BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 April, 2006, 13:17 GMT 18:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالاکوٹ: کاروباری طبقے کو نیا چیلنج

زندگی کی تگ و دو پھر سے شروع ہورہی ہے
صوبہ سرحد میں زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ بالاکوٹ شہر کے باسیوں کے لیئے آٹھ اکتوبر جو قیامت لے کر آیا سو آیا لیکن اگر کہا جائے کہ اس شہر کے کاروباری طبقے پر اس تباہی کا دگنا اثر ہوا تو شاید غلط نہیں ہوگا۔

ایک تو اپنے بچھڑے، مکانات تباہ ہوئے تو دوسری طرف کاروبار بھی گیا۔ لیکن اب بالاکوٹ کے کاروباری طبقے کو ایک بڑی مشکل باہر سے آئے تاجروں کی شکل میں درپیش ہے۔ اس یلغار کو کیسے روکا جائے، بالاکوٹ کے تباہ حال کاروباری اسی سوچ میں ہیں۔

بالاکوٹ کو گزشتہ دنوں ریڈ زون قرار دے دیا گیا جس کا مطلب ہے یہ انسانی آبادی کے لیئے موزوں نہیں۔ لیکن اس اعلان سے قبل ہی حکومت نے یہاں نیا ہسپتال اور تھانہ تعمیر کروا دیا جبکہ کاروباری طبقے نے بڑی تعداد میں دکانیں دوبارہ بنا ڈالیں۔

لیکن اکثر دکانوں کے کاؤنٹرز کے پیچھے پرانے مقامی چہرے نہیں بلکہ باہر علاقوں کے نئے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ بالاکوٹ کے مقامی دکانداروں کو شکایت ہے کہ جن دنوں وہ اپنے گھر بار اور امداد کی چکر میں سرگرداں تھے دوسرے علاقوں سے لوگوں نے آکر یہاں مالکان کو بڑی بڑی پگڑیاں اور کرائے دے کر ان دکانوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

اس وقت ایک اندازے کے مطابق پچاس فیصد سے زائد دکانیں باہر سے آئے یعنی کوہستان یا مانسہرہ جیسے علاقوں سے آئے لوگ چلا رہے ہیں۔

باہرسے آنیوالوں کی یلغار
 بالاکوٹ کے کاروباری طبقے کو ایک بڑی مشکل باہر سے آئے تاجروں کی شکل میں درپیش ہے۔ اس یلغار کو کیسے روکا جائے، بالاکوٹ کے تباہ حال کاروباری اسی سوچ میں ہیں۔
ارشاد ملک بالاکوٹ میں کبھی ایک دکان کے مالک ہوا کرتے تھے۔ ’میرا نیو فینسی جنرل سٹور تھا۔ زلزلے کے تیسرے روز آکر دیکھا تو کچھ بھی باقی نہیں تھا۔ سوئی تک نہیں ملی۔ کم از کم سولہ لاکھ روپے کا میرا سٹور تھا سب دریا برد ہوگیا۔ اگر میں بھی اس وقت ہوتا تو شاید آج یہاں نہ ہوتا۔‘

ارشاد ملک اب سگریٹ کا ایک کھوکھا چلاتے ہیں۔ ’اس کھوکھے سے تو دن کی سو ڈیڑھ سو کی فروخت ہوتی تو بمشکل گزارا ہوتا ہے۔‘

ارشاد ملک کا شہر کے پرانے کاروباری طبقے کو درپیش مسئلے کے بارے میں کہنا تھا کہ سیاحتی گیٹ وے ہونے کی وجہ سے کافی کاروبار تھا اس شہر کا۔ ’اب سب تاجر پریشان ہیں، یہاں پر حکومت نے ان کی بحالی کی جانب کوئی توجہ نہیں دی ہے۔‘

بالاکوٹ میں دکانوں کے مالکان نے زلزلے کے بعد دکانداروں سے کہا کہ انہیں ان کا ایڈوانس واپس نہیں ملے گا اور وہ اپنی طرف سے خرچ کرکے دکان دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں تو کریں ورنہ کسی اور کو یہ دے دی جائے گی۔

ارشاد ملک کا کہنا تھا کہ باہر سے آئے تاجروں نے زیادہ پیسے دے کر یہ دکانیں حاصل کرلی ہیں۔ ان میں مانسہرہ، کوہستان اور باجوڑ سے آنے والے تاجر ہیں جنہوں نے ان دکانوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

ارشاد صاحب کی باتیں سنی تو سوچا چل کر دیکھا جائے بازار میں کون نئے کاروباری چہرے آئے ہیں۔ ایسے میں الفرید ہوٹل سے پشتو کے تڑکے والے اردو کی صدائیں سنائی دیں تو ادھر ہی چل دیا۔

ارشاد ملک کھوکھے لگاتے ہیں
زلزلے سے پہلے یہاں تین منزلہ ہوٹل تھا لیکن اب ایک کچی چھت والا ہوٹل۔ بیرے زور زور سے کھانے کی ڈشیں رٹے کی صورت میں گاہکوں کو سنا رہے تھے۔ اب اس کچے سے ہوٹل کا کرایہ بھی دس ہزار روپے ماہانہ تک پہنچ گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ پہلے دکانیں یہاں چند ہزار روپے کرائے پر میسر تھیں مگر اب نہیں۔

نئے ہوٹل کے مالک شیر آغا نے بتایا دو ماہ پہلے یہ ریسٹورنٹ شروع کیا۔ ’کاروبار تو ماشا اللہ دو ماہ میں فرسٹ کلاس کاروبار ہے۔ رش مش برابر ہے۔ کام وام چلتا ہے۔‘

الفرید ہوٹل کے گاہک زیادہ تر سیاح، مقامی لوگ یا غیرسرکاری تنظیموں کے ملازم ہیں۔ اس سے قبل شیر آغا مانسہرہ میں ہوٹل چلاتے تھے۔ وہ ہوٹل فروخت کرکے ان سے یہاں آنے کی وجہ پوچھی تو ان کا کہنا تھا کہ ’بس نیا کاروبار شروع کرنے کا خیال تھا۔ بس روزی کی بات ہے۔‘

ان سے دریافت کیا کیا یہاں زیادہ منافع دکھائی دے رہا تھا اس لیئے یہاں آئے، تو ان کا کہنا تھا: ’نہیں منافع کی بات نہیں بس مقدر میں جہاں لکھا ہو وہیں جانا پڑتا ہے۔‘ ان کا ماننا تھا کہ مقامی لوگ اپنی فکروں میں پھنسے ہیں اس لیئے وہ ابھی کاروبار شروع کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔

اسے قدرت کی ستم ظریفی کہیں یا آزاد معیشت لیکن بالاکوٹ کے تجارتی طبقے کو اپنے مکانات دوبارہ تعمیر کرنے کے علاوہ اپنا کاروبار بحال کرنے جیسا سخت چیلنج بھی درپیش ہے۔

چھپڑ بالا یہ لکڑی کس کام کی؟
چھپڑ بالا کے لوگ چیڑھ کی لکڑی نہیں بیچ سکتے
بلڈوزر ملبہ ہٹاتے ہوئےکاروبار زندگی
بالاکوٹ: کسی کی بربادی، کسی کا دھندا
بالاکوٹ کا مدنی پلازہ تعمیر اچھی یا عمل
بالاکوٹ کا مدنی پلازہ کیسے محفوظ رہا
عرضی نویس مضمون بدل گیا ہے
عرضی نویس اب متاثرین کی عرضیاں لکھتے ہیں
بالاکوٹ اور زلزلہ
حادثوں سے زیادہ منہ زور زندگی
اسی بارے میں
بالاکوٹ کی سوگوار عید
04 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد