مظفر آباد کی تعمیرِ نو،گھپلے کا اندیشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد دارالحکومت مظفرآباد کی تعمیرِ نو کے سلسلے میں اگر ایک طرف اس کو ایک انتہائی جدید، منظم اور خوبصورت شہر بنا دینے کے دعوے ہیں تو دوسری طرف اراضی اور جائیدادوں کے ریکارڈ پر متضاد حکومتی موقف سرکاری ارادوں کے بارے میں شکوک کو تقویت دے رہا ہے۔ کسی بھی شہر کی مانند مظفرآباد میں بھی جائیدادوں کے بہت سے تنازعات تھے او دعوے اور جوابی دعوے بھی۔ مقدمات بھی دائر تھے اور مختلف فریق اپنے اپنے دعووں کے حق میں دستاویزی ثبوت بھی پیش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن زلزلے نے صورتحال یکسر بدل دی ہے کیونکہ حکومتی دعووں کے مطابق محکمۂ مال کے پاس موجود اراضی کا بیشتر ریکارڈ تباہ ہوگیا ہے۔ مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر لیاقت حسین کے مطابق زلزلے سے پہلے بھی اراضی کا ریکارڈ سو فیصد مکمل اور درست نہیں تھا۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ تھی سن انیس سو اڑتالیس میں اراضی کا مکمل ریکارڈ سری نگر کے مرکزی مال خانے میں تھا جبکہ پٹواریوں اور تحصیلداروں کے پاس موجود نقول لڑائی کے دوران خاصی تعداد میں تباہ ہوگئی تھیں۔ لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ بعد میں قریباً دس برس پہلے ریکارڈ مکمل کر کے بیشتر تنازعات اس کے تحت طے کردیے گئے تھے لیکن یہ ریکارڈ اسی فیصد تک موجودہ زلزلے میں تباہ ہوگیا۔ ڈپٹی کمشنر کے اس دعوے کی تائید مظفرآباد کے ہی ایک پٹواری عارف عباسی بھی کرتے ہیں جن کے مطابق سیاہی سے لکھے گئے پٹوار کے رجسٹر ملبے میں دب کر اور بارش میں بھیگ کر خراب ہوگئے۔
تاہم پٹواری اور ڈپٹی کمشنر کے درمیان تحصیلدار کا اہم عہدہ ہوتا ہے۔ مظفرآباد کے تحصیلدار عبدالحمید کیانی کچھ اور کہانی بیان کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کی تمام نقول تحصیل کے مال خانے میں ہوتی ہیں اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق تقریباً سو فیصد ریکارڈ محفوظ ہے۔ لہٰذا پٹواری حضرات چاہیں تو اس ریکارڈ کی بنیاد پر اپنے پاس نیا ریکارڈ بنا سکتے ہیں۔ لیکن ایک خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سرکاری اہلکاروں کے ان متضاد بیانات کے پس منظر میں مستقبل کے منظم اور حسین شہر کی قیمتی جائیدادوں کے بٹوارے کے منصوبے ہیں۔ خودمختار کشمیر کی علمبردار تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی مرکزی کونسل کے رکن زاہد حبیب شیخ اسی تناظر میں کہتے ہیں کہ مظفرآباد کوئی بہت بڑا شہر نہیں تھا اور یہاں برسوں سے رہنے والے ایک دوسرے کے بارے میں تفصیلاً جانتے ہیں۔ اسی بناء پر زاہد شیخ کے بقول اراضی کے ریکارڈ میں گھپلا آسان نہیں ہوگا۔ شہر کی ایک معروف کاروباری شخصیت طاہر رشید محکمۂ مال کا ریکارڈ تباہ ہو جانے کے سرکاری اعلانات کو ایک ذرا مختلف نقطۂ نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کا استدلال یہ ہے کہ ریکارڈ بالکل محفوظ ہے اور اس کی بربادی کی باتیں دراصل اراضی کی بندر بانٹ کے جواز کے لیے پیش کی جارہی ہے۔
ان کا سوال ہے کہ اگر پٹواریوں کے پاس اور دیگر جگہوں پر موجود ریکارڈ تباہ ہوگیا ہے تو زلزلے میں جانی نقصان اورتباہ شدہ گھروں کے معاوضے پٹواریوں کے ذریعے کس ریکارڈ کی بنیاد پر تقسیم کیے جارہے ہیں۔ تاہم ڈپٹی کمشنر لیاقت حسین اس اعتراض کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے معاوضوں کی تقسیم کے لیے زلزلے کے فوری بعد پٹواریوں سے ان پٹوار حلقوں کا تفصیلی سروے کرایا گیا تھا اور معاوضے اسی جائزے کے تحت دیے جارہے ہیں۔ زلزلے سے پہلے پاکستان کے دیگر شہروں کی مانند مظفرآباد میں بھی مرکزی اور قیمتی ترین زمینیں پاکستان آرمی کے پاس تھیں۔ شہر میں یہ قیاس آرائیاں بھی ہیں کہ محکمۂ مال کا ریکارڈ تباہ ہوجانے کے پس منظر میں یہ منصوبے ہیں کہ نئے شہر کی اہم ترین اراضی فوج کے لیے حاصل کی جائے۔ لیکن جموں و کشمیرلبریشن فرنٹ کے زاہد شیخ ایسے کسی بھی ارادے کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فوج کی شہروں میں موجودگی کا تو ویسے ہی کوئی جواز نہیں ہے دوسرے یہ کہ تعمیرِنو ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت ہونے کی صورت میں شہر کے وسط میں موجود تنگ محلوں کو جب کشادہ کیا جائے گا تو بہت سے لوگوں کو اپنی پچھلی زمین اور جائیدادوں سے محروم ہونا پڑے گا۔ زاہد شیخ کی تجوویز ہے کہ ایسے لوگوں کو معاوضے کے طور اس زمین پر جگہ دی جائے جہاں اس وقت فوج کی چھاؤنیاں بنی ہوئی ہیں۔ متضاد سرکاری موقف اور شکوک و شبہات کی اس فضاء میں نیا مظفرآباد کیسا ہوگا، اس کے بارے بے یقینی ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہوئی ہی محسوس ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں جنگلات، سیاحت، آثارِقدیمہ اور زلزلہ13 December, 2005 | پاکستان بالاکوٹ: لاشوں کے بعد سریے کی تلاش12 December, 2005 | پاکستان ’تعمیرنو کے لیے فوجی موزوں نہیں‘10 December, 2005 | پاکستان پورے پاکستان میں چار زلزلہ انجینئرز28 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||