زلزلہ زدگان کے مظاہرے پر کارروائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے زلزلے سے متاثرہ ضلع راولاکوٹ میں کئی سیاسی جاعتوں پر مشتمل عوامی ایکشن محاذ نےالزام عائد کیا ہے کہ زلزلہ متاثرین کے احتجاجی مظاہروں پر پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں ایک شخص گولی لگنے سے زخمی ہوگیا ہے۔ راولاکوٹ کی انتظامیہ نے بھی اس واقعہ کی تردید نہیں کی ہے۔ عوامی ایکشن محاز نے نو نکاتی مطالبات کے حق میں آج کے لئے پہیہ جام ہڑتال کی کال دی تھی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھیاں برسائیں اور آنسوگیس بھی پھینکی۔ یہ مظاہرے اس پہیہ جام ہڑتال کا حصہ تھے جس کی کال سیاسی اور سماجی جماعتوں کے اتحاد نے زلزلہ متاثرین کے نو نکات پر مشتمل مطالبات منوانے کے سلسلے میں حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے دی تھی۔ حال ہی میں قائم ہونے والے اس اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ زلزلہ متاثرین کی نمائندگی کرتا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ضلع راولاکوٹ میں یہ ہڑتال کافی حد تک موثر رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ شہر اور دیگر قصبوں میں زیادہ تر پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہی البتہ سرکاری گاڑیاں اور اکا دکا پبلک ٹرانسپورٹ اور پرائیویٹ گاڑیاں سڑکوں پر چلتی رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے حمایتیوں نے سڑکوں پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کیں اور مختلف جگہوں پر مظاہرے بھی ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق راولاکوٹ اور دیگر قصبوں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے اور انہیں سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے سے باز رکھنے کے لیئے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس بھی پھینکی۔ عوامی ایکشن محاذ کے مطابق پولیس نے راولاکوٹ سے تھوڑا باہر غازی ملت روڈ پرمطاہرین کے خلاف کاروائی کے دوران فائرنگ بھی کی جس کے نیتجے میں کم از کم ایک شخص گولی لگنے سے زخمی ہوا ۔ اس شخص کو مقامی فوجی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا لیکن بعد میں اس کو اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ انتظامیہ نے اس کی تردید نہیں کی۔ اس اتحاد کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے نصف درجن سے زائد حمایتیوں کو بھی حراست میں لیا۔ اتحاد نے پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اس کو ریاستی انتہا پسندی قرار دیاہے۔ راولاکوٹ کے ڈپٹی کشمنر فاروق تبسم سے کئی بار ٹیلیفون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان کے دفتر میں اہلکاروں کی طرف سے یہ جواب ملتا رہا کہ صاحب میٹنگ میں ہیں یا صاحب نماز پڑھ رہے ہیں۔ اتحاد کا کہنا کہ ضلع راولاکوٹ میں اب بھی ایسے چار ہزار خاندان ہیں جن کو تباہ ہوئے گھروں کے معاوضے کی پہلی قسط ابھی تک ادا نہیں کی گئی ہے۔ اس اتحاد کا مطالبہ ہے کہ ان کو فوری طور پر امدادی رقوم ادا کی جائیں لیکن انتظامیہ یہ کہتی رہی ہے کہ رالاکوٹ میں بیشتر تباہ ہوئے گھروں کے معاوضے کی پہلی قسط لوگوں کو ادا کی جاچکی ہے اور یہ کہ صرف ایک فیصد ایسے لوگ ہوں گے جن کو معاوضہ ادا کرنا باقی ہوگا۔ عوامی ایکشن محاز کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ہلاک شدگان کا معاوضہ فی کس کے حساب سے ان کے لواحقین کو ادا کیا جائے۔ اس وقت کشمیر کے علاقے میں ہلاک شدگان کے خاندان والوں کو ایک لاکھ روپیہ فی خاندان کے حساب سے دیا جارہا ہے۔ اس اتحاد کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے بینکوں سے پانچ لاکھ تک قرضے لیے ہیں وہ معاف کیے جائیں اور چھ ماہ سے ایک سال تک بجلی اور ٹیلیفون بل بھی معاف کیے جائیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ برقیات نے حال ہی میں متاثرہ علاقوں میں جنوری کے مہینے کے بجلی کے بل لوگوں کو دینا شروع کیے ہیں جس پر لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں زلزلہ زدگان مظاہرین پر لاٹھی چارج11 November, 2005 | پاکستان مظفرآباد: سرکاری ملازمین کا احتجاج28 December, 2005 | پاکستان مظفرآباد: تعمیر نو کیلیے تجاویز طلب12 February, 2006 | پاکستان خیمہ بستیوں میں بے پردگی19 February, 2006 | پاکستان مرے کو مارے شاہ مدار۔۔05 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||