ترکی ٹوپی کے بعد اب ترکی روٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کی مقبول عام روٹی ’عیک مک‘ زلزلہ متاثرین کی غذا کا ایک اہم حصہ بنتی جارہی ہے اور مظفر آباد اور بالاکوٹ کے متاثرین روزانہ اٹھارہ ہزار نمکین ترکی روٹیاں کھا جاتے ہیں۔ اوپر سے کراری اور خستہ اور اندر سے نرم ایک بڑے سے بن کی مانند یہ روٹیاں ان دو موبائل آٹو میٹک پلانٹ پر تیار کی جاتی ہیں جو زلزلے کے فوری بعد ترکی ہلال احمر کا عملہ لایا تھا۔ ایک روٹی پلانٹ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کےشہر مظفر آباد میں لگایا گیا ہے اور دوسرا پلانٹ صوبہ سرحد کے سب سے زیادہ تباہ حال شہر بالاکوٹ میں لگایا گیا۔ بالا کوٹ میں ترک ہلال احمر کے ڈائریکٹر سزیکی چک مک کہتے ہیں کہ اسے روٹی نہیں صرف ’عیک مک‘ کہا جائے لیکن مقامی لوگ ان کی بات نہیں مانتے اور انہوں نے اس کا نام ’ترکی روٹی‘ رکھا ہوا ہے۔ بالاکوٹ شہر کا شاید ہی کوئی ایسا باسی ہو جس نے یہ ترکی روٹی نہ چکھی ہو۔
سزیکی چک میک نے کہا کہ ’عیک مک‘ ترکی کی مقبول ترین عذائی جنس ہے اور وہاں اس کی قیمت دو سو سے پانچ لیرا تک ہوتی ہے۔ زلزلہ متاثرین کو جو عیک مک مفت دی جارہی ہے وہ ترکی میں دو سو لیرا (پاکستانی نو روپے) میں فروخت ہوتی ہے۔ انہیں اس بات کی خوشی تھی کہ ترکی کی مقبول عام خوراک اب یہاں کے مقