا مقصد مشکل وقت میں پاکستان کو امداد دینے والے ممالک اور اداروں کو یہ بتانا ہے کہ ان کی دی گئی امداد رائیگاں نہیں گئی۔

صدر مشرف نے اقوامِ متحدہ، عالمی امدادی ادراوں، غیرملکی و ملکی این جی اوز اور پاکستان کے دوست ممالک کی امداد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اتنی بڑی قدرتی آفت سے نمٹنا اور متاثرہ لوگوں کو فوری امداد کی فراہمی ان کے تعاون کے بنا ممکن ہی نہیں تھی۔

صدر نے بتایا کہ اب تک متاثرینِ زلزلہ کے صدارتی امدادی فنڈ میں بارہ ارب روپے کی رقم جمع کرائی جا چکی ہے۔

جنرل مشرف نے امدادی اداروں سے مزید امداد کی اپیل بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اب جب کہ یہ اعداد و شمار سامنے آئےہیں کہ تعمیرِ نو کے کام کے لیئے تین اعشاریہ چھ بلین ڈالر کافی نہیں اور اس سلسلے میں مزید آٹھ سو ملین ڈالر درکار ہیں تو میں انہی اداروں سے امداد کی دوبارہ اپیل کرتا ہوں۔‘

ہم زلزلے میں ہلاک ہونے والے تہتر ہزار افراد کو تو واپس نہیں لا سکتے لیکن ان افراد کے لواحقین اور دیگر متاثرین سے میرا وعدہ ہے کہ ہم انہیں ایک بہتر معیارِ زندگی فراہم کر کے رہیں گے
صدر مشرف

صدر مشرف نے میڈیا میں شائع ہونے والی ان خبروں کی بھی تردید کی جن میں کہا گیا ہے کہ اس برس بھی اٹھارہ لاکھ افراد سردی کا سامنا خیموں یا عارضی
پناہ گاہوں میں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن عارضی پناہ گاہوں کی بات کی جاری ہے وہ متاثرہ علاقوں میں زلزلے سے قبل موجود رہائشی سہولیات سے بہتر ہیں۔

جنرل مشرف نے کہا کہ تنقید کرنے والوں کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیئے کہ جس پیمانے پر یہ آفت آئی اس سے ایک برس کے عرصے میں مکمل طور پر نمٹنا ناممکن تھا۔

انہوں نے کہا کہ زلزلے کے بعد علاقے میں قحط اور بیماریوں کے پھیلاؤ سے متعلق منفی پیشین گوئیاں کی گئیں لیکن دنیا نے دیکھا کہ متاثرہ علاقوں میں نہ ہی کوئی شخص بھوک سے مرا اور نہ سردی سے اور اس کے علاوہ بر وقت کارروائیوں کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں کسی قسم کی کوئی وبا بھی نہیں پھیلی۔

انہوں نے کہا کہ ’ ہم زلزلے میں ہلاک ہونے والے تہتر ہزار افراد کو تو واپس نہیں لا سکتے لیکن ان افراد کے لواحقین اور دیگر متاثرین سے میرا وعدہ ہے کہ ہم انہیں ایک بہتر معیارِ زندگی فراہم کر کے رہیں گے۔‘

صدر نے کہا کہ ملک میں ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیئے ایک ادارے کی تشکیل پر کام ہو رہا ہے اور اسے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کا نام دیا جائے گا۔

اس سے قبل ایرا کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے ادارے کے ڈپٹی
چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد نے بتایا کہ زلزلے سے تیس ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ متاثر ہوا جبکہ پینتیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔

صرف پینتیس ہزار افراد خیموں میں رہائش پذیر ہیں: ایرا چیف

ان کا کہنا تھا کہ اس آفت سے چھ لاکھ گھر اور چھ ہزار چار سو کلومیٹر طویل سڑکیں مکمل تباہ ہو گئی تھیں جبکہ بجلی اور مواصلات کا ساٹھ فیصد نظام تباہ ہو گیا تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد کا کہنا تھا کہ اب جب کہ اس زلزلے کو ایک سال ہونے کو ہے تو متاثرہ افراد میں سے نوے فیصد کو کیمپوں سے عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا جا چکا ہے اور اب صرف پینتیس ہزار افراد خیموں میں رہائش پذیر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں تعلیم اور صحت کی تمام سہولیات بحال ہو چکی ہیں اور متاثرین میں سے تیس فیصد اپنے مستقل گھروں کی تعمیر میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مظفر آباد ، باغ، راولاکوٹ کی تعمیر و ترقی اور بالاکوٹ کو بکریال کے مقام پر دوبارہ بسانے کے لیئے ماسٹر پلان پر بھی کام ہو رہا ہے۔

اس تقریب میں متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد، غیر ملکی اداروں اور این جی اوز کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور تقریب کے دوران ایرا کی کارکردگی کے حوالے سے جاری کیے جانے والے ڈاک ٹکٹ کی رونمائی بھی کی گئی۔

متاثرینزلزلہ:ایک ماہ مکمل
امدادی سرگرمیوں کی رفتار تسلی بخش نہیں
متاثرین، نئی مصیبت
تعمیِر نو میں تاخیر سے ملازمتوں میں کمی
زلزلہ متاثرین کے خیمےمتاثرین کی پریشانی
پرانےخیمے نئی سردی، کیا مقابلہ ممکن ہے؟
متاثرینایک فراموش وادی
وادی لیپہ سب کی نظروں سے اوجھل کیوں؟
اسی بارے میں
اس بار بھی سردیاں خمیوں میں
05 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد