BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 June, 2006, 03:02 GMT 08:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
‏‏‏‏زلزلہ زدہ علاقوں کے لیے صوبائی منصوبہ

زلزلہ زدگان
اکتوبر میں ہونے والے زلزلے سے ہزاروں لوگ ہلاک اور بے گھر ہو گئے تھے
زلزلہ زدہ علاقوں کے لیے صوبائی بحالی وتعمیر نو اتھارٹی (پیرا)، اقوام متحدہ اور صوبہ سرحد کی حکومت نے ملک کے زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر نو کی فوری بحالی کے لیے ایک سالہ منصوبہ پیش کیا ہے۔

منصوبے کا مقصد ہزاروں متاثرہ لوگوں کو ان کے آبائی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

دو سو چھیانوے ملین امریکی ڈالر کی مالیت کے اس منصوبے کا باقاعدہ اعلان منگل کے روز پشاور میں ایک اعلی سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں زلزلہ زدہ علاقوں کے لیے صوبائی تعمیر نو اتھارٹی، اقوام متحدہ اور صوبائی حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی۔

یہ منصوبہ مئی 2006 سے مئی 2007 تک مکمل کرایا جائے گا۔ منصوبے کےترجیحات میں شہری اور دیہی علاقوں میں متاثرہ لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے

یہ منصوبہ مئی 2006 سے مئی 2007 تک مکمل کرایا جائے گا۔ منصوبے کےترجیحات میں شہری اور دیہی علاقوں میں متاثرہ لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے۔

اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ریزیڈ ینٹ کوراڈنیٹر جان وینڈر مورٹیل نے کہا کہ یہ منصوبہ متاثرہ علاقوں میں مقامی حکومتوں کی ترتیب اور استعداد کاری پر زور دیتا ہے۔

منصوبے کے بارے میں پیرا کے ڈائریکٹر جنرل جمشید الحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس منصوبے میں مختلف پراجیکٹس ہیں جس میں لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں نگے، جن لوگوں کے نقصانات ہوئے ہیں ان کو بحال کرنا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ توقع ہے اس منصوبے پر عمل درامد سے متاثرہ علاقوں کے لوگ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں گے اور ان کو کچھ روزگار کے مواقع ملیں گے۔
جمشید الحسن کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے لیے دس عشاریہ سات ملین ڈالر کی امداد پہلے ہی اقوام متحدہ عالمی امدادی ادروں کے لے چکی ہے جبکہ باقی ماندہ رقم منصوبے کے دوران لی جائیگی۔

اقوام متحدہ نے اس سال متاثرہ علاقوں میں 150 بنیادی صحت کے مراکز اور 32 سے زائد سکول قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منصوبے کے مطابق متاثرین زلزلہ کو زرعی آلات ، مویشی اور بیج فراہم کی جائیں گی جبکہ ان سرگرمیوں میں خواتین کی جانب خصوصی توجہ دی جائیگی۔

اس موقع پر سرحد کے سنئیر وزیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ منصوبے کے لیے تمام تر پیپر ورک مکمل ہوچکا ہے اب اس پر عملی کام شروع ہونا چاہیے۔

منصوبے کے مطابق بحالی کی سرگرمیوں پر عمل درامد صوبائی اور مقامی اتھارٹیز کے ذریعے کیا جائے گا جبکہ منصوبہ بندی اور عمل درامد کے مراحل میں کمیونٹی کی بامقصد شراکت کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

خصوصی ویڈیو: زلزلہ
چھ ماہ بعد: جن کی تلاش جاری ہے
 تعمیرِ نومحلوں والے کیا جانیں
مظفر آباد: تعمیرِ نو میں تاخیر پر لوگ پریشان
تعمیر نونیشنل ایکشن پلان
تین سال میں انفراسٹرکچر کی بحالی کا منصوبہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد