باجی شبنم کا پنجرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفر آباد میں جس شاہراہ پر ایوانِ صدر اور ایوانِ وزیرِ اعظم ہیں اسی پر جلال آباد پارک بھی ہے اور اسی پارک کے ایک کونے میں آٹھ اکتوبر تک ایک چھوٹا سا چڑیا گھر بھی تھا۔ جس میں ایک نارمل کمرے کے سائز کے سات پنجروں میں چینی مور، آسٹریلین طوطے اور رنگین چڑیوں سمیت کئی نسلوں کے پرندے برسوں سے ہنسی خوشی رہتے تھے۔چہچہاتے تھے۔بانگیں اور انڈے بھی دیتے تھے۔اور سہ پہر کے بعد اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ہمراہ اچھلتے کودتے، ہاتھ چھڑا کر اپنی طرف لپکنے والے بچوں کا دل بھی بہلاتے تھے۔ جب زلزلہ آیا تو یہ پنجرے اپنی جگہ قائم رہے۔ لیکن دوسرے تیسرے اور چوتھے ہی دن یکے بعد دیگرے بے گھر ہونے والے خاندانوں نے ان پنجروں کے تالے توڑ دئیے۔کچھ پرندے لوٹ لئے گئے۔کچھ بھاگ گئے اور کچھ کو فوجیوں نے اپنی حفاظت میں لے لیا۔ ان پنجروں میں رہنے والے پرندوں کو بے گھر کرنے والے مکینوں نے جالیوں پر کپڑے کی چادریں تان کر اور اوپر جست کی شیٹیں ڈال کر ایک کمرہ سا بنا لیا ۔ جب میں ایک بچے کی رہنمائی میں باجی شبنم کے پنجرے میں ریلنگ پھلانگتا ہوا داخل ہوا تو باجی اس وقت موبائیل فون پر گفتگو کر رہی تھیں۔ ’اس پنجرے میں رنگین طوطے تھے۔اور یہ جو اب آپ کچن دیکھ رہے ہیں یہ دراصل ان طوطوں کے آرام کی جگہ تھی۔دو دن تو یہ طوطے ہمارے ساتھ رہے لیکن پھر غائب ہوگئے۔شاید اڑ گئے یا شاید کوئی پکڑ کے لے گیا۔کچھ ٹھیک سے اس لئے یاد نہیں کہ ہم خود ہوش و حواس میں نہیں تھے۔‘
ریحانہ نے بتایا کہ انہیں ایک ٹینٹ بھی ملا تھا لیکن وہ اتنا چھوٹا اور پتلا تھا کہ اس میں سات لوگ نہیں رہ سکتے تھے۔ ہم نے اس پنجرے پر اپنے تباہ ہونے والے گھر کی ایلومینیم شیٹیں ڈال تو دی ہیں لیکن پھر بھی بارش کا پانی اندر آجاتا ہے۔ ریحانہ کے بقول ایک دفعہ سرکاری لوگ آئے تھے۔انکا کہنا تھا کہ یہ پنجرے خالی کرو ہمیں سامان رکھنا ہے۔اسکے بعد کوئی نہیں آیا۔ ان چھ جڑے ہوئے پنجروں سے ذرا ہٹ کے جو ساتواں پنجرہ ہے اسکے باہر لگی تختی کے مطابق اس میں چینی مور رہا کرتے تھے۔ لیکن دس نومبر سے یہاں اقراء ماڈل اسکول کام کررہا ہے۔ پنجرے کے باہر پہلی سے چھٹی جماعت تک کی کلاسیں ہوتی ہیں اور اندر ساتویں، آٹھویں کے بچے پڑھتے ہیں۔ کئی بچوں نے کہا کہ جب وہ اپنے والدین کے ساتھ اس پارک کی سیر کو آتے تھے تو انکے ذہنوں میں بھی نہیں تھا کہ ایک دن انہیں اس پنجرے میں پڑھنا بھی پڑے گا۔ ’لیکن یہ پکے سکولوں سے زیادہ اچھا ہے کیونکہ ہمیں اسکے نیچے آ کردبنے کا ڈر نہیں ہے۔‘ | اسی بارے میں ’مظفر آباد کی جگہ نیا شہر بسایا جائے‘26 January, 2006 | پاکستان ایک اجتماعی قبر کی کہانی23 January, 2006 | پاکستان گاؤں لینڈ سلائڈنگ کی زد میں31 January, 2006 | پاکستان ’الائی میں پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں‘24 October, 2005 | پاکستان کاغان میں بے شمار دیہات تباہ26 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||