نکشہ بی بی نفسیاتی دباؤ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جسے اللہ رکھے ، اسے کون چکھے کا محاورہ مظفرآباد کے نزدیک کمسر مہاجر کیمپ کی نکشہ بی بی پر پورا صادق آتا ہے جس کو اس کے رشتے دار مردہ تصور کر چکے تھے لیکن زلزلے کے دوماہ بعد دس دسمبر کواسے اسی کے گھر کے ملبے سے زندہ اور صحیح سلامت نکال لیا گیا۔ کمسر مہاجر کیمپ میں رہائش پذیر نکشہ بی بی کے ماموں زاد بھائی اور انہیں گھر کے ملبے سے نکالنے والے فیض دین کا کہنا تھا کہ ’جی ہم تو سمجھ رہے تھے کہ وہ بھونچال والے دن یا تو ملبے میں دب کر ختم ہوگئی یا بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح دریائے جہلم میں بہہ گئی لیکن جی جسے اللہ بچانا چاہے اسے کوئی مار نہیں سکتا اور جسے مارنا چاہے اسے بندہ بچا نہیں سکتا‘۔ اس سوال پر کہ رشتے دار ہوتے ہوئے بھی اس نے نکشہ بی بی کو پہلے ہی اس کے گھر کے ملبے میں تلاش کرنے کی کوشش کیوں نہ کی، فیض دین کا کہنا تھا کہ اب بھی وہ نکشہ بی بی کو تلاش نہیں کررہے تھے، وہ تو اتفاقاً مل گئی۔ ’ کمسر کیمپ والے ادھر یونیورسٹی میں رکھے گئے ہیں تو وہاں فوج کے دیے ہوئے خیموں سے سردی نہیں رکتی اور پانی بھی اندر آتا ہے تو سب لوگ ہی یہاں کیمپ میں گھروں کے ملبے سے جستی چادریں اتار رہے تھے کہ وہاں کوئی عارضی ٹھکانہ بنا سکیں۔ نکشہ کے گھر کا کوئی آدمی تھا نہیں تو میں نے سوچا کہ وہاں سے چادریں اتارلوں۔ چادریں اتار رہے تھے تو نیچے وہ پڑی ہوئی تھی بے حس و حرکت۔ پہلے تو ہم اسے مردہ سمجھے لیکن وہ زندی (زندہ) تھی‘۔ فیض دین کے مطابق نکشہ بی بی انتہائی دبلی پتلی تھی اور کچھ بھی بول نہیں رہی تھی اسی وجہ سے شروع میں اس کے زندہ ہونے پر بھی شبہ تھا۔
مظفرآباد میں پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے فیلڈ ہسپتال میں نکشہ بی بی کوانتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل کیا گیا ہے اور وہاں نکشہ بی بی کا تفصیلی طبی معائنہ ڈنمارک سے آئی ہوئی پاکستانی نژاد رضاکار ڈاکٹر مریم بشیر نے کیا۔ ان کے مطابق نکشہ بی بی کا وزن تیس پینتیس کلو سے زیادہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ویسے نکشہ بی بی کے کوئی زخم نہیں ہے لیکن وہ بالکل ہڈیوں کا ڈھانچہ ہے اور انتہائی کمزور ہے اور وہ شدید نفسیاتی صدمے میں بھی ہے۔ لیکن اس نے کچھ دودھ پیا ہے۔ اس کی حالت خطرے سے باہر ہے لیکن ابھی اسے ہسپتال میں ہی رہنا ہوگا‘۔ فیض دین سے میں نے جب یہ معلوم کیا کہ نکشہ بی بی کو وہ خود ہسپتال کیوں نہیں لے گئے تو اس کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو اس کی حالت کے پیش نظر یقین تھا کہ وہ تو دس کی رات کو ہی مر جائے گی، اس لیے فوراً اسے ہسپتال لے جانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ’وہ جی یہاں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کی وجہ سے کوئی کمسر نہیں آتا۔ اب اسے ہسپتال لے جاتے تو گاڑی چاہیے تھی اور دو تین بندے درکار تھے۔ ہم نے کہا یہ تو ویسے ہی مرجائے گی، اسپتال لے جانے کا فائدہ! پھر کل یہ این جی او والے آئے تو ہم نے اسے ان کے حوالے کردیا‘۔
فیض دین کا کہنا ہے کہ نکشہ بی بی باورچی خانے کے ملبے میں پھنسی تھی اور اس کے باہر نکلنے کے تمام راستے آس پاس کے گھروں کے ملبے کی وجہ سے بند تھے۔ ان کو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ نکشہ بی بی اتنے دن کیا کھاتی رہی لیکن پانی کے لیے ان کا خیال تھا کہ وہ بارشوں کا رستا ہوا پانی استعمال کر رہی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے برعکس فیض دین نے بتایا کہ انیس سو نوے میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے آنے والی نکشہ بی بی کے والد اور ایک بھائی زندہ ہیں جبکہ اس کی والدہ کا کافی پہلے انتقال ہوچکا ہے۔ ’اس کا باپ آٹھ اکتوبر کو شدید زخمی ہوگیا تھا اور پنڈی کے اسپتال میں داخل ہے جہاں اس کی ٹانگ کاٹ دی گئی ہے۔ اس کا بیٹا بھی اس ساتھ ہی ہے۔ اس کے علاوہ نکشہ کے کچھ اور رشتے دار مثلاً چچیرا بھائی وغیرہ بھی یونیورسٹی میں دیگر متاثرین کے ساتھ مقیم ہیں‘۔ پیما کے فیلڈ ہسپتال کے مطابق نکشہ بی بی کو اب بھی اس کی حالت کے پیش نظر انتہائی نگہداشت کے شعبے میں ہی رکھا جارہا ہے۔ ہسپتال کے منتظم ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن کے مطابق نکشہ بی بی منگل کے روز دوسروں کی باتیں سمجھ رہی ہے اور جیسا کچھ اس سے کہا جارہا ہے وہ کررہی ہے۔ تاہم ان کے مطابق ابھی تک نکشہ بی بی بولنے اور ٹھوس غذا کھانے کے قابل نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ’دو ماہ بعد ملبے سے زندہ برآمد‘12 December, 2005 | پاکستان بالاکوٹ: لاشوں کے بعد سریے کی تلاش12 December, 2005 | پاکستان زلزلہ: دو ماہ بعد بھی وہی حال08 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||