BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 January, 2006, 12:23 GMT 17:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خواجہ محلے کی ’ون وومن آرمی‘

پروین رشید
اپنا گھر بنانے میں کسی کو تکلیف ہوگی اور نہ ہی بے عزتی: پروین رشید
جب حکومت منہ پھیر لے، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کو پانچ ہزار فٹ کے بلندی کے نیچے کچھ نظر نہ آئے اور لوگ خوف کے مارے علاقے کو چھوڑ کر چلے جائیں تو اس وقت ایک خاتون معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے کر کس طرح اپنے محلے کی بحالی کی کوشش کرتی ہے۔

یہ دیکھنا ہو تو پروین رشید سے ملیں جس کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے خواجہ محلے سے ہے ۔ یہ محلہ آٹھ اکتوبر کے زلزے میں سب سے زیادہ متاثرہ ہوا اور اس علاقے کے بیشتر لوگ یہ محلہ چھوڑ کر چلے گئے اور تین ماہ گزرنے کے بعد بھی بہت کم ہی واپس آئے۔ ان تین ماہ میں پروین صرف ایک دن کے لئے مظفرآباد سے باہر گئیں۔ پروین رشید اپنے محلے کو کس طرح اندھیروں سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے ان ہی کی زبانی سنئیے:-

’آٹھ اکتوبر کے زلزے کے ابتدائی دنوں میں خواجہ محلہ میں گھر خالی ہوگئے۔ ہر طرف ویرانی تھی، اندھیرا تھا۔ بیشتر لوگ یہ محلہ چھوڑ کر مختلف جگہوں پر چلے گئے عورتیں یہاں رہی ہی نہیں۔ یہ محلہ جیسے بھوتوں کا محلہ لگنے لگا۔ زلزے کے تیسرے روز میں بہت بیمار ہوئی اور میں ایک دن کے لئے ایبٹ آباد گئی۔ مجھے رشتہ داروں نے مظفرآباد واپس آنے سے منع کیا، لیکن میں نے ان کی بات نہیں مانی اور واپس آگئی۔ ہم لوگ اپنے علاقے کے باہر نہیں رہ سکتے میں اپنے محلے کو چھوڑ نہیں سکتی تھی۔ میں واپس آئی تو پہلے میں نے اپنے بھائی اور ان کے کچھ دوستوں اور ملازم کو ساتھ لیا اور ٹینٹ کے لئے جگہ تیار کی۔ خیمہ لگوایا اور اس کے دو حصے بنائے مردوں کے لئے الگ اور خواتین کے لئے الگ۔‘

’اس محلے میں بجلی نہیں تھی، پانی نہیں تھا اور نہ ہی ٹیلیفون۔ دس روز میرے ہاتھ میں ٹارچ رہی میں سحری کو اٹھتی اور سب کے لئے سحری تیار کرتی اور ان کو جگاتی۔ اندھیرے میں خوف بھی آتا تھا دل میں گھبراہٹ ہوتی کیونکہ دن کو لاشیں اور کفن دیکھتی لیکن پھر ہمت کرتی۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ کچھ اور لڑکوں کو ساتھ رکھ کر محلے میں ٹوٹی ہوئی تاروں کو کاٹ کر جوڑیں اور بجلی بحال کریں۔ میں نے ان سے کہا کہ محکہ برقیات ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرے گا۔ ہمیں یہ کام خود کرنا پڑے گا ہم نے نہ صرف پورے محلے میں بجلی بحال کروائی بلکہ ہمارے محلے کے ساتھ ہی شہ ناڑہ محلہ ہے وہاں تک بجلی پہنچا دی گئی ہے۔‘

’اسی طرح زلزے کی وجہ سے پانی نہیں تھا، میں خود تین مرتبہ پانی والوں کے پاس گئی کہ پانی چھوڑیں وہ مجھے یہ کہتے کہ پانی کی نالیاں ٹوٹ گئی ہیں اس لئے پانی نہیں چھوڑا جاسکتا۔ میں نے ان سے جھگڑا کرکے پانی بحال کروایا۔ ہم نے شکر کیا کے پانی بحال ہوا کم از کم نماز کے لئے ہاتھ منہ دھوتے، کپڑے دھوتے کچھ آسانی ہوئی۔ پانی جمع کرنے کے لئے ٹینکی نہیں تھی وہ میں نے بلدیہ والوں سے لی۔ میں نے اپنا ٹیلیفون بحال کروایا۔‘

