BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 March, 2006, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امدادی کیمپ بند نہیں کیئے جا رہے‘

زلزلہ زدگان
ان علاقوں میں ابھی تک تعمیر نو کا کام شروع نہیں ہوا ہے
پاکستان کے وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد خان نے کہا ہے کہ زلزلہ زدگان کے امدادی کیمپ بند نہیں کیئے جا رہے تاہم لوگوں کو رضاکارانہ طور پر واپس جانے کے لیئے ایک ماہ کا راشن، ایک خیمہ اور دیگر امدادی سامان دیا جائے گا۔

پاکستان میں زلزلے کو آئے اب پانچ ماہ ہونے کو آئے ہیں اور اب ان علاقوں میں امدادی ایجنسیوں کی توجہ امدادی کارروائیوں سے بحالی اور تعمیر نو پر مرکوز ہو چکی ہے۔ ان علاقوں کے سیسمک سروے بھی مکمل ہو چکے ہیں تاہم ابھی تک تعمیر نو کا کام شروع نہیں ہوا ہے۔

زلزلہ زدگان کے مختلف کیمپوں میں ابھی بھی ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ ایسے لوگ موجود ہیں جو زلزلے کے بعد ان کیمپوں میں آ کر بس گئے تھے۔اب وہ گو مگو کے عالم میں ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا۔تاہم آج اسلام آباد میں وفاقی ریلیف کمشنر نے ان کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت زلزلہ زدگان کے کیمپ بند نہیں کرے گی۔

گذشتہ برس آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے سے پینتیس لاکھ افراد بے گھر ہو گئے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں چار لاکھ گھر تعمیر کئے جائیں گے جن کے لئے زلزلہ زدگان کو جلد ہی اسی ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔حکومت ہر گھر کی تعمیر کے لئے پونے دو لاکھ روپے دے گی۔

زلزلہ زدگان میں ابھی تک تقریبا بیس ارب روپے تقسیم کیئے ہیں جن سے انہیں موسم سرما میں سردی اور برفباری سے بچنے کے لئے عارضی پناگاہیں بنا کر دی گئی تھیں۔

وفاقی ریلیف کمشنر نے کہا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں پچاس ہزار سے زائد پاکستانی فوج کے اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جن میں سے چند ہزار فوجی اس ماہ کے آخر میں واپس بلا لئے جائیں گے کیونکہ ان کے مطابق ان علاقوں میں امدادی کاروائیاں تقریبا ختم ہو گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے قائم کردہ میڈیکل کیمپوں کا انتظام بھی پاکستانی حکومت نے سنبھال لیا ہے۔

ریلیف کمشنر کے مطابق موسم گرما میں سب سے بڑا چیلنج کسی وبا کو پھوٹنے سے روکنا اور بارش کے دنوں میں لوگوں کو پلاسٹک شیٹیں فراہم کرنا ہے۔

کشمیرزلزلہ، مسئلہ اجاگر
کیا زلزلہ مسئلہ کشمیر کے حل کا بہانہ بنے گا؟
ایف ایم ریڈیوزلزلہ اور ذرائع ابلاغ
زلزلہ کوریج میں پاکستانی میڈیا کا ملاجلا کردار
زلزلے کو بھلا دیا
میڈیا کی تمام تر توجہ کالاباغ ڈیم پر ہو گئی
زلزلے سے متاثرہ پچےزلزلہ زدہ علاقے
بچوں کو سردی سے بچانا ایک بڑا چیلینج ہے
متاثرینزلزلہ اور بےحسی
زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا، مسائل کا انبار
اسی بارے میں
زلزلہ: سردی سے 18 بچے ہلاک
05 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد