BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظفرآباد کے سفید پوش کہاں جائیں؟

زلزلہ زدگان کی پناہ گاہیں
سفید پوش لوگ کسی کے سامنے ہاتھ بھی نہیں پھیلا سکتے
یوں تو مظفرآباد میں آٹھ اکتوبر کو آنے والا زلزلہ ایک ایسی قدرتی آفت تھی جس سے کوئی بھی نہ بچ سکا۔ اس نے معاشرے کے ہر طبقے کو بری طرح متاثر کیا۔

ایک جانب ہزاروں جانوں کا زیاں ہوا تو دوسری طرف لاکھوں بےگھر و بے در ہوگئے۔ اور ہزاروں ہی ایسے بھی تھے جو زندہ تو بچ گئے مگر اپنی زندگی بھر کی کمائی گنوا بیٹھے۔ اب کچھ سفید پوش خاندان خاموشی کی چادر میں لپٹے انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

مظفرآباد کے علاقے سینٹرل پلیٹ میں یوں تو ایسے نہ جانے کتنے ہی خاندان خمیہ بستیوں میں مقیم ہیں، مگر میری ملاقات ایک ریٹائرڈ بینکر کے اہل خاندان سے ہوئی۔ خاتون خانہ نے بتایا کہ ان لوگوں نے پیسہ پیسہ جوڑ کر اپنے گھر کی دیواریں بنائی تھیں۔ اس زلزلے میں انہیں انہیں دیواروں نے آن لیا۔

زلزلے میں زیر تعمیر مکان کی دیواریں گر گئیں مگر حکومت نے معاوضہ دینے سے قطعی انکار کردیا ہے۔ کیونکہ مکان کی سیمنٹ کی چھتیں ابھی نہیں پڑی تھیں۔

اس خاندان کا کہنا تھا کہ گھر کے سربراہ ریٹائر ہوچکے ہیں جمع پونجی بچوں کی تعلیم اورگھر کی تعمیر میں لگ گئی تھی۔ اب ہم لوگوں کے لیے امداد کے حصول میں جگہ جگہ ہاتھ پھیلانا بھی ممکن نہیں اور بغیر کسی مدد اور سہارے کے گھر کی دوبارہ تعمیر بھی اب ان کے بس کی بات نہیں۔

سفید پوشی کا عذاب
 ہمارے لیے تو جیسے زندگی تھم سی گئی ہے۔ اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ زندگی کا سرا دوبارہ کہاں سے پکڑیں

والدہ نےبتایا کہ یوں تو مظفرآباد میں روزگار کے مواقع پہلے بھی نہیں تھے لیکن زلزلے کے بعد سینکڑوں سکول و کالج اور کاروبار بھی بند ہوگئے۔ لہٰذا اب تو روزگار جیسے ایک ناممکن سی کوشش بن کر رہ گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی ایک پرائیوٹ سکول میں بہت کم تنخواہ پر ملازم ہے جس میں بمشکل گزر اوقات ہورہی ہے۔ موجودہ حالات کے باعث تنخواہ کبھی ملتی ہے اور کبھی نہیں۔ دوسری دو لڑکیاں ملازمت کے حصول میں سرگرداں ہیں۔

ایک لڑکی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے تو جیسے زندگی تھم سی گئی ہے۔ اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ زندگی کا سرا دوبارہ کہاں سے پکڑیں‘۔

یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں بلکہ مظفرآباد کے کیمپوں میں ایسے دسیوں خاندان دنیا کی نگاہوں سے اوجھل اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں مگران کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔

اب جبکہ حکومت نے اکتیس مارچ کو خیمہ بستیاں بھی ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے تو ایسے خاندانوں میں اب بھی سیراسیمگی کی سی کیفیت ہے۔

حکومت ان خاندانوں کو بھی معاوضہ نہیں دے رہی جن کے گھر بظاہر منہدم تو نہیں ہوئے مگر اس قدر مخدوش ہوچکے ہیں کہ قابل استعمال نہیں۔

متاثرینزلزلہ اور بےحسی
زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا، مسائل کا انبار
چڑیا گھر کا پنجرہ باجی شبنم کا پنجرہ
ٹھٹھرنے سے بہتر ہے کہ ہم اسی پنجرے میں رہیں
ڈرامۂ تعمیرِ نو
ہر محکمہ نئی تعمیراتی پالیسی کا منتظر ہے
پروین رشیدون وومن آرمی
سروسز کی بحالی کے لیے پروین رشید کی جدوجہد
اسی بارے میں
’امدادی‘ ہیلی کاپٹر لاپتہ
22 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد