’امدادی کیمپ بند نہیں کیئے جا رہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد خان نے کہا ہے کہ زلزلہ زدگان کے امدادی کیمپ بند نہیں کیئے جا رہے تاہم لوگوں کو رضاکارانہ طور پر واپس جانے کے لیئے ایک ماہ کا راشن، ایک خیمہ اور دیگر امدادی سامان دیا جائے گا۔ پاکستان میں زلزلے کو آئے اب پانچ ماہ ہونے کو آئے ہیں اور اب ان علاقوں میں امدادی ایجنسیوں کی توجہ امدادی کارروائیوں سے بحالی اور تعمیر نو پر مرکوز ہو چکی ہے۔ ان علاقوں کے سیسمک سروے بھی مکمل ہو چکے ہیں تاہم ابھی تک تعمیر نو کا کام شروع نہیں ہوا ہے۔ زلزلہ زدگان کے مختلف کیمپوں میں ابھی بھی ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ ایسے لوگ موجود ہیں جو زلزلے کے بعد ان کیمپوں میں آ کر بس گئے تھے۔اب وہ گو مگو کے عالم میں ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا۔تاہم آج اسلام آباد میں وفاقی ریلیف کمشنر نے ان کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت زلزلہ زدگان کے کیمپ بند نہیں کرے گی۔ گذشتہ برس آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے سے پینتیس لاکھ افراد بے گھر ہو گئے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں چار لاکھ گھر تعمیر کئے جائیں گے جن کے لئے زلزلہ زدگان کو جلد ہی اسی ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔حکومت ہر گھر کی تعمیر کے لئے پونے دو لاکھ روپے دے گی۔ زلزلہ زدگان میں ابھی تک تقریبا بیس ارب روپے تقسیم کیئے ہیں جن سے انہیں موسم سرما میں سردی اور برفباری سے بچنے کے لئے عارضی پناگاہیں بنا کر دی گئی تھیں۔ وفاقی ریلیف کمشنر نے کہا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں پچاس ہزار سے زائد پاکستانی فوج کے اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جن میں سے چند ہزار فوجی اس ماہ کے آخر میں واپس بلا لئے جائیں گے کیونکہ ان کے مطابق ان علاقوں میں امدادی کاروائیاں تقریبا ختم ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے قائم کردہ میڈیکل کیمپوں کا انتظام بھی پاکستانی حکومت نے سنبھال لیا ہے۔ ریلیف کمشنر کے مطابق موسم گرما میں سب سے بڑا چیلنج کسی وبا کو پھوٹنے سے روکنا اور بارش کے دنوں میں لوگوں کو پلاسٹک شیٹیں فراہم کرنا ہے۔ |
اسی بارے میں زلزلہ: سردی سے 18 بچے ہلاک05 January, 2006 | پاکستان پاکستان: 5.1 شدت کا ایک اور زلزلہ11 January, 2006 | پاکستان زلزلہ سردی:3 بچوں سمیت 7 ہلاک30 January, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا14 February, 2006 | پاکستان زلزلہ: امداد 5ء2 بلین، قرضہ 4 بلین16 February, 2006 | پاکستان زلزلہ زدگان کے مظاہرے پر کارروائی06 March, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین کی واپسی شروع 09 March, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||