’پھر گلیوں سے ملبے ہٹانے کا مسئلہ تھا۔ میری ایک سہیلی ہے ان کے شوہر کی لاش نہیں ملتی تھی۔ میں اور میری وہ سہیلی روز بلدیہ والوں کے پاس جاتے اور ان سے گلی صاف کروانے کے لئے مزدور لیتے اور کچھ گلیاں صاف کروائی اور چند دن پہلے ملبہ ہٹانے کے دوران میری سہیلی کے شوہر کی لاش بھی مل گئی۔ مجھے لاہور میں اپنے رشتہ داروں نے کہا کہ میں یہ اکیلی نہ رہوں بلکہ ان کے پاس چلی جاؤں لیکن میں نے انکار کیا۔ میں نے کہا کہ میں اپنے محلے میں اپنے بھائیوں کے ساتھ رہوں گی میں کہیں بھی نہیں جاتی۔ مجھے محلے کے کچھ لوگوں نے کہا کہ میں یہاں سے جاؤں مگر میں نہیں گئی۔‘

’میں نے آنے جانے والے محلے کے لوگوں سے کہا کہ وہ اپنے محلے کو آباد کریں، اپنے گھروں کا خیال کریں اپنے محلے کو چھوڑ کر نہ جائیں۔ خیمے لگاؤ، بجلی لگاؤ اپنے محلے کو آباد کرو۔ وہ اپنے خاندان کے لوگوں کو واپس لائیں اب ہمارے محلے میں بجلی بھی آگئی، پانی بھی ہے اب کوئی مسلہ نہیں ہے۔ محلے میں جو دیکھ بال کے لئے کچھ مرد پیچھے رہ گئے تھے میں جب اپنے گھر کا کام ختم کرکے ان کے گھر جاتی تو میں ان سے بھی یہی کہتی کہ اپنے عورتوں اور بچوں کو واپس لائیں۔‘

’ایک دن ایک نے اپنا خاندان واپس بلایا، دوسرے دن دوسرا خاندان آیا اور دیکھتے ہی دیکھے یہ محلہ خیموں سے آباد ہوگیا۔ جو لوگ اب بھی واپس نہیں آئے میں ان سے بھی کہتی ہوں کہ وہ واپس آئیں۔ اب بھی بہت سارے لوگ واپس نہیں آئے ہیں ۔ہمارا ملک غریب ہوگیا ہے۔ ہمارے بھائی تو کمائی کے قابل نہیں رہے اب ان کے کاروبار ختم ہوگئے ہیں ۔ اگر پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف ہمارے ساتھ تعاون کریں ہمارے شہر کی طرف صحیح توجہ دیں تو ہمارے شہر کو بحال ہونے میں پانچ سے دس سال لگ سکتے ہیں۔ ہم مزدوروں کی طرح ان کے ساتھ کام کریں گے کیونکہ اپنا گھر بنانے میں اپنا ملک بنانے میں کسی کو تکلیف نہیں ہوگی اور نہ ہی بے عزتی ہوگی۔‘

کشمیر میں برفبارینیا گھر بنائیں گے
مظفر آباد کی جگہ نیاشہر بسایا جائے: سکندرحیات
آسیہ میرقبر بنے تو سکون ہو
’چاہتی ہوں کہ بیٹی کو اپنی مٹی نصیب ہو‘
زندگی مشکل ہے
برفباری اور عارضی رہائش گاہ
زلزلہ زدہ بچے
نمونیا اور سانس کی تکلیف کے شکار
نکشہ بی بی دو ماہ تک ملبے تلے
ملبےمیں دبی رہنے والی نفسیاتی دباؤ کا شکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد