BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 February, 2006, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیمہ بستیوں میں بے پردگی

زلزلہ زدگان کی پناہ گاہیں
سفید پوش لوگ کسی کے سامنے ہاتھ بھی نہیں پھیلا سکتے: تصاویر مہ پارہ صفدر
مظفرآباد کواگر خیموں کا شہر کہا جائے تو شاید غلط نہیں ہوگا۔صرف مظفرآباد شہر میں ہی ساٹھ خیمہ بستیاں ہیں جبکہ مصافات کے کیمپ اس کے علاوہ ہیں۔

بہت سے ایسےلوگ جن کے مکانات مخدوش ہوچکے ہیں۔ انھوں نے شب بسری کے لیے اپنے گھروں کے سامنے یا ان کے قریب خمیے لگا رکھے ہیں۔

میں نے کئی ایسے عارضی کیمپوں میں جاکر دیکھا۔ مجھے لگا کہ زندگی بظاہر تو معمول کے مطابق رواں ہے۔ کچھ خیمہ بستیاں خا صی منظم انداز میں بنائی گئی ہیں۔مثلاً ترک حکومت کے تعاون سے قائم کیمپ الحبیب میں داخلے کے باقاعدہ گیٹ لگے ہوئے ہیں اور باہر سے آنے والوں کو کیمپ میں کسی ملاقات کے لیے پہلے گیٹ پر بتانا ہوتا ہے۔

مگر متعدد کیمپوں میں ایسا کوئی بندوبست نہیں اور بہت سی عورتیں خصوصا شہروں میں رہنے والی خواتین بےپردگی اور عدم تحفط کا شکار ہیں۔

خیمہ بستی کا ایک منظر

شہر کے وسطی علاقے میں جناع ڈینٹل نامی ایک کیمپ کی خواتین نے مجھے بتایا کہ ہمیں یوں لگتاہے جیسے ہم کسی چوراہے میں رہ رہے ہوں۔ ملاقاتی اور کام کرنے والے افراد بغیر کسی روک ٹوک کیمپ میں گھس آتے ہیں۔اور کیونکہ خیموں کے باہر نہ تو کوئی شناخت ہوتی ہے اور نہ انھیں بند کر کے رکھا جاسکتا ہے۔

لہذا اکثرخیمے کے اندر جھانکا جاتاہے۔اور خیموں کے باہر اکثر لوگ بلا ضرورت آنا جانا کرتے رہتے ہیں جو انتہائی غیر مناسب اور شدید بے پردگی کا باعث بنتاہے۔

خصوصاً جن ماؤں کی نوجوان لڑکیاں ہیں وہ اس ماحول میں خاصی پریشان نظر آئیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب یہ بھی ممکن نہیں کہ ہم ہر وقت خود بھی اور اپنی بچیوں کو چھوٹے چھوٹے خیموں کے اندر بیٹھا کر رکھیں۔

کچھ عورتو ں نے بتایا کہ یہاں تک کہ انہیں غسلخانوں اور بیت ءالخلا جاتے ہوئے بھی خوف محسوسں ہوتاہے۔ کیونکہ زیادہ تر کیمپوں میں ان کے سامنے دروازے نہیں۔اور ان میں روشنی کا بھی انتظام نہیں۔ ان خواتین کا کہنا تھا کہ بے گھر ہونے کے باعث غیر محفوظ ہونے کا احساس ہروقت ان کا پیچھا کرتا رہتاہے۔ انھوں نے کہا کاش کہ ہم جلد از جلد اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔

زلزلہ زدگانیہ سفید پوش لوگ
’سمجھ نہیں آتا کہ زندگی کہاں سے شروع کریں‘
متاثرینزلزلہ اور بےحسی
زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا، مسائل کا انبار
چڑیا گھر کا پنجرہ باجی شبنم کا پنجرہ
ٹھٹھرنے سے بہتر ہے کہ ہم اسی پنجرے میں رہیں
ڈرامۂ تعمیرِ نو
ہر محکمہ نئی تعمیراتی پالیسی کا منتظر ہے
پروین رشیدون وومن آرمی
سروسز کی بحالی کے لیے پروین رشید کی جدوجہد
اسی بارے میں
’امدادی‘ ہیلی کاپٹر لاپتہ
22 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد