بالاکوٹ: کاروباری طبقے کو نیا چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ بالاکوٹ شہر کے باسیوں کے لیئے آٹھ اکتوبر جو قیامت لے کر آیا سو آیا لیکن اگر کہا جائے کہ اس شہر کے کاروباری طبقے پر اس تباہی کا دگنا اثر ہوا تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ ایک تو اپنے بچھڑے، مکانات تباہ ہوئے تو دوسری طرف کاروبار بھی گیا۔ لیکن اب بالاکوٹ کے کاروباری طبقے کو ایک بڑی مشکل باہر سے آئے تاجروں کی شکل میں درپیش ہے۔ اس یلغار کو کیسے روکا جائے، بالاکوٹ کے تباہ حال کاروباری اسی سوچ میں ہیں۔ بالاکوٹ کو گزشتہ دنوں ریڈ زون قرار دے دیا گیا جس کا مطلب ہے یہ انسانی آبادی کے لیئے موزوں نہیں۔ لیکن اس اعلان سے قبل ہی حکومت نے یہاں نیا ہسپتال اور تھانہ تعمیر کروا دیا جبکہ کاروباری طبقے نے بڑی تعداد میں دکانیں دوبارہ بنا ڈالیں۔ لیکن اکثر دکانوں کے کاؤنٹرز کے پیچھے پرانے مقامی چہرے نہیں بلکہ باہر علاقوں کے نئے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ بالاکوٹ کے مقامی دکانداروں کو شکایت ہے کہ جن دنوں وہ اپنے گھر بار اور امداد کی چکر میں سرگرداں تھے دوسرے علاقوں سے لوگوں نے آکر یہاں مالکان کو بڑی بڑی پگڑیاں اور کرائے دے کر ان دکانوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس وقت ایک اندازے کے مطابق پچاس فیصد سے زائد دکانیں باہر سے آئے یعنی کوہستان یا مانسہرہ جیسے علاقوں سے آئے لوگ چلا رہے ہیں۔
ارشاد ملک اب سگریٹ کا ایک کھوکھا چلاتے ہیں۔ ’اس کھوکھے سے تو دن کی سو ڈیڑھ سو کی فروخت ہوتی تو بمشکل گزارا ہوتا ہے۔‘ ارشاد ملک کا شہر کے پرانے کاروباری طبقے کو درپیش مسئلے کے بارے میں کہنا تھا کہ سیاحتی گیٹ وے ہونے کی وجہ سے کافی کاروبار تھا اس شہر کا۔ ’اب سب تاجر پریشان ہیں، یہاں پر حکومت نے ان کی بحالی کی جانب کوئی توجہ نہیں دی ہے۔‘ بالاکوٹ میں دکانوں کے مالکان نے زلزلے کے بعد دکانداروں سے کہا کہ انہیں ان کا ایڈوانس واپس نہیں ملے گا اور وہ اپنی طرف سے خرچ کرکے دکان دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں تو کریں ورنہ کسی اور کو یہ دے دی جائے گی۔ ارشاد ملک کا کہنا تھا کہ باہر سے آئے تاجروں نے زیادہ پیسے دے کر یہ دکانیں حاصل کرلی ہیں۔ ان میں مانسہرہ، کوہستان اور باجوڑ سے آنے والے تاجر ہیں جنہوں نے ان دکانوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ ارشاد صاحب کی باتیں سنی تو سوچا چل کر دیکھا جائے بازار میں کون نئے کاروباری چہرے آئے ہیں۔ ایسے میں الفرید ہوٹل سے پشتو کے تڑکے والے اردو کی صدائیں سنائی دیں تو ادھر ہی چل دیا۔
نئے ہوٹل کے مالک شیر آغا نے بتایا دو ماہ پہلے یہ ریسٹورنٹ شروع کیا۔ ’کاروبار تو ماشا اللہ دو ماہ میں فرسٹ کلاس کاروبار ہے۔ رش مش برابر ہے۔ کام وام چلتا ہے۔‘ الفرید ہوٹل کے گاہک زیادہ تر سیاح، مقامی لوگ یا غیرسرکاری تنظیموں کے ملازم ہیں۔ اس سے قبل شیر آغا مانسہرہ میں ہوٹل چلاتے تھے۔ وہ ہوٹل فروخت کرکے ان سے یہاں آنے کی وجہ پوچھی تو ان کا کہنا تھا کہ ’بس نیا کاروبار شروع کرنے کا خیال تھا۔ بس روزی کی بات ہے۔‘ ان سے دریافت کیا کیا یہاں زیادہ منافع دکھائی دے رہا تھا اس لیئے یہاں آئے، تو ان کا کہنا تھا: ’نہیں منافع کی بات نہیں بس مقدر میں جہاں لکھا ہو وہیں جانا پڑتا ہے۔‘ ان کا ماننا تھا کہ مقامی لوگ اپنی فکروں میں پھنسے ہیں اس لیئے وہ ابھی کاروبار شروع کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ اسے قدرت کی ستم ظریفی کہیں یا آزاد معیشت لیکن بالاکوٹ کے تجارتی طبقے کو اپنے مکانات دوبارہ تعمیر کرنے کے علاوہ اپنا کاروبار بحال کرنے جیسا سخت چیلنج بھی درپیش ہے۔ |
اسی بارے میں بالاکوٹ: زلزلہ پروف سکول کی تعمیر07 November, 2005 | پاکستان شہروں پر متاثرین کے مسائل کا دباؤ23 November, 2005 | پاکستان نہ میکہ سلامت رہا اور نہ ہی سسرال24 November, 2005 | پاکستان بالاکوٹ: کچھ حصوں کی منتقلی 30 January, 2006 | پاکستان بالاکوٹ کہیں اور بسایا جائے گا02 April, 2006 | پاکستان ’اصل کام جینے کی نئی امنگ دیناہے‘ 05 November, 2005 | پاکستان بالاکوٹ کی سوگوار عید04 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||