متاثرہ علاقوں کے لیے ’ایکشن پلان‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے پیر کے روز زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے تین سالہ قومی منصوبے یعنی ’نیشنل ایکشن پلان‘ کا اعلان کردیا ہے۔ اس منصوبے کا اعلان زلزلے سے بحالی اور تعمیر نو کے متعلق ادارے کے سربراہ الطاف سلیم اور ڈپٹی چیئرمین میجر جنرل ندیم احمد نے ایک نیوز کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ موسم سرما سے قبل متاثرین اپنے گرے ہوئے مکان بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے جبکہ سرکاری عمارتیں اور انفراسٹرکچر تین سال میں بحال ہوجائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے کیمپوں سے اپنے علاقوں میں رضاکارانہ طور پر واپس جانے والوں کے لیے ایک پیکیج کا اعلان بھی کیا۔ جس کے تحت اکتیس مارچ تک واپس جانے والے کو حکومت ٹرانسپورٹ اور دو ماہ کا راشن مفت دے گی اور ان کے زیراستعمال خیمہ، کمبل اور برتن وغیرہ انہیں ساتھ لے جانے کی اجازت ہوگی۔ الطاف سلیم نے بتایا کہ کشمیر اور صوبہ سرحد میں زلزلے سے متاثرہ فی مکان پچیس ہزار روپے دیے گئے اور چھ لاکھ کے قریب لوگوں نے رقوم لیں۔ ان کے مطابق جو شخص کیمپ سے پہلے اپنے علاقے میں جائے گا انہیں مکان بنانے کے لیے پچہتر ہزار روپوں کی قسط بھی پہلے ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس بار تفصیلی چھان بین کے بعد کشمیر اور صوبہ سرحد کی حکومتیں متاثرہ شخص کو براہ راست ان کے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل کریں گی۔ ان کے مطابق تاحال صوبہ سرحد کے ایک سو فیصد اور کشمیر کے ستر فیصد متاثرہ افراد نے بینک اکاؤنٹ کھولے لیے ہیں۔ اس موقع پر میجر جنرل ندیم احمد نے بتایا کہ مکان بنانے کے لیے متاثرہ افراد کے پاس حکومت کی سروے ٹیمیں جائیں گی اور اندراج کے بعد ان سے ایک معاہدہ کریں گی۔ ہر یونین کونسل کے لیے تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو معاہدے کے بعد رقم جاری کرنے کی سفارش کرے گی۔ ان کے مطابق سروے ٹیمیں رقم ملنے کے بعد متعلقہ شخص کی جانب سے حکومت کے فراہم کردہ راہنما اصول کے مطابق بنیاد ڈالے گا انہیں دوسری قسط ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی بینک سے فراہم کردہ قرض کی رقم سے حکومت نے یتیم، بیواؤں، معذوروں اور ایسے نازک افراد کے لیے واپس جانے کے بعد چھ ماہ تک تین ہزار روپے ماہانہ امددا دے گی۔ ان کے مطابق یہ رقم چھ ہزار روپوں اور ایک سال تک بڑھانے کا حکومت کے پاس اختیار ہوگا۔ اس سکیم کے تحت مستحق افراد کے اندارج کا کام بھی فوج کرے گی۔ میجر جنرل ندیم احمد نے کہا کہ ماضی میں جب پچیس ہزار روپے فی متاثرہ شخص کو پٹواریوں کے ذریعے بانٹی گئی تو اس میں خورد برد کی شکایات سامنے آئیں۔ جس کے بعد ان کے مطابق اس بار فیصلہ کیا گیا کہ فوج نگرانی کا کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں ضلعی مشاورتی کمیٹی بنے گی اور وہ تعمیر و ترقی کا فیصلہ کرے گی۔ ان کے مطابق تباہ شدہ ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں سے ضروری نہیں کہ جہاں جو عمارت گری وہاں ہی نئی عمارت بنے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اور عوام کی سہولت کے مطابق موزون جگہ کا انتخاب ہوگا۔ انہوں نے ’سپانسرشپ‘ کے تحت ہسپتال یا تعلیمی ادارہ تعمیر کرنے کے خواشمند افراد کے لیے وضح کردہ راہنما اصول بتاتے ہوئے کہا کہ جو بھی کوئی ادارہ تعمیر کرے گا وہ اسے ایک سال تک چلانے کے بعد حکومت کے حوالے کرے گا اور ملکیت بھی حکومت کی تصور ہوگی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ متعلقہ شخص سے اس کا نام منسوب کیا جاسکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’تعمیرنوکا تیسرا مرحلہ شروع ہوگا‘17 March, 2006 | پاکستان ’امدادی کیمپ بند نہیں کیئے جا رہے‘10 March, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین کی واپسی شروع 09 March, 2006 | پاکستان زلزلے کےاطلاعاتی مرکز کا اعلان18 March, 2006 | پاکستان مظفرآباد تعمیر کے لیے محفوظ: مشیر18 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||