BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 April, 2006, 01:12 GMT 06:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالاکوٹ کہیں اور بسایا جائے گا

بالاکوٹ
فالٹ لائن کے باعث بالاکوٹ میں محفوظ تعمیرات ممکن نہیں ہیں

حکومتِ پاکستان نے کہا ہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں تباہ ہونے والا شہر بالاکوٹ کسی نئی جگہ پر بسایا جائے گا۔

ماہرین نے سینیئر وزراء کو بتایا ہے کہ صوبہ سرحد میں واقع پرانی جگہ پر دوبارہ شہر تعمیر کرنا بہت خطرناک ہے۔ بالا کوٹ کے متعلق ماہرین نے کہا ہے کہ وہاں ’فالٹ لائنیں ایک تو بہت زیادہ ہیں اور دوسرا وہ آڑی اور ترچھی ہیں‘۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال کی وجہ سے جس جگہ یہ شہر آباد تھا وہاں کم لاگت میں محفوظ تعمیرات ممکن نہیں ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے بالا کوٹ کے مکینوں کےلیئے فوری مناسب جگہ کا انتخاب کرنے کے لیئے وزیراعلیٰ سرحد اکرم درانی کو ہدایت کی ہے اور کہا کہ نئی جگہ پر زلزلے سے محفوظ مکانات والا ماڈل سٹی تعمیر کیا جائے۔

واضح رہے کہ زلزلہ آنے سے پہلے اس تاریخی شہر میں تین لاکھ افراد آباد تھے۔ زلزلے میں بالاکوٹ کے ہزاروں رہائشی ہلاک اور کئی دوسرے بے گھر ہو گئے تھے۔

حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر نو کا مرحلہ سات اپریل سے شروع کیا جائے گا اور تمام تباہ حال مکانوں کے مالکان کو رقوم لینے کے لیئے فارم بھی تقسیم کیے جائیں گے۔


یہ فیصلہ سنیچر کو صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا جس میں وزیراعظم شوکت عزیز کے علاوہ کشمیر کے وزیراعظم، صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ اور زلزلے سے بحالی اور تعمیر نو کے متعلق ادارے کے سربراہ کے علاوہ دیگر سینئر حکام شریک ہوئے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سات اپریل سے مکانوں کے معاوضوں کے حصول کے لیئے جو فارم جاری ہوں گے وہ دس روز کے اندر جمع کراکے متاثرین رقوم حاصل کر سکتے ہیں۔

اجلاس کے بارے میں جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ کلی طور پر تباہ ہونے والے مکان کے مالک کو پچھہتر ہزار جبکہ جزوی طور پر تباہ مکان کے لیئے پچاس ہزار روپے کی قسط جاری ہوگی۔

اجلاس میں ’فیڈرل ریلیف کمیشن‘ کا ادارہ ختم کرنے اور اس کا ایک سیل، بحالی اور تعمیر نو کے متعلق ادارے میں قائم کرنے کی باضابطہ منظوری بھی دی گئی۔ صدر نے یتیموں، بیواؤں، معذوروں اور انتہائی ضرورت مند افراد کو چھ ماہ تک ماہانہ تین ہزار روپے کی امداد دینے کی بھی منظوری دی۔

زلزلہ اور معاشرہ
زلزلہ کی نسلی اور طبقاتی دراڑیں
امریکی ڈالرچالیس کروڑ ڈالر
زلزلہ زدگان کی بحالی کے لیے عالمی بینک کا قرضہ
ایف ایم ریڈیوزلزلہ اور ذرائع ابلاغ
زلزلہ کوریج میں پاکستانی میڈیا کا ملاجلا کردار
زلزلے سے متاثرہ پچےزلزلہ زدہ علاقے
بچوں کو سردی سے بچانا ایک بڑا چیلینج ہے
متاثرینزلزلہ اور بےحسی
زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا، مسائل کا انبار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد