BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 December, 2005, 07:16 GMT 12:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مضبوط تعمیر یا ’صالح اعمال‘؟

مدنی پلازہ
اس عمارت کے بچ جانے کی ایک وجہ مضبوط تعمیر بھی ہو سکتی ہے
صوبہ سرحد کا شمالی شہر بالاکوٹ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کا زور برداشت نہ کر سکا اور شہر کی نوے فیصد عمارتیں دیکھتے ہی دیکھتے زمین بوس ہوگئیں لیکن ایک عمارت ایسی بھی ہے جوتقریباً مکمل طور پر محفوظ رہی۔ شہر بھر کے ملبے میں وہ آج بھی کھڑی ہے اور مقامی لوگوں کا موضوعِ بحث ہے۔

یہ عمارت ہے بالاکوٹ کا مدنی پلازہ۔ چھ کنال رقبے پر واقع اس دو منزلہ عمارت میں سو دوکانیں، ہوٹل اور ایک ہسپتال قائم ہے۔

اس کے بچ جانے کے بارے میں مقامی لوگوں میں مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔ اکثر کے خیال میں اس عمارت کے مالکان اچھے مسلمان ہیں، تبلیغی ہیں اور انہوں نے اس پلازہ میں موسیقی یا سود جیسا کوئی ’غیراسلامی‘ کاروبار نہیں ہونے دیا۔

اس پلازہ میں فاروق شاہ اپنے بھانجے کی ایک جنرل سٹور چلانے میں مدد کرتے ہیں۔ انہوں نے آغاز میں زلزلے والے دن کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت اسی دوکان میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے دوکان سے بھاگ کر باہر عمارت کا پِلر تھام لیا لیکن اس وقت ان کے پاؤں زمین پر نہیں لگے رہے تھا اور سر پلر سے ٹکرا رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہر طرف دھواں اور اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ میں سمجھا میری نظر چلی گئی ہے اور میں اس عمارت کے ملبے میں سے نہیں بچ پاؤں گا۔ لیکن بعد میں جب روشنی ہوئی تو دیکھا بھانجا زخمی حالت میں تھا لیکن یہ یہ عمارت اپنی جگہ کھڑی تھی‘۔

یہ عمارت دوسری منزل کی ایک دیوار کے گرنے اور ایک مقام پر دراڑ کے علاوہ زلزلے کے جھٹکوں سے محفوظ رہی ہے۔ مقامی لوگوں کے خیال میں اس پلازے کا محفوظ رہنا یقینا ایک معجزے سے کم نہیں اور اس کی بڑی وجہ اس کے مالک ہیں۔ یہ تجارتی عمارت تولیوں کا کاروبار کرنے والے ایک شخص حاجی اقبال کی ملکیت ہے جو دینی اور رفاہی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتے ہیں۔

بالاکوٹ جہاں کئی مساجد بھی زلزلے سے متاثر ہوئیں، یہ عمارت یہاں آنے والوں کی توجہ کا مرکز بھی بنی ہوئی ہے۔

فاروق شاہ نے مزید بتایا کہ اس پلازہ میں دوکان ہی صرف ان لوگوں کو دی جاتی ہے جو نیک، شریف ہوں اور صوم و صلوت کے پابند ہوں۔ دوسرا یہاں دوکان پگڑی پر نہیں دی جاتی بلکہ صرف کرایے پر دی جاتی ہے۔

اس پلازہ میں ایک اور دوکاندار محمد شریف نے تسلیم کیا کہ اس عمارت کے بچ جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یہ تعمیر مضبوط کی گئی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ عمارت چھ برس پہلے تعمیر ہوئی میں اس وقت یہیں تھا اور خود دیکھا کہ اسے بڑے اچھے طریقے سے اسے تعمیر کیا گیا۔ اس کے ستون بڑے مضبوط ہیں‘۔

اس پلازہ کی اکثر دوکانیں آج کل بند پڑی ہیں۔ اس کی وجہ اکثر دوکانداروں کے عزیزواقارب کا زلزلے میں ہلاک یا زخمی ہوجانا بتائی گئی۔ وہ سب آج کل زخمیوں کی تیمارداری یا اپنے مکانات کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔

اس پلازہ کے ملکان سے تو بات نہیں ہوسکی لیکن ان کی چچا زاد بھائی محمد خان سے ملے تو انہوں نے بتایا کہ مالکان کا ایک لڑکا حال ہی میں مفتی بن کر یہاں تبلیغ کے لیے آیا تھا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق حاجی اقبال کے باقی دو بچے بھی حافظ قرآن ہیں۔

ان سے پوچھا کہ بالاکوٹ میں تو ایسے کئی اور بھی مذہبی خاندان ہوں گے تو انہوں نے کہا کہ یہ شہر قاریوں اور حافظوں کا شہر ہے۔ ’یہ سید احمد شہید اور اسماعیل بریلوی کی آخری آرام گاہ ہے لہذا مذہبی حلقوں میں کافی معتبر مانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مذہبی درسگاہیں تھی جہاں سے پڑھ کر لوگ اندرون اور بیرون ملک جاکر اسلام کا بول بالا کرتے ہیں‘۔

تو پھر یہ مذہبی لوگ کیوں زیر عتاب آئے تو محمد خان کا کہنا تھا کہ یہ تو قدرت کی ایک آزمائش ہے اور اس عمارت کا بچ جانا ایک اس کا ایک کرشمہ ہے۔ انسان تو بے بس ہے۔ وجہ جو بھی ہو، اس پلازہ کا بچ جانا اس کے مالکان کی اچھی شہرت میں اضافے کا سبب ضرور بنی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد