بالاکوٹ میں بےیقینی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالاکوٹ اس وقت سکتے کی حالت میں ہے۔ فالٹ لائن پر ہونے کی وجہ سے وہ انسانی رہائش کے لیئے موزوں نہیں۔ علاقے میں تعمیرِ نو ممکن نہیں۔ اکثر مکین منتشر ہو چکے ہیں۔ کوئی عزیزوں کے پاس تو کوئی کرائے کے مکانات میں دوسرے شہروں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ حکومت ان کے لیئے متبادل علاقے بکریال میں اسلام آباد جیسے یا اس سے بھی بہتر ماڈل شہر بسانے کے اعلانات کر رہی ہے۔ انہیں دس، دس مرلے کے پلاٹ دینے کے وعدے کر رہی ہے، تسلیاں دے رہی ہیں۔ غرض یہ کہ انہیں صبر کی تلقین کی جا رہی ہے کیونکہ خود حکام ابھی نہیں جانتے کہ یہ نیا شہر کب بسے گا، کیسے بسے گا۔ تاہم سب اتنا جانتے ہیں کہ اس میں کئی برسوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ دوسری جانب متبادل جگہ پر تعمیرات میں تاخیر اور غیر واضح سرکاری اعلانات کی وجہ سے بالاکوٹ کے متاثرین تشویش کا شکار ہیں۔ یہ حکومتی اعلانات بالاکوٹ کے متاثرینِ آٹھ اکتوبر کے خوف و خدشات کو دور کرنے میں کچھ زیادہ معاون ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سر پر چھت کے بندوبست میں ہر دن کی تاخیر سے ان متاثرینِ کی تشویش میں کئی گنا اضافہ ہو رہا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ ان کے لیئے مختص پیسے کہیں اور خرچ نہ ہوجائیں۔ انہیں خوف ہے کہ حکومتی اداروں کی آپس میں رابطے کی کمی کی قیمت انہیں نہ ادا کرنی پڑ جائے۔ انہیں دیگر متاثرین کی طرح مکان کی تعمیر کی امدادی رقم بھی نہیں دی جا رہی کہ وہ خود کوئی بندوبست کرلیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ شہر کی منتقلی اور نیا شہر آباد کرنے جیسے منصوبوں کی بیل شاید کبھی منڈیر نہ چڑھ پائے۔ انہیں شک ہے کہ کہیں یہ اعلانات انہیں محض چپ رکھنے کے لیے تو نہیں کیئے جا رہے کیونکہ انہیں اُن کے سوالات کے تسلی بخش جواب نہیں مل پا رہے۔
ان تمام خدشات کی بنیادی وجہ سرکاری بیانات کے برعکس زمین پر کسی پیش رفت کا نہ ہونا ہے۔ حکومت نے ان کے لیے تیس کلومیٹر دور بکریال کے مقام پر نیا شہر آباد کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس مجوزہ مقام کے بارے میں بالاکوٹیوں کے چند تحفظات ہیں۔ بالاکوٹ کے ڈاکٹر رضا کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں جس طرح انہیں بکریال دیا جا رہا ہے وہ ان کے لیئے قابل قبول نہیں۔ ’ہمیں ایک دس مرلے کا پلاٹ مل جائے گا اور اس پر ہمیں کہیں گے کہ آپ ایک لاکھ پچھہتر ہزار روپے میں گھر بنا لیں۔ اتنے پیسوں میں کیسے ماڈل شہر کا مکان تیار ہوگا؟ اس دس مرلے کے پلاٹ کے لیے ہم اپنا سب پیچھے چھوڑ دیں‘۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں بالاکوٹ کے اردگرد جو محفوظ علاقے قرار دیے گئے ہیں وہاں جگہ دی جائے۔ انہیں اس بات کی بھی فکر ہے کہ سرکاری اسٹیبلشمنٹ کہاں جائے گی۔ ’ہسپتال، تھانہ اور عدالتوں کا کیا ہوگا؟ اگر یہ بھی نئے مقام پر منتقل ہوں گے تو پیچھے رہ جانے والی آبادی کیا کرے گی؟‘ حکومت کی جانب سے بالاکوٹ کو آبادی کے لیئے خطرناک قرار دینے کا اعلان کافی دیر سے آیا۔ اس وقت تک بالاکوٹ کے اکثر تاجروں نے اپنی جمع پونجی خرچ کر کے دوکانیں دوبارہ کھول لی ہیں۔ ان تاجروں کا کیا ہوگا؟ اس بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ عارضی آبادیاں ہیں اور اگر کوئی قائم کرنا چاہتا ہے تو اس کی مرضی۔ لیکن یہ بھی منتقل ہوں گی۔ ڈاکٹر رضا کا کہنا ہے کہ ابھی تک زمین پر ’ریڈ زون‘ کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔ لہذا بڑی تعداد میں بالاکوٹی اب بھی مخمصے کا شکار ہیں۔ تاہم انہیں سب سے بڑی زیادتی یہ محسوس ہوتی ہے کہ ان کے لیئے دی جانے والی امداد دیگر علاقوں کی ترقی پر خرچ کی جا رہی ہے۔ ’ہماری قیمت پر دیگر علاقوں کی ترقی ہمیں ہرگز قبول نہیں۔‘ اس ساری کہانی میں عام بالاکوٹی کو حکومت سے کسی معاملے پر مشاورت نہ کرنے کی بھی شکایت ہے۔ بالاکوٹ کے تاجر منور احمد خان کہتے ہیں’وزیرِاعلی سرحد سے ملے تو انہوں نے بکریال میں دس ہزار مکانات تعمیر کرکے دینے کی بات کی۔ چند دن پہلے ڈپٹی چیرمین ’ایرا‘ جنرل ندیم نے اخباری کانفرنس میں اگر اسلام آباد نہیں تو منی اسلام آباد ضرور بنا کر دینے کا وعدہ کیا۔ اب ایک ہفتہ قبل بالاکوٹ میں انہوں نے کہا کہ وہ پلاٹ دیں گے اور سیکنڈ سروے کی رقم سے آپ وہاں اپنے لیئے منی اسلام آباد بنائیں گے۔ یہ سب اعلان ہو رہے ہیں لیکن ہمارے ساتھ مشاورت نہیں کی جا رہی ہے۔‘ منور خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ جس کا دس مرلے کا مکان تباہ ہوا ہے اسے دس مرلے دیں، جس کا پانچ مرلے کا اسے اسی تناسب سے دیں لیکن ہم اب تذبذب کا شکار ہیں اور ہمیں ہمارا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔‘ ان کا ماننا ہے کہ دنیا نے ان کے لیے اتنی امداد دی ہے کہ اس کی انتہا نہیں اور سب کام چھوڑ کر حکومت کو پہلے ان کے لیے سر چھپانے کا بندوبست کرنا چاہیے تھا۔ انہیں یہ شکوہ بھی تھا کہ انہیں کوئی مقررہ تاریخ نہیں دیتا کہ وہ کب پہلا مکان تعمیر کریں گے۔ بالاکوٹ کے عبدالروف اس پریشانی کا شکار ہیں کہ اصل حکومت کون سی ہے، اختیار کس کے پاس ہے: ’ہمیں نہیں معلوم کہ پالیسی کس کے پاس ہے اور کس کے پاس اتھارٹی ہے۔ وزیراعلی اتھارٹی ہے، وزیراعظم ہے، صدر ہے، چیئرمین ایرا یا ڈپٹی چیئرمین؟ اس سے ابہام پیدا ہو رہا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ بالاکوٹ کے لوگ اتنے نا امید ہوچکے ہیں کہ بہت جلد یہاں ایک بڑا احتجاج ہوگا اور ہم اسلام آباد تک مارچ بھی کر سکتے ہیں۔ ’کچھ بڑوں نے ہمیں روکا ہوا ہے لیکن آخر کب تک۔‘ بالاکوٹ کے متاثرین کی پریشانیاں سمیٹ کر میں پہنچا ضلع مانسہرہ کے ناظم سردار محمد یوسف کے پاس ان کے دفتر۔ تاہم وہ بھی کوئی تاریخ یا وقت کا تعین نہیں کر سکے کہ کب تک بکریال ماڈل بالاکوٹ میں تبدیل ہوگا۔ ’کوئی بھی کام کرنا پڑتا ہے تو اس میں وقت ضرور لگتا ہے۔ یہ راتوں رات نہیں ہوسکتا۔ اس میں مہینے بھی لگ سکتے ہیں سال بھی لگ سکتے ہیں۔ اس وقت جو مرحلہ گزر رہا ہے وہ منصوبہ بندی کا ہے۔ ہمارے خیال میں آئندہ پچاس سال کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر منصوبہ بندی کی جائے۔ اس وقت سروے کیے جا رہے ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ زمین پر کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تاہم منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ ’میں اس وقت کچھ نہیں کہہ سکتا ہے پہلا مکان کب بنے گا۔‘ حکومت کی طرف سے دو ٹوک بات، متاثرین سے مسلسل مشاورت اور منتقلی کے عمل کے جلد آغاز سے ہی بالاکوٹ اور بکریال کے لوگوں کے خدشات ختم کیے جاسکتے ہیں۔ | اسی بارے میں بالاکوٹ سے بکریال06 June, 2006 | پاکستان زلزلہ: بچھڑنے والے افراد کی تلاش08 June, 2006 | پاکستان زلزلہ زدہ علاقوں کے لیے صوبائی منصوبہ07 June, 2006 | پاکستان کیوبا کے ڈاکٹروں کی واپسی24 May, 2006 | پاکستان تعمیر نو میں پانچ سال 23 May, 2006 | پاکستان زلزلہ: اقوام متحدہ کا امدادی پروگرام 17 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||