گاؤں لینڈ سلائڈنگ کی زد میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقعہ سما بانڈی گاؤں لینڈ سلائڈنگ کی زد میں آگیا ہے اور پندرہ گھر اس کی زد میں آکر منہدم ہو چکے ہیں۔ سات سو سے آٹھ سو نفوس کی آبادی والے اس گاؤں میں تقریباً ایک سو چھبیس گھر ہیں جن کو خالی کرا لیا گیا ہے خدشہ ہے کہ اگر لینڈ سلائڈنگ جاری رہی تو یہ گھر بھی منہدم ہوجائیں گے۔ سما بانڈی جس پہاڑی کی ڈھلوان پر واقعہ ہے وہاں پیر کو رات گئے زمین سرکنا شروع ہوئی تھی جو سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر مظفر آباد چوہدری لیاقت نے کہا کہ اس گاؤں کے مزید ایک سو گھر خطرے میں ہیں اور ان کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ گاؤں والوں نے جن میں بچوں اور عورتوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے رات کھلے آسمان تلے گزاری اور منگل کو بھی وہ بے بسی کے عالم میں گاؤں سے کچھ فاصلے پر اپنے گھروں کو منہدم ہوتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ بہت سے گھروں سے سامان بھی نہیں نکالا جا سکا ہے اور لوگوں کو گاؤں میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ مظفرآباد اور کشمیر کے دوسرے علاقوں میں پہاڑی ڈھلوانوں پر لینڈ سلائڈنگ ایک مستقل مسئلہ ہے اور مظفر آباد جانے والی شاہراہ اکثر پہاڑی تودے گرنے سے بند ہو جاتی ہے۔ | اسی بارے میں زلزلہ: امدادی پروازیں بحال04 January, 2006 | پاکستان زلزلہ: 16 لاکھ بچوں کو سردی کا سامنا14 January, 2006 | پاکستان ’قبر بن جائے مجھے بھی سکون ملے‘16 January, 2006 | پاکستان بالاکوٹ: کچھ حصوں کی منتقلی 30 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||