BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 February, 2006, 15:01 GMT 20:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: امداد 5ء2 بلین، قرضہ 4 بلین

سینٹ اور قومی اسمبلی
پارلیمنٹ میں امداد کے متعلق پہلی دفعہ باقاعدہ اعداد و شمار پیش کیے گئے
پاکستان حکومت نے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینٹ کو جمعرات کے روز بتایا ہے کہ رواں سال چودہ فروری تک دنیا کے مختلف ممالک اور اداروں نے زلزلہ زدگان کے لیے چھ ارب باون کروڑ تینتیس لاکھ تریسٹھ ہزار ڈالر دینے کا وعدہ کیا۔

وقفہ سوالات کے دوران محمد علی بروہی کے سوال پر پیش کردہ تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے ساٹھ ممالک اور اداروں کی اس وعدہ کردہ رقم میں سے دو ارب پچاس کروڑ انتیس لاکھ چوراسی ہزار ڈالر امداد جبکہ باقی رقم قرضوں کی صورت میں ہے۔

واضح رہے کہ کئی ماہ سے حزب اختلاف زلزلہ زدگان کے لیے ملنے والی اور تقسیم شدہ امداد کو شفاف بنانے اور پارلیمان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے اس بارے میں جامع معلومات ایوان میں پیش کی ہیں۔

حکومت نے مزید بتایا ہے کہ گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کو آنے والے شدید زلزلے کے بعد رواں سال فروری کے وسط تک بیرونی ذرائع سے مجموعی طور پر ایک ارب دس کروڑ ڈالر کی امداد مل چکی ہے۔ جس میں تینتیس کروڑ ڈالر کی نقد رقم بھی شامل ہے۔

حکومتی اعداد وشمار کے مطابق بیرونی ممالک کی نسبت اندرون ملک سے زلزلہ زدگان کے لیے امدادی اشیاء کہیں زیادہ مقدار میں جمع ہوئیں۔ ان کے مطابق بیرونی ذرائع سے اسی ہزار سے زیادہ خیمے، آٹھ لاکھ سے زیادہ کمبل اور رضائیاں، سوا آٹھ سو ٹن سے زیادہ خوراک اور ایک ہزار ٹن سے زیادہ ادویات مل چکی ہیں۔

جبکہ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق ملکی سطح پر چھ لاکھ اڑتیس ہزار کے قریب خیمے، اکتیس لاکھ پینسٹھ ہزار سے زیادہ کمبل اور رضائیاں، انہتر ہزار سات ایک سو ٹن خوراک اور پونے اٹھارہ سو ٹن ادویات متاثرین کو ملیں۔

حکومت نے بتایا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے قائم کردہ صدارتی فنڈ میں بیرونی ذرائع سے دو ارب ساڑھے چھبیس کروڑ ڈالر ملے ہیں جس میں امداد صرف چھبیس کروڑ ڈالر ہے اور باقی رقم قرض کی صورت میں ہے۔

بیرونی ذرائع سے ملنے والی امداد میں سے زیادہ تر ممالک اور اداروں نے رقوم خود خرچ کرتے ہوئے اشیائے ضرورت کی صورت میں فراہم کی ہے۔

زلزلہ زدگان کی امداد اور تعمیر نو کے لیے حکومت نے دو نئے ادارے قائم کیے تھے اور دونوں کے سربراہ فوجی مقرر کیے گئے جس پر امدادی معاملات کے شفاف ہونے کے متعلق جہاں حزب مخالف نے احتجاج کرتے ہوئے سویلین افراد کی تعیناتی کا مطالبہ کیا وہاں عالمی ادارے بھی عالمی آڈیٹر کی تعیناتی پر زور دیتے رہے۔

ایسی صورتحال میں چند روز قبل تعمیر نو کے ادارے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل زبیر کو ’کام مکمل‘ کرنے پر اپنے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ الطاف سلیم کو تعینات کیا گیا۔ سرکاری بیان میں تو کہا گیا کہ جنرل زبیر خود سبکدوش ہوئے ہیں لیکن ان سے منسوب ایک شائع شدہ بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ انہیں سویلین سربراہ مقرر کرنے کی خاطر ہٹایا گیا ہے۔

جمعرات کے روز سینیٹ کو ایک اور سوال کے جواب میں حکومت نے بتایا کہ ستر کے قریب مقامی غیر سرکاری تنظیموں اور تیئس عالمی اداروں نے زلزلہ زدہ علاقوں میں امدادی کام میں حصہ لیا ہے۔

ادھر قومی اسمبلی کا اجلاس بھی جمعرات کے روز جاری رہا اور اس ایوان کو سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم کی وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے بتایا کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں پندرہ سو آٹھ لڑکیاں یتیم ہوگئی ہیں۔

ان میں سے صرف ایک سو پندرہ بچیوں کی دیکھ بھال اور تعلیم وغیرہ کا ذمہ وفاقی حکومت نے اٹھایا ہے اور باقی یتیم لڑکیوں کی دیکھ بھال صوبائی حکومتیں کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے ستر ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک، اس بھی زیادہ تعداد میں زخمی اور تیس لاکھ کے قریب بے گھر ہوگئے تھے۔ بیس لاکھ کے قریب لوگ خیموں میں رہتے ہیں جن میں سے چار لاکھ افراد برفانی علاقوں میں مقیم ہیں۔

متاثرینزلزلہ اور بےحسی
زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا، مسائل کا انبار
امدادجنرل زبیر مستعفی
بحالی زلزلہ کے ادارے کے سربراہ اچانک سبکدوش
چڑیا گھر کا پنجرہ باجی شبنم کا پنجرہ
ٹھٹھرنے سے بہتر ہے کہ ہم اسی پنجرے میں رہیں
ڈرامۂ تعمیرِ نو
ہر محکمہ نئی تعمیراتی پالیسی کا منتظر ہے
پروین رشیدون وومن آرمی
سروسز کی بحالی کے لیے پروین رشید کی جدوجہد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد