تعمیرِنو میں تاخیر سے عوام پریشان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے چھ ماہ بعد بھی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں باقاعدہ طور پر تعمیرِ نو کا عمل شروع نہ ہونے کی وجہ سے لوگ تذبذب کا شکار ہیں اور اس غیریقینی صورت حال میں کچھ لوگوں نے اپنے طور پر غیر محفوظ تعمیرات شروع کر رکھی ہیں۔ دوکانوں کی تعمیر میں مصروف شہر مظفرآباد کے ڈاکٹر علی اصغر شاہ کا کہنا ہے کہ’زلزلے میں میرا گھر اور کاروبار تباہ ہوگیا اور میرے پاس کوئی بھی ذریعہ آمدن نہیں رہا اور یہی وجہ ہے کہ میں اپنی تباہ ہوئی دوکانوں کی تعمیرِ نو کر رہا ہوں تاکہ زندگی گزرانے کے لیئے کچھ آمدنی ہو‘۔ ان کا کہنا ہے کہ’ کئی ماہ انتظار کے بعد میں نے تعمیر کا کام اپنے طور پر اس لیئے شروع کیا کیونکہ حکومت کی تعمیر نو کے بارے میں ابھی تک پالیسی غیر واضح ہے۔ اس صورت حال میں اس کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں کہ ہم اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونے کی کوشش کریں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ میونسپل کاپوریشن کی طرف سے فراہم کیئے جانے والے نقشے کے مطابق تعمیر کا کام کر رہے ہیں لیکن انہیں اب بھی اس بات کا یقین نہیں کہ یہ تعمیرات زلزلے کا جھٹکا برداشت کر سکیں گی اور آئندہ آنے والے کسی ممکنہ زلزے میں یہ دوکانیں کھڑی رہیں گی یا نہیں۔
ڈاکٹر علی اصغر شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت گزشتہ چھ ماہ سے تعمیر نو کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کر رہی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ شہر کو ماسڑ پلان کے تحت تعمیر کیا جائے گا لیکن ابھی تک ماسڑ پلان بھی نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسڑ پلان بھی حکومت کا بس ایک اعلان کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور تعمیر نو کا حکومتی دعویٰ بھی بس دعویٰ ہی رہے گا اور بالاآخر لوگوں کو تعمیر نو کا کام خود کرنا پڑے گا۔ مظفرآباد کے علاقے بیلہ نور شاہ میں دوکانوں کی تعمیر میں مصروف ایک معمار شبیر مغل کا کہنا ہے کہ’مجھے یہ نہیں معلوم کہ زلزلے کے جھٹکوں کو برداشت کرنے والی تعمیر کیسے کی جاتی ہے اور مجھے بلڈنگ کوڈ کے بارے میں بھی کچھ علم نہیں ہے اور نہ ہی کسی نے مجھے اس بارے میں کچھ بتایا‘۔ یہ گھر زلزلے سے متاثرہ ایک عمارت پر تعمیر کیئے جارہے ہیں اور معمار کا کہنا تھا کہ ان کو دیکھنے یا روکنے کے لیئے کوئی نہیں آیا۔ محمد افضل ترک اپنے تباہ ہوئے گھر کی مرمت کروانے کے ساتھ ساتھ اس کی چار دیواری دوبارہ تعمیر کروا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زلزلے کو چھ ماہ گزر جانے کے بعد بھی حکومت کی طرف سے کوئی عملی کام نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کا مزید انتظار نہیں کر سکتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے گھر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیئے تعمیر کا کام شروع کروایا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں آئے روز جھوٹ بول رہی ہیں اور لوگوں کو دکھ دے رہی ہیں اور ان حکومتوں کو کوئی احساس نہیں کہ لوگ کس حال میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’محلوں میں رہنے والوں کو کیا معلوم خیموں میں بغیر پانی اور بجلی کے کیسی زندگی ہوتی ہے۔ یہ تو کوئی ان لوگوں سے پوچھے جو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ شدید گرمی میں خیموں میں رہتے ہیں‘۔
پاکستان کی حکومت یہ دعویٰ کررہی تھیں کہ اپریل میں تعمیر نو کا کام شروع کیا جائےگا لیکن ابھی تک متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو تعمیر نو کے لیئے اصل رقم کی قسط بھی نہیں دی جا سکی ہے اور ایسے میں تعمیر نو کا عمل شروع ہونے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ اس صورت حال میں یہی نظر آتا ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد کو نہ صرف گرمیاں خیموں میں گزارنا پڑیں گی بلکہ شاید آنے والا موسم سرما بھی انہیں خیموں میں ہی گزارنا پڑے ۔ | اسی بارے میں متاثرہ علاقے، تعمیر نو سات اپریل سے 01 April, 2006 | پاکستان زلزلہ: متاثرہ اضلاع میں تعمیر نو شروع07 April, 2006 | پاکستان مزید امداد کی ضرورت ہے: آکسفیم08 April, 2006 | پاکستان عورت کی اپنی کوئی شناخت نہیں08 April, 2006 | پاکستان پاکستان اوراقوام متحدہ کے اختلافات22 April, 2006 | پاکستان ابتدائی امداد کے 30 ہزارچیک باؤنس22 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||