BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 January, 2006, 14:12 GMT 19:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عرضیاں تو ہیں مگر مضمون بدل گیا

بالاکوٹ شہر
بالاکوٹ شہر زلزلے سے بری طرح متاثر ہوا ہے
بالاکوٹ جب ایک جیتا جاگتا شہر تھا تو عدالتوں کے باہر بیٹھےعرضی نویس لوگوں کو جرم و سزا کی درخواستیں لکھ کر دیا کرتے تھے لیکن زلزلے نے اس شہر کے حالات ہی بدل ڈالے۔

اب عرضی نویس تو وہی ہیں لیکن درخواستوں کے مضمون بدل گئے ہیں۔ لوگوں کی شکایات ،خواہشات اور مطالبات نے نئی شکل دھار لی ہے۔

محمد ایوب بالا کوٹ کے ایک عرضی نویس ہیں پہلے وہ عدالتوں کے باہر بیٹھا کرتے تھے۔۔۔۔ وہ اب بھی وہیں بیٹھے ہیں۔ محمد ایوب زلزلے سے پہلے جرم و سزا پر مبنی درخواستیں لکھتےتھے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ جرائم میں مبتلا ہوتے تھے اور سزا سے بچنے کے لیے ان سے درخواستیں لکھواتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا کام تو صرف درخواست لکھ کر دینا ہوتا تھا، فیصلہ کرنے والے تو دوسرے لوگ تھے۔

زلزلہ آیا تو فیصلہ کن عدالتوں کی پتھر اور سریے سے بنی عمارتیں اور وکیلوں کے چمبر اپنے مکینوں کی شان شوکت سمیت زمین بوس ہوگئے البتہ لکڑی کے تختوں کو جوڑ کر بنائی گئی سیدھے سادھے محمد ایوب کی دکان شاید اپنی سادگی کی وجہ سے بچ گئی۔ اگرچہ عدالتیں مسمار ہوچکی ہیں جج ،وکیل، ملزم، مدعی سب ختم ہوگئے۔ زلزلے نے سب کچھ تباہ کر دیا جرم کرنے والے باقی رہے نہ انہیں سزادینے والی عدالتیں بچیں، محمد ایوب کی دکان تو بچ گئی تھی لیکن کام نہیں تھا ۔

پھر متاثرہ لوگوں کی مالی امداد نے ان کا کام جگا دیا۔ جب امداد ملنی شروع ہوئی تو روزانہ تیس پینتیس لوگ ان سے عرضیاں لکھوانے آ جاتے تھے۔ محمد ایوب کہتے ہیں کہ درخواستوں کی نوعیت تبدیل ہو چکی تھی جن لوگوں کے نام معاوضے کی فہرستوں میں شامل نہیں ہوتے تھے وہ ان سے درخواستیں لکھوانے آتے رہے اور ان کی لکھی درخواستوں پر لوگوں کو فی مکان پچیس ہزار روپےملے تو اس کے بعد زخمی اور معذوروں کے معاوضے کی باری آئی۔

بازو یا ٹانگ سے محروم ہونے والے کو پچاس اور کم نوعیت کے زخمی کو پچیس ہزار کے چیک ملے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ مرحلہ بھی ختم ہوا اور اب صرف وہ لوگ آ رہے ہیں جن کے چیک کیش نہیں ہوتے یا انہیں چیکوں پر کوئی اعتراض ہے۔

ان کے مطابق یہ تعداد اب کم ہوکر دس بارہ عرضیوں تک محدود ہوگئی ہے تاہم وہ کہتے ہیں کہ جب زلزلہ نہیں تھا، عدالتیں قائم تھیں تو ان کے پاس بے حد رش ہوا کرتا تھا اور ایک ایک دن میں سو سوا سو درخواست لکھ لیتے تھے۔

عرضی نویس لوگوں کے رازوں کا امین بھی ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر درخواست دینے والا سچا ہی ہو۔ محمد ایوب کہتے ہیں کہ اگرچہ سچ جھوٹ کا فیصلہ کرنا ان کے فرائض میں شامل نہیں لیکن پھر بھی وہ کوشش کرتے ہیں کہ صرف سچے کی درخواست ہی لکھیں۔

محمد ایوب کا معاوضہ پہلے بھی صرف دس روپے تھا اور آج بھی وہ دس روپے کے عوض ایک درخواست لکھ کر دیتے ہیں۔ اس دس روپے میں ان کی محنت کے علاوہ کاغذ اور روشنائی کی قیمت بھی شامل ہوتی ہے۔ محمد ایوب روزانہ قلم دوات اور سفید کاغذ لیکر اپنی دکان پر بیٹھ جاتےہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ جیسے جیسے امدادی اداروں اور حکومت کی متاثرہ علاقوں میں دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے ان کاکام اور آمدن بھی گھٹتی جارہی ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ تباہی جتنی مرضی ہو جب تک انسان زندہ ہے اس کا جرم سے ناتا بھی رہے گا اور ان کا عرضیاں لکھنے کا کام چلتا رہے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد