زلزلے کی کچھ امداد شدت پسندوں تک؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کی ایک تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ اکتوبر 2005 میں پاکستان میں آنے والے زلزلے کے متاثرین کے لیئے اقوام متحدہ کی جانب سے دی جانے والی کچھ امداد، امدادی اداروں کے ذریعے شدت پسند جہادی گروپوں تک بھی پہنچی ہے۔ زلزلے میں 79000 افراد ہلاک جبکہ 11000 بچے یتیم ہوگئے تھے جبکہ تقریباً بیس لاکھ افراد بے گھر ہوگئے۔ بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ امدادی تنظیموں میں سے ایک، جس کا تعلق شدت پسندوں سے ہے، اب یتیم ہونے والوں بچوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ پاکستان میں تباہ کن زلزلے کے بعد کے دنوں میں حکومتِ پاکستان نے وعدہ کیا تھا کہ ایسے بے سہارا ہونے والوں تمام بچوں کی نگرانی حکومت خود کرے گی۔ اکتوبر کے زلزلے سے جس پیمانے پر تباہی ہوئی تھی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بے گھر ہونے والوں کی بڑی تعداد دوسرے علاقوں میں منتقل ہونا شروع ہوگئی۔ بے شمار ملکی و غیر ملکی، سرکاری و غیر سرکاری امدادی ادارے متاثرین کی امداد کے لیئے حرکت میں آگئے۔ اس موقع پرشدت پسندوں سے منسلک کئی امدادی تنظیمیں بھی سرگرم ہوگئیں۔
تاہم اقوام متحدہ نے امداد متاثرہ علاقوں کے ریلیف کیمپس تک پہنچائی جن میں سے کچھ الرشید ٹرسٹ کے تھے۔ اقوام متحدہ کے اداروں نے جماعت الدعوۃ کے ساتھ مل کر بھی کام کیا ہے۔ یہ تنظیم بھی امریکی دعوے کے مطابق کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے منسلک ہے۔ تاہم تنظیم اس الزام کی تردید کرتی ہے۔ جماعت الدعوۃ کے شائع کیئے جانے والے لٹریچر میں جہاد کی تعریفیں اور غیر مسلموں کے خلاف حملوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے رابطہ کار ژاں وینڈے مورٹیل کا کہنا ہے انہوں نے ان تنظیموں کے ساتھ مل کر کام نہیں کیا بلکہ ان کیمپوں تک امداد پہنچائی ہے جو ان تنظیموں کے تھے۔ ’ہمارا ان کے ساتھ براہ راست رابطہ نہیں تھا‘۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس وقت صورتحال موت و زندگی کے درمیان کشمکش کی تھی لیکن ان علاقوں میں اس آفت سے پہلے جماعت الدعوۃ اور الرشید ٹرسٹ زیادہ سرگرم نہیں تھیں۔ تاہم امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر کام لینے سے علاقے میں ان کی پوزیشن کافی مستحکم ہوگئی ہے۔ جماعت الدعوۃ کے ایک رہنما نے بتایا کہ لوگ ان پر اعتبار کررہے ہیں اور کئی یتیم بچوں کو ان کے زیر نگرانی بھی دے دیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے تقریباً 400 بچے اب ان کے مدارس میں زیر تعلیم ہیں۔
مغربی ممالک مدارس کو زیادہ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ تاہم ملک کے بیشتر مدارس متنازعہ نہیں ہیں۔ جماعت الدعوۃ کے ایک رہنما کا بھی یہی کہنا تھا کہ ان کے مدارس میں صرف دینی تعلیم ہی نہیں ہے بلکہ دیگر مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ لیکن مانسہرہ کے ایک مدرسہ میں صبح بچے جو ترانہ پڑھ رہے تھے وہ کئی کے لیئے باعث فکر ہے۔ ترانے کے الفاظ کچھ یوں تھے ’جب لوگ ہمارے دین کو جھٹلائیں تو انہیں اسلام کی دعوت دو اور اگر وہ اسلام نہ قبول کریں تو انہیں تباہ کردو‘۔ تاہم جماعت الدعوۃ کے ترجمان نے تردید کی کہ بچوں کو ایسے کسی کام کی ترغیب دی جارہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امدادی کاموں کے سلسلے میں یہاں بہت سے غیر مسلم آئے، کسی پر بھی اعتراض نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم عسکریت پسند نہیں ہے اور نہ ہی اس کے لشکر طیبہ سے تعلقات ہیں۔ تاہم ایک امریکی ماہر لیرح رابنسن کا کہنا ہے کہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہے۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد شدت پسندوں کو فنڈز فراہم کرنے والی تنظیموں میں الرشید ٹرسٹ بھی شامل تھا۔ اس پر سرکاری پابندی کے باوجود بھی یہ سرگرم رہی اور اب یہ پاکستان کے بڑے امدادی اداروں میں سے ایک ہے۔ زلزلے کے بعد حکومت پاکستان نے الرشید ٹرسٹ اور جماعت الدعوۃ کے کاموں کی تعریف کی تھی۔ وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کا کہنا ہے کہ حکومت جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی کیونکہ اس پر اقوام متحدہ نے پابندی نہیں لگائی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ادارے امداد سے آگے کوئی قدم اٹھانے کی کوشش کریں گے تو حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔ |
اسی بارے میں خصوصی ویڈیو: زلزلہ، جن کی تلاش جاری ہے08 April, 2006 | پاکستان ’زلزلےکےبعد چھوٹی تباہی کاخطرہ‘16 March, 2006 | پاکستان بالاکوٹ میں بےیقینی 07 June, 2006 | پاکستان ابتدائی امداد کے 30 ہزارچیک باؤنس22 April, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||