مرے کو مارے شاہ مدار۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر خراب و خستہ اور خجل و خوار کسی شخص کو مزید خستگی اور خواری میں مبتلا کردیا جائے تو یقیناً آپ کے ذہن میں مرے پہ سو درے والا ہی محاورہ آئے گا۔ ان دنوں مظفرآباد کی تھوری پارک خیمہ بستی کے مکینوں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ہر کچھ روز بعد اس بستی کے مکینوں کو نئے سرے سے اس وقت خجل اور خوار ہونا پڑتا ہے جب جنرل پرویزمشرف کی فوجی حکومت کو امداد دینے والے کسی ملک اور ادارے کی کسی اعلٰی شخصیت کو امدادی کام میں مصروف فوجی اور سول حکام اس کیمپ کا دورے کراتے ہیں اور شاباش وصول کرتے ہیں۔ شہر کے نسبتاً مضافات میں دریا کے کنارے ایک کھلے میدان میں قائم اس خیمہ بستی کا حال بظاہر دوسری کئی خیمہ بستوں سے کچھ بہتر دکھائی دیتا ہے اور کیوں نہ ہو کہ اس خیمہ بستی کے انتظام میں اس کو قائم کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کو پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے اور پاکستانی حکام کا بھی خاصا تعاون حاصل ہے۔
لیکن پیر کو ہی اس خیمہ بستی میں مجھے ایک شخص نے بتایا کہ’دوسری خیمہ بستیوں میں ہوسکتا ہے کہ حالات اس سے کچھ اور بدتر ہوں لیکن صاحب! وہاں تھوری پارک کی سی خواری تو نہیں ہوتی ہوگی۔ وہیں بھجوادیں ہمیں تو، وجہ ہے اس خیمہ بستی کے انتظام میں حکومت کا تعاون ہونا۔ اور کچھ نہیں۔ کیا ہوا اگر اس بستی کے مکین زلزلے سے متاثر ہیں۔ کیا ہوا اگر ان کے پیاروں میں سے کوئی زلزلے میں گزر گیا۔ کیا ہوا اگر وہ اپنے بھرے پرے گھر اور جمی جمائی گرہستی زلزلے میں گنوا بیٹھے اور کیا ہوا اگر وہ سردی کے موسم میں چھوٹے بچوں اورگھروالوں کے ساتھ بےسروسامانی کے عالم میں دریا کے کنارے پڑے ہیں، امداد کے محتاج۔ امداد بٹورنا اور ہمدردی حاصل کرنا بھی کوئی آسان کام تونہیں ہے ناں! کیا جنرل مشرف کی فوجی حکومت کا ان پر یہ احسان کم ہے کہ ان کو ایسے کیمپ میں ٹھہرایا گیا ہے جس کے انتظام میں حکومت بھی شامل ہے۔ کیا یہ کوئی چھوٹی بات ہے کہ ان کو حکومت امداد دے رہی ہے۔ اس کیمپ میں مکینوں کو نسبتاً قرینے سے دو اطراف قطاروں خیمے لگا کر ٹھہرایا گیا ہے۔ درمیان میں ایک خاصی چوڑی کچی راہداری ہے کہ جو ایک اب آپ خود ہی بتائیے کہ زلزلے سے پہلے ایسی عیاشیوں کا تصور بھی یہ لوگ کرسکتے تھے؟ اور ان عیاشیوں پر اگر معمولی سی خواری ہوجائے تو ناراضی کیوں؟ آخر ہر آنے والا حکومت کو مزید امداد بھی تو دے جائے گا ناں! کیمپ کے ایک انتظامی کارکن نے مجھے بتایا کہ جب جنرل مشرف نےاس کیمپ کو پہلی مرتبہ شرف باریابی عطا فرمایا تو ایک دن پہلے سے ہی پوری خیمہ بستی کا کنٹرول خفیہ اداروں اور فوج نے سنبھال لیا تھا۔ ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ تمام قطاروں کے لوگوں کو باری باری باہر نکال کر تمام خیموں کو الٹ پلٹ کر تلاشی لی گئی اور سونگھنے والے کتوں کی مدد سے کیمپ کے ایک ایک انچ کی ، بمعہ خیموں میں رکھی ہوئی اشیائے خوردونوش، سیکیورٹی کلئیرنس حاصل کی گئی۔ دوسری مرتبہ بھی یہی کچھ ہوا۔
آخر مذاق تو نہیں تھا نا۔ ملک کے فوجی فرماں روا زلزلے کے متاثرین کی مزاج پرسی کو تھوری کیمپ میں قدم رنجہ فرمارہے تھے۔ اور جنرل مشرف ہی کیا ، کسی بھی ایسے دورے کے موقعے پر کئی کئی ہیلی کوپٹر تھوری کیمپ آتے ہیں اور اترتے اور واپس پرواز کرتے وقت ہر ہر ہیلی کوپٹر گردوغبار کا ایک طوفان ضرور اٹھاتا ہے جو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ کیمپ کے بدقسمت مکینوں کا نصیب ہوتا ہے۔ اور اس سب پر مستزاد ٹھنڈی زمین پر بیٹھنے کی صورت میں وہ اضافی ’شرف‘ ہے جو کیمپ کے مکینوں کو آنے والے وی وی آئی پیز کے زریں خیالات سننے کی آڑ میں نصیب ہوجاتا ہے۔ کیمپ کے متاثرین اپنی مرضی سے زلزلے کا شکار ہونے والے علاقوں میں پیدا نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی زلزلے کا شکار ہوکر اس کیمپ میں ٹھہرنے کی سعادت پانے میں ان کا اختیار شامل تھا۔ پھر ان کے اس حال کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے؟ یہی کچھ دیکھ کر مجھے اردو کے اس محاورے کے صحیح معانی معلوم ہوئے کہ مرے پر سو درے، مرے کو مارے شاہ مدار۔۔۔۔۔۔ | اسی بارے میں بالاکوٹ: زلزلہ پروف سکول کی تعمیر07 November, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین کے لیے رت جگا09 November, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر06 November, 2005 | پاکستان ’امدادی آپریشن ممکن لگ رہا ہے‘09 November, 2005 | پاکستان مینٹل ہسپتال میں زلزلہ24 November, 2005 | پاکستان ’13 لاکھ افراد کو خوراک پہنچانا ہے‘25 November, 2005 | پاکستان زلزلہ سے پاکستان کی سیاحت متاثر28 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: ریلیف کمشنر کے ساتھ ٹاکنگ پوائنٹ30 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||