BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 April, 2006, 08:19 GMT 13:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: متاثرہ اضلاع میں تعمیر نو شروع

متاثرہ علاقے
زلزلے سے چھ لاکھ کے قریب مکانات منہدم ہوئے
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور صوبہ سرحد کے زلزلے سے متاثرہ سات اضلاع میں تعمیر نو کا مرحلہ جمعہ سے شروع ہوگیا ہے۔

اس مرحلے میں حکام کے مطابق جن افراد کے مکانات تباہ ہوئے ہیں انہیں معاوضہ دینے کے لیے فارم کا اجراء شروع ہوگا اور حکومت کی تشکیل کردہ ٹیمیں متاثرہ افراد کے متعلقہ منہدم مکانات کا جائزہ لے کر انہیں معاوضے کی رقم دینے کے بارے میں یاداشت نامے پر دستخط کریں گی۔

حکومت نے سات اضلاع کی دو سو سے زیادہ یونین کونسلز میں سے ہر کونسل میں تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو اس بات کا اندازہ لگائیں گی کہ کس کا مکان کلی یا جزوی طور پر تباہ ہوا ہے۔

زلزلے سے بحالی اور تعمیر نو کے متعلق ادارے کے سربراہ الطاف سلیم کا کہنا ہے کہ پچیس ہزار روپوں کی قسط پہلے ہی شیلٹر بنانے کے لیے متاثرین کو دی جاچکی ہے اور اب پچاس ہزار روپے انہیں دیے جائیں گے۔

حکومت کے طے کردہ طریقہ کار کے تحت جو شخص سروے ٹیموں کے نمائندوں سے معاہدہ کرے گا انہیں قریبی بینک سے رقم مل جائے گی۔

بعض متاثرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ان کے منہدم مکانات کے کلی یا جزوی طور پر تباہ ہونے کے تعین کے معاملے میں گھپلے ہو سکتے ہیں جبکہ الطاف سلیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے ’چیک اینڈ بیلنس‘ کا مربوط نظام وضح کیا ہے ۔

زلزلہ سےمتاثرہ مکانات کی تعمیر
 حکومتی اندازے کے مطابق چار اعشاریہ دو ارب ڈالر کی خطیر رقم تعمیر نو کے مرحلے کے دوران خرچ ہوگی اور آئندہ موسم سرما سے قبل زیادہ سے زیادہ لوگ مکانات تعمیر کرلیں گے

گزشتہ سال سات اکتوبر کو خطے کی تاریخ کے شدید ترین زلزلے میں تہتر ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے اور اتنی ہی تعداد میں زخمی بھی۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تیس لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے اور چھ لاکھ کے قریب مکانات منہدم ہوئے۔

حکومتی اندازے کے مطابق چار اعشاریہ دو ارب ڈالر کی خطیر رقم تعمیر نو کے مرحلے کے دوران خرچ ہوگی اور آئندہ موسم سرما سے قبل زیادہ سے زیادہ لوگ مکانات تعمیر کرلیں گے۔

تعمیر نو کے اس مرحلے میں جہاں منہدم مکانات کے لیے رقوم دی جائیں گی وہاں یتیم، بیواؤں، معذور اور ایسے نازک افراد کے لیے چھ ماہ تک ماہانہ تین ہزار روپے دینے کے لیے متعلقہ افراد کا اندراج بھی شروع ہوگا۔

حکومت نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ نازک افراد کے لیے معاوضہ کی رقم تین ہزار سے چھ ہزار روپے ماہانہ اور اس کا دورانیہ چھ ماہ سے ایک سال تک بڑھانے کا اختیار ان کے پاس ہوگا۔

اس سکیم کے لیے رقم آسان شرائط پر فراہم کردہ قرض کی صورت میں عالمی بینک نے دی ہے۔

لوگوں کومکانات کی تعمیر کے لیے معاوضہ دیا جائے گا

واضح رہے کہ پاکستان میں تعمیر نو کا کام شروع ہونے سے پہلے ہی سیمنٹ کی قیمت فی بوری ساٹھ روپے مہنگی ہوگئی ہے۔

اس بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا سبب ’مارکیٹ کی ڈیمانڈ اور سپلائی‘ میں اتار چڑھاؤ ہے جبکہ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس کی بڑی وجہ پاکستان سے سیمنٹ کا افغانستان برآمد ہونا بھی ہے۔

ادھر وزارت تجارت نے تیس اپریل تک سیمنٹ کی برآمد پر پابندی لگادی ہے تاکہ تعمیر نو کے مرحلے میں مطلوبہ مقدار میں سیمنٹ کی دستیابی یقینی بنائی جاسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد