’مظفر آباد کی جگہ نیا شہر بسایا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار سکندر حیات خان نے کہا ہے کہ مظفرآباد شہر کو منہدم کرکے نیا شہر تعمیر کیا جائے اور ساتھ ہی ان کا یہ کہنا ہے کہ زلزے سے متعلق ارضیاتی رپورٹ یہ نشاندہی کرتی ہیں کہ مظفرآباد کا علاقہ خطرناک ہے اس لئے تعمیر کے لئے خاصی احتیاتی تدابیر اختیار کرنا پڑیں گی۔ سردار سکندر حیات خان نے مظفرآباد میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان کی وزارت پٹرولیم کی جانب سے حال ہی میں اسلام آباد میں بریفنگ دی گئی جس میں مظفرآباد کی صورت حال خطرناک دکھائی گئی اور اس میں بتایا گیا کہ مظفرآباد کے نیچے دو فالٹ لائنز ہیں اور اس کو بڑا حساس علاقہ قرار دیا گیا‘۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ’جاپان اور ترکی کے ماہرین کی زلزے سے متلعق رپورٹیں ابھی سامنے نہیں آئی ہے‘۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ’ زلزہ زدہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے ادارے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل زبیر کے مطابق جاپان اور ترکی کے ماہرین کہتے ہیں کہ احتیاتی تدابیر کے ساتھ مظفرآباد شہر دوبارہ تعمیر کیا جاسکتا ہے‘۔ کشمیر کے اس علاقے کے وزیر اعظم نے مزید یہ کہا کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اکتیس مارچ تک متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی مالی امداد کا کام مکمل کرنے کا ہدف دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ’اس دوران رپورٹیں بھی آجائیں گی اور دیگر انتظامات بھی مکمل ہوجائیں گی اور تعمیر نو کا کام اپریل میں شروع ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ’ تعمیر نو کا کام جنگی بنیادوں پر کیا جائے گا‘۔ سردار سکندر حیات خان کا کہنا تھا کہ ’تعمیر نو کے متعلق دیہی علاقوں اور شہروں کے بارے میں الگ الگ پالیسیاں ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’دیہی علاقوں میں کوئی ڈھائی لاکھ گھر تعمیر کرنے ہیں اور حکومت یہ کام نہیں کرسکتی ہے‘۔
سکندر حیات خان کا کہنا ہے کہ ’جہاں تک مظفرآباد اور باغ کے شہروں کا تعلق ہے ان کے لئے ماسڑ پلاننگ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مظفرآباد کے بارے میں زلزے سے متعلق ارضیاتی رپورٹ کا انتظار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ’میرا خیال یہ ہے کہ مظفرآباد شہر کو منہدم کیا جائے اور اس کی زد میں جن لوگوں کی جائداد آئے گی ان کو معاوضہ دیا جائے اور دیا جانا چاہیے اور ایک جدید شہر تعمیر کیا جانا چاہیے‘۔ انھوں نے کہا کہ اگر اس کے لئے جگہ کم پڑی تو مظفرآباد کے شہر کے کچھ اور علاقوں تک اس شہر کو پھیلایا جاسکتا ہے ۔ البتہ ان کا کہنا ہے’ شہر میں بھی لوگوں کو گھر خود تعمیر کرنا ہونگے لیکن منصوبہ بندی کے ساتھ اور ان گھروں کو زلزے سے محفوظ بنانے کے لئے حکومت لوگوں کو تیکنیکی مدد فراہم کرے گی‘۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان نے یہ بھی کہا کہ ’خیمہ بستیوں میں رہنے والے لوگوں سے کہا جائے گا کہ وہ یکم اپریل تک اپنے علاقوں میں واپس چلے جائیں اور اپنے گھر بنائیں‘۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ اس کے لئے لوگوں کے ساتھ زبردستی نہیں کی جائے گی بلکہ ان کو اس کے لئے آمادہ کیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر وہ گھروں کی تعمیر کے لئے ایک لاکھ پچھتر ہزار کی رعایت اور تعمیر کے لئے مناسب وقت کو ضائع کردیں گے‘۔ سکندر حیات خان نے یہ بھی کہا کہ ’ان لوگوں کو حکومت گھر تعمیر کرنے کے لئے جگہ فراہم کرے گی جنکی زمینیں زلزے میں تباہ یا ضائع ہوگئی ہے‘۔ انہوں نے کہا ایسے بہت کم لوگ ہونگے جن کو گھر بنانے کے لئے جگہ فراہم کرنا پڑے گی‘۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت لوگوں گھر تعمیر کرنے کے لئے جگہ فراہم نہیں کرتی اس وقت تک وہ حکومت کی جانب سے قائم خیمہ بستیوں میں رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظفرآباد میں شہر بسانے، ضلعی انتظامیہ اور حکومت کی سیٹ کے لئے جگہ ناکافی ہے اس لئے ضلعی انتظامیہ کو وادی جہلم کے علاقے گھڑی دوپٹہ میں منتقل کرنے کا ارادہ ہے۔ |
اسی بارے میں ایک اجتماعی قبر کی کہانی23 January, 2006 | پاکستان ’قبر بن جائے مجھے بھی سکون ملے‘16 January, 2006 | پاکستان خیمہ بستی میں آگ،3 بچے ہلاک06 January, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین: نیا سال، نئی مشکلات 01 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||