خیمہ بستیوں میں بے پردگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفرآباد کواگر خیموں کا شہر کہا جائے تو شاید غلط نہیں ہوگا۔صرف مظفرآباد شہر میں ہی ساٹھ خیمہ بستیاں ہیں جبکہ مصافات کے کیمپ اس کے علاوہ ہیں۔ بہت سے ایسےلوگ جن کے مکانات مخدوش ہوچکے ہیں۔ انھوں نے شب بسری کے لیے اپنے گھروں کے سامنے یا ان کے قریب خمیے لگا رکھے ہیں۔ میں نے کئی ایسے عارضی کیمپوں میں جاکر دیکھا۔ مجھے لگا کہ زندگی بظاہر تو معمول کے مطابق رواں ہے۔ کچھ خیمہ بستیاں خا صی منظم انداز میں بنائی گئی ہیں۔مثلاً ترک حکومت کے تعاون سے قائم کیمپ الحبیب میں داخلے کے باقاعدہ گیٹ لگے ہوئے ہیں اور باہر سے آنے والوں کو کیمپ میں کسی ملاقات کے لیے پہلے گیٹ پر بتانا ہوتا ہے۔ مگر متعدد کیمپوں میں ایسا کوئی بندوبست نہیں اور بہت سی عورتیں خصوصا شہروں میں رہنے والی خواتین بےپردگی اور عدم تحفط کا شکار ہیں۔
شہر کے وسطی علاقے میں جناع ڈینٹل نامی ایک کیمپ کی خواتین نے مجھے بتایا کہ ہمیں یوں لگتاہے جیسے ہم کسی چوراہے میں رہ رہے ہوں۔ ملاقاتی اور کام کرنے والے افراد بغیر کسی روک ٹوک کیمپ میں گھس آتے ہیں۔اور کیونکہ خیموں کے باہر نہ تو کوئی شناخت ہوتی ہے اور نہ انھیں بند کر کے رکھا جاسکتا ہے۔ لہذا اکثرخیمے کے اندر جھانکا جاتاہے۔اور خیموں کے باہر اکثر لوگ بلا ضرورت آنا جانا کرتے رہتے ہیں جو انتہائی غیر مناسب اور شدید بے پردگی کا باعث بنتاہے۔ خصوصاً جن ماؤں کی نوجوان لڑکیاں ہیں وہ اس ماحول میں خاصی پریشان نظر آئیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب یہ بھی ممکن نہیں کہ ہم ہر وقت خود بھی اور اپنی بچیوں کو چھوٹے چھوٹے خیموں کے اندر بیٹھا کر رکھیں۔ کچھ عورتو ں نے بتایا کہ یہاں تک کہ انہیں غسلخانوں اور بیت ءالخلا جاتے ہوئے بھی خوف محسوسں ہوتاہے۔ کیونکہ زیادہ تر کیمپوں میں ان کے سامنے دروازے نہیں۔اور ان میں روشنی کا بھی انتظام نہیں۔ ان خواتین کا کہنا تھا کہ بے گھر ہونے کے باعث غیر محفوظ ہونے کا احساس ہروقت ان کا پیچھا کرتا رہتاہے۔ انھوں نے کہا کاش کہ ہم جلد از جلد اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔ |
اسی بارے میں ’صورتحال اتنی خراب نہیں رہی‘27 January, 2006 | پاکستان ’مظفر آباد کی جگہ نیا شہر بسایا جائے‘26 January, 2006 | پاکستان الرحمت ٹرسٹ کے گودام پر چھاپہ23 January, 2006 | پاکستان ’امدادی‘ ہیلی کاپٹر لاپتہ22 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||