ڈرامۂ بحالی وتعمیرِ نو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سین ون آٹھ اکتوبر تک ’آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی‘ کے مظفر آباد میں واقع دو اور راولاکوٹ، میرپور اور کوٹلی کے ایک ایک کیمپس کے گیارہ شعبوں میں مجموعی طور پر سولہ سو طلباوطالبات زیرِ تعلیم تھے۔آٹھ اکتوبر کی صبح آنے والے زلزلے میں مظفر آباد کا اولڈ کیمپس گرلز ہوسٹل سمیت مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ایک سو ساٹھ طلباو طالبات اور عملے کے آٹھ افراد ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہوگئے۔جبکہ نیو کیمپس کے بیشتر بلاکوں میں شگاف پڑگئے۔مجموعی طور پر نقصانات کا تخمینہ بارہ کروڑ روپے سے زائد لگایا گیا ۔اور ماہرین نے مشورہ دیا کہ کیمپس ازسرِ نو تعمیر کیا جائے۔ سین ٹو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے دسمبر کے آخر میں تعلیم اور طلبا کے وسیع تر مفاد میں فیصلہ کیا کہ مزید تعلیمی نقصان سے بچنے کے لئے کشمیر یونیورسٹی کے طلبا و طالبات اور عملے کو مظفر آباد سے عارضی طور پر ایک سو سینتیس کیلومیٹر دور پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد منتقل کردیا جائے۔اس سلسلے میں کرائے پر عمارتیں حاصل کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں جہاں کلاسوں اور طلبا و طالبات کی اقامت کا انتظام ہوسکے۔ لیکن زیادہ تر طلبا و طالبات اسلام آباد جیسے مہنگے شہر میں کس طرح رہیں گے۔اس سوال کے جواب میں یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا ادارہ یونسیف غور کررہا ہے کہ طلبا کو انکی فیسوں، اقامت اور کھانے کی مد میں آٹھ ہزار روپے ماہانہ ادا کئے جائیں تاکہ وہ اسلام آباد میں اطمینان کے ساتھ تعلیم جاری رکھ سکیں۔ سین تھری پاکستان ترکی انٹرنیشنل ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے دو ماہ پہلے اعلان کیا کہ وہ زلزلے سے متاثرہ صوبہ سرحد اور کشمیر میں دوملین ڈالر کے خرچ سے بیس سکول تعمیر کرے گی۔اسکے علاوہ ترک حکومت کی امداد سے تین ملین ڈالر کے صرفے سے کشمیر یونیورسٹی کے تباہ شدہ مظفر آباد اولڈ کیمپس میں پری فیبریکیٹڈ میٹریل سے سات بلاک تعمیر کئے جائیں گے جن میں پچاس پچاس طلبا کی گنجائش والے چھتیس کلاس روم، چودہ سائنسی لیبارٹریاں، مسجد، کیفے ٹیریا اور آڈیٹوریم شامل ہو گا۔
اور یہ تمام تعمیرات ساڑھے آٹھ شدت کا زلزلہ برداشت کر سکیں گی۔پاکستان ترکی ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کا کہنا تھا کہ وہ ماسٹر پلان کے تحت مطلوبہ جگہ ملنے، اولڈ کیمپس سے ملبہ اٹھ جانے اور مقامی انتظامیہ کے تعاون سے یہ پورا پروجیکٹ اکتیس مارچ تک مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ترک وزیرِ اعظم رجب طیب اردگان کشمیر یونیورسٹی کے نوتعمیر کیمپس کا افتتاح کرسکیں۔ سین فور (فائنل سین) کشمیر یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اعلان کردیا ہے کہ نئے سمسٹر کی کلاسیں تیرہ فروری سے اسلام آباد میں شروع ہوجائیں گی۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ تدریسی اور غیر تدریسی عملے میں سے کتنے لوگ اسلام آباد منتقل ہونے کے خواہش مند ہیں اور انکی رہائش کے کیا انتظامات کئے گئے ہیں۔اسوقت بیشتر تدریسی اور غیر تدریسی عملہ مظفر آباد میں خیموں میں رہ رہا ہے۔ طلبا تنظیمیں یونیورسٹی کی منتقلی کے خلاف ایک بڑا مظاہرہ کرچکی ہیں۔انکی دلیل ہے کہ جب بین الاقوامی این جی اوز سردیوں سے بچاؤ والے خصوصی خیموں میں کام کرسکتی ہیں۔جب کالج اور سکول کی کلاسیں مظفر آباد میں جاری رہ سکتی ہیں تو یونیورسٹی کے طلباوطالبات یہاں سے کیوں منتقل کیئے جارہے ہیں۔جب تھانے اور لاک اپ کنٹینرز میں قائم ہوسکتے ہیں تو یونیورسٹی لیبارٹریاں عارضی طور پر کنٹینرز میں کیوں قائم نہیں ہوسکتیں جیسا کہ مانسہرہ یونیورسٹی میں ہوا ہے۔ ترک تعمیراتی ٹیم دو ماہ بعد بھی اس بات کی منتظر ہے کہ اولڈکیمپس سے ملبہ صاف ہوجائے۔ماسٹر پلان کے مطابق اولڈکیمپس سے متصل جو اضافی جگہ چاہئے وہ ہاتھ آجائے تو اسکے ہاتھ پر ہاتھ دھرے انجینئرز فوراً تعمیراتی کام شروع کرسکیں۔ترک ٹیم کے سربراہ رمضان اردم کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے کیمپس کی تعمیر کے لیئے جتنی جگہ کی پیشکش کی ہے اس میں ایک اچھا پرائمری سکول تو بن سکتا ہے۔یونیورسٹی کے سات بلاک ہرگز نہیں بن سکتے۔ رمضان اردم کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے دو ماہ سے فٹبال بنے ہوئے ہیں۔ہر آدمی اور ہر محکمہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رھا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ، پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ اور فوجی حکام میں ری کنسٹرکشن کے سلسلے میں ضروری رابطے کا فقدان ہے۔ماسٹر پلان میں تین مرتبہ تبدیلی کی جاچکی ہے۔ہر محکمہ کہتا ہے کہ وہ اسلام آباد سے نئی تعمیراتی پالیسی اور زلزلے سے متعلق رپورٹوں کا منتظر ہے۔جب تک انکا اعلان نہیں ہوجاتا ترکوں کو صبر سے بیٹھنا چاہئے اور زیادہ تیزی نہیں دکھانی چاہئے۔ | اسی بارے میں ’صورتحال اتنی خراب نہیں رہی‘27 January, 2006 | پاکستان ایک اجتماعی قبر کی کہانی23 January, 2006 | پاکستان الرحمت ٹرسٹ کے گودام پر چھاپہ23 January, 2006 | پاکستان 200 ملین ڈالر کی امریکی امداد 21 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||