مظفرآباد: سرکاری ملازمین کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزے سے متاثرہ علاقوں کے سرکاری ملازمین نے منگل کے روز اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا۔ ملازمین پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کی حکومتوں سے یہ مطالبہ کررہے تھے کہ ان کے قرضے معاف کیے جائیں۔ سرکاری ملازمین نے مظفرآباد میں اولڈ سیکرٹریٹ میں احتجاج کیا ۔ یہ احتجاج کوئی دو درجن ملازمین کی تنظیموں کے اتحاد جوائنٹ ایکشن کونسل کے زیر اہتمام ہوا۔ اس احتجاج میں سینکڑوں ملازمین نے شرکت کی۔ ملازمین یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ ان کے ہر طرح کے قرضے معاف کیے جائیں۔ ملازمین کے اہم رہنما محمد منظور کا کہنا ہے کہ منگل کے روز کے مظاہرے کا مقصد حکومت پر اپنے مطالبات تسلیم کرانے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے مطالبات یہ ہیں کہ متاثرہ علاقوں کے ملازمین کے ہر طرح کے قرضے جن میں قرضے برائے تعمیر مکان، قرضے برائے کار اور پیشگی تنخواہ فلیکسی لون اور امداد باہمی کے قرضہ جات معاف کیے جائیں۔، اس کے ساتھ ساتھ ان کا کہنا تھا ٹیلیفون اور بجلی بلز بھی معاف کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قرضے معاف کرنے کے بجائے ملازمین نے جو قرضے لیے ہیں ان کی تنخواہوں سے باقاعدگی سے قسطیں کاٹی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو چار جنوری کو میرپور میں ایک بڑا مظاہرہ کیا جائے گا اور پورے علاقے میں ملازمین قلم چھوڑ ہڑتال کریں گے۔ محمد منظور نے کہا کہ اگر پھر بھی ان کے مظالبات نہ تسلیم کئے گئے تو پھر ملازمین سول نافرمانی کی تحریک پر غور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ اکتوبر کے زلزے کے باعث ملازمین بڑی کسمپرسی اور مشکلات کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے ملازمین کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ احتجاجی ملازمین یہ مطالبہ بھی کررہے تھے کہ ان کو نئے گھر تعمیر کرنے کے لیے آسان شرائط پر نئے قرضے فراہم کیے جائیں۔ ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ ان کو چھ ماہ کی تنخواہ بطور بونس ادا کی جائے، اس کے علاہ ایک سال کی تنخواہ آسان شرائط پر دی جائے۔ مظاہرین یہ بھی مطالبہ کررہے تھے کہ جو ملازمین زلزے میں ہلاک ہوگئے ہیں ان کی جگہ ان کے بچوں کو بھرتی کیا جائے تا کہ وہ اپنے خاندان والوں کی کفالت کرسکیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لگ بھگ ستر ہزار سرکاری ملازمین ہیں جن میں زلزے سے متاثرہ چاراضلاع کے چالیس سے پچاس ہزار ملازمین ہیں۔ زلزے میں کوئی ایک ہزار ملازمین ہلاک ہوگئے اور بہت سارے ملازمین کے خاندان والے یا قریبی عزیز زلزے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاہ بہت سارے ملازمین زخمی بھی ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں تقریباً سبھی ملازمین بے گھر ہوگئے ہیں اور وہ اب دوسرے لوگوں کی طرح خیموں میں رہتے ہیں۔ | اسی بارے میں زلزلہ: لوگ بیکار کیوں بیٹھے ہیں؟14 December, 2005 | پاکستان کشمیر کی فراموش وادی20 December, 2005 | پاکستان بحالی کمیٹی میں شمولیت سے انکار20 December, 2005 | پاکستان زلزلہ: ورلڈ بینک سے قرض کا معاہدہ22 December, 2005 | پاکستان ’قرض معافی کا وعدہ پورا کیا جائے‘23 December, 2005 | پاکستان سینکڑوں زلزلہ زدہ بچے بیمار 24 December, 2005 | پاکستان خیموں میں شادیوں کی جلدی کیا؟26 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||