BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 April, 2006, 11:04 GMT 16:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان اوراقوام متحدہ کے اختلافات

زلزلہ
ای آر آر اے ہ کہنا ہے کہ کشمیر اور صوبہ سرحد میں ترقیاتی اور بحالی کاموں میں فرق نہیں ہونا چاہیے
پاکستان کے زلزلہ زدہ علاقوں میں جلد بحالی کے متعلق ایک سالہ ’ایکشن پلان‘ کے بارے میں اقوام متحدہ اور حکومت پاکستان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

اس منصوبے کے اجراء میں تاخیر کے بارے میں پہلے تو دونوں اداروں کے نمائندے یہ کہتے رہے کہ ان کے درمیاں کوئی اختلاف رائے نہیں۔ لیکن سنیچر کو نیوز کانفرنس میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے بارے میں رابطہ کار یاں ویندے مورتیل اور زلزلے سے بحالی اور تعمیر نو کے متعلق ادارے ’ای آر آر اے، کے ڈپٹی چیئرمین میجر جنرل ندیم نے کھل کر اختلافات کا اظہار کیا۔

اپنے ابتدائی کلمات میں میجر جنرل ندیم احمد نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مجوزہ منصوبے میں بہت سے معاملات کو بار بار دہرایا گیا تھا اور کئی غیر ضروری چیزیں بھی اس میں شامل تھیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ نے تجویز کیا تھا کہ بارہ ہیلی کاپٹر چاہیے ہیں لیکن ای آر آر اے نے کہا کہ چار چھوٹے ہیلی کاپٹر بہت ہیں۔

ای آر آر اے کے نائب چیئرمین نے بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کشمیر اور صوبہ سرحد میں ترقیاتی اور بحالی کاموں میں فرق نہیں ہونا چاہیے اور جو تعلیمی ادارے یا دیگر سہولیات کشمیر میں ہوں وہی صوبہ سرحد میں بھی ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ کافی نکات پر اختلاف رائے کی وجہ سے بحث ہوتی رہی اور آخر کار اس منصوبے کو حتمی شکل دی گئی۔

اقوام متحدہ کے نمائندے یاں ویندے مورتیل نے تسلیم کیا کہ اس منصوبے کو جاری کرنے میں خاصی تاخیر ہوئی اور اس کا سبب بہت سارے نکات پر دونوں اداروں میں اتفاق رائے نہ ہونا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ تفصیلی گفت و شنید کے بعد طے ہوا ہے کہ اس منصوبے کے تحت صحت اور تعلیم کی سہولیات دینے، کیمپوں کی صفائی، پینے کا صاف پانی مہیا کرنے سمیت آٹھ شعبوں پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

میجر جنرل ندیم احمد اور یاں ویندے مورتیل کے درمیاں نیوز کانفرنس میں جلد بحالی کے اس ایک سالہ ایکشن پلان پر اٹھنے والے اخراجات پر بھی اختلافات سامنے آئے۔

فوجی افسر نے کہا کہ پہلے اقوام متحدہ نے اس پر لاگت کا تخمینہ دو سو نواسی ملین ڈالر لگایا لیکن انہوں نے اُسے کم کر کے ایک سو اٹھاسی ملین ڈالر کردیا ہے۔

جب کہ یاں ویندے مورتیل کا کہنا تھا کہ انہیں اب بھی اس منصوبے کے لیے دو سو نواسی ملین ڈالر ہی درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سو ملین ڈالر کے قریب رقم ان کے پاس موجود ہے اور ایک سو نواسی ملین انہیں اور درکار ہیں۔

پریس کانفرنس ختم ہونے کے بعد اس بارے میں جب دونوں سے علیحدہ علیحدہ وضاحت چاہی گئی تو بھی دونوں کا کہنا تھا اختلافِ رائے نہیں کچھ غلط فہمی ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد