BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 December, 2005, 16:10 GMT 21:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قرض معافی کا وعدہ پورا کیا جائے‘

زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں خیمے
سرکاری ملازمین بھی خیموں میں رہ رہے ہیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے سرکاری ملازمین نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ متاثرہ ملازمین ستائیس دسمبر کو احتجاج کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

احتجاج کا اعلان بائیس ملازمین تنظیموں کے اتحاد جوائنٹ ایکشن کونسل نے جمعہ کے روز مظفرآباد میں کیا۔ اس اتحاد کے سربراہ سید نظیر حسین شاہ کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز نے متاثرہ علاقوں کے ملازمین کے ہر طرح کے قرضے جن میں قرضہ تعمیر مکان ، قرضہ برائے کار اور ، پیشگی تنخواہ اور امداد باہمی کے قرضہ جات شامل ہیں، معاف کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ ان کا کہنا تھا کہ صدر پرویز مشرف نے ٹیلیفون اور بجلی کے بل بھی معاف کرنے اور ملازمین کو تین ماہ کی تنخواہ پیشگی میں یکمشت دینے کا اعلان کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک ان اعلانات پر عمل درآمد نہیں ہوا بلکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ملازمین نے جو قرضے لیے ہیں انکی تنخواہوں سے باقاعدگی سے قسطیں کاٹی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ نہ صرف ان اعلانات پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے بلکہ ملازمین کو نئے مکان تعمیر کرنے کے لیے فوری طور پر بغیر کسی سود کے قرضے دیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ملازمین اپنے نئے گھر تعمیر نہیں کر لیتے اس وقت تک حکومت متاثرہ علاقوں کے تمام ملازمین کو دو کمروں کی عارضی رہائش تعمیر کرکے دے اور اس سے پہلے ملازمین کو سردی کا مقابلہ کرنے والے خیمے دیے جائیں ۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں کے ملازمین بہت کسمپرسی اور مشکل حالات میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمرانوں نے اپنے اعلانات پر عمل درآمد نہ کیا اور ملازمین کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ملازمین ستائیس دسمبر کو اپنے مطالبات کے حق میں بھرپور احتجاج کریں گے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لگ بھگ ستر ہزار سرکاری ملازمین ہیں جن میں زلزلے سے متاثرہ چار اضلاع میں چالیس سے پچاس ہزار ملازمین ہیں۔

زلزے میں تقریباً ایک ہزار ملازمین ہلاک ہوگئے تھے اور بہت سے ملازمین زخمی ہوگئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں تقریباً سبھی ملازمین بے گھر ہوگئے ہیں اور وہ اب دوسرے لوگوں کی طرح خیموں میں رہتے ہیں۔

زلزلہ اور سکول
عمارتیں زلزلہ لے گیا، گراونڈ امدادی کارکن
کام کیوں نہیں کرتے؟
خیمہ بستیوں کے مقیم بیکار کیوں بیٹھے ہیں
زلزلہ زدہ خواتینزلزلہ:خواتین کا المیہ
خواتین سے زیادتی کے کئی واقعات کو دبا دیا
اسی بارے میں
ڈک چینی کا دورۂ مظفرآباد
20 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد