BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 February, 2006, 12:50 GMT 17:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجی شبنم کا پنجرہ

چڑیا گھر کا پنجرا
پنجروں میں رہنے والے پرندوں کو بے گھر کرنے والوں نے جالیوں پر چادریں تان کر یک کمرہ سا بنا لیا
مظفر آباد میں جس شاہراہ پر ایوانِ صدر اور ایوانِ وزیرِ اعظم ہیں اسی پر جلال آباد پارک بھی ہے اور اسی پارک کے ایک کونے میں آٹھ اکتوبر تک ایک چھوٹا سا چڑیا گھر بھی تھا۔ جس میں ایک نارمل کمرے کے سائز کے سات پنجروں میں چینی مور، آسٹریلین طوطے اور رنگین چڑیوں سمیت کئی نسلوں کے پرندے برسوں سے ہنسی خوشی رہتے تھے۔چہچہاتے تھے۔بانگیں اور انڈے بھی دیتے تھے۔اور سہ پہر کے بعد اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ہمراہ اچھلتے کودتے، ہاتھ چھڑا کر اپنی طرف لپکنے والے بچوں کا دل بھی بہلاتے تھے۔

جب زلزلہ آیا تو یہ پنجرے اپنی جگہ قائم رہے۔ لیکن دوسرے تیسرے اور چوتھے ہی دن یکے بعد دیگرے بے گھر ہونے والے خاندانوں نے ان پنجروں کے تالے توڑ دئیے۔کچھ پرندے لوٹ لئے گئے۔کچھ بھاگ گئے اور کچھ کو فوجیوں نے اپنی حفاظت میں لے لیا۔

ان پنجروں میں رہنے والے پرندوں کو بے گھر کرنے والے مکینوں نے جالیوں پر کپڑے کی چادریں تان کر اور اوپر جست کی شیٹیں ڈال کر ایک کمرہ سا بنا لیا ۔

جب میں ایک بچے کی رہنمائی میں باجی شبنم کے پنجرے میں ریلنگ پھلانگتا ہوا داخل ہوا تو باجی اس وقت موبائیل فون پر گفتگو کر رہی تھیں۔

 جب وہ زلزلے کے بعد اس پنجرے میں آئی ہیں تو پرندوں نے بے چینی سے پھڑپھڑانا شروع کردیا ۔پھر ان بچوں کے ابا نے انہیں پارک میں لے جاکر چھوڑ دیا
چڑیا گھر کے پنجرے کی رہائشی
باجی نے بتایا کہ انکا گھر اس پارک سے صرف بیس منٹ کی مسافت پر ہے لیکن جب گھر تباہ ہوگیا اور انکی دو بہنیں بھی اس میں دب گئیں تو گھر والوں کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔اگلے روز جب ہم پناہ کی تلاش میں نکلے اور اس سڑک سے گزرے تو ہمیں بس یہی خیال آیا کہ فی الحال ان پنجروں میں رہا جاسکتا ہے۔

’اس پنجرے میں رنگین طوطے تھے۔اور یہ جو اب آپ کچن دیکھ رہے ہیں یہ دراصل ان طوطوں کے آرام کی جگہ تھی۔دو دن تو یہ طوطے ہمارے ساتھ رہے لیکن پھر غائب ہوگئے۔شاید اڑ گئے یا شاید کوئی پکڑ کے لے گیا۔کچھ ٹھیک سے اس لئے یاد نہیں کہ ہم خود ہوش و حواس میں نہیں تھے۔‘

چڑیا گھر میں سکول
باجی شبنم کا کہنا ہے کہ باقی پانچ پنجروں میں جو خاندان آباد ہیں ان میں سے صرف ایک کو ہم پہلے سے جانتے ہیں۔باقیوں سے یہیں پر رفتہ رفتہ دوستی ہوئی۔اب ساتھ والے پنجرے میں رہنے والے کہہ رہے ہیں کہ وہ یہاں سے شفٹ ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔لیکن میں اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ یہاں سے کسی اور جگہ نہیں جانا چاہتی کیونکہ ٹینٹ میں سردی سے ٹھٹھرنے سے بہتر ہے کہ ہم اسی پنجرے میں رہیں جب تک کسی بہتر جگہ کا بندوبست نہیں ہوجاتا۔

پنجرے میں سکول
 جب وہ اپنے والدین کے ساتھ اس پارک کی سیر کو آتے تھے تو انکے ذہنوں میں بھی نہیں تھا کہ ایک دن انہیں اس پنجرے میں پڑھنا بھی پڑے گا
طالب علم
ایک اور پنجرے میں ریحانہ اور انکے پانچ بچوں سے ملاقات ہوئی۔ریحانہ کے شوہر پولیس میں سپاہی ہیں۔ریحانہ نے بتایا کہ جب وہ زلزلے کے بعد اس پنجرے میں آئی ہیں تو پرندوں نے بے چینی سے پھڑپھڑانا شروع کردیا ۔پھر ان بچوں کے ابا نے انہیں پارک میں لے جاکر چھوڑ دیا۔تین چار دن تو میں اسکی صفائی ہی کرتی رہی کیونکہ پرندوں کی غلاظت کے سبب یہاں رہنا اور کھانا پینا دوبھر ہورہا تھا۔

ریحانہ نے بتایا کہ انہیں ایک ٹینٹ بھی ملا تھا لیکن وہ اتنا چھوٹا اور پتلا تھا کہ اس میں سات لوگ نہیں رہ سکتے تھے۔ ہم نے اس پنجرے پر اپنے تباہ ہونے والے گھر کی ایلومینیم شیٹیں ڈال تو دی ہیں لیکن پھر بھی بارش کا پانی اندر آجاتا ہے۔

ریحانہ کے بقول ایک دفعہ سرکاری لوگ آئے تھے۔انکا کہنا تھا کہ یہ پنجرے خالی کرو ہمیں سامان رکھنا ہے۔اسکے بعد کوئی نہیں آیا۔

ان چھ جڑے ہوئے پنجروں سے ذرا ہٹ کے جو ساتواں پنجرہ ہے اسکے باہر لگی تختی کے مطابق اس میں چینی مور رہا کرتے تھے۔ لیکن دس نومبر سے یہاں اقراء ماڈل اسکول کام کررہا ہے۔ پنجرے کے باہر پہلی سے چھٹی جماعت تک کی کلاسیں ہوتی ہیں اور اندر ساتویں، آٹھویں کے بچے پڑھتے ہیں۔

کئی بچوں نے کہا کہ جب وہ اپنے والدین کے ساتھ اس پارک کی سیر کو آتے تھے تو انکے ذہنوں میں بھی نہیں تھا کہ ایک دن انہیں اس پنجرے میں پڑھنا بھی پڑے گا۔ ’لیکن یہ پکے سکولوں سے زیادہ اچھا ہے کیونکہ ہمیں اسکے نیچے آ کردبنے کا ڈر نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں
ایک اجتماعی قبر کی کہانی
23 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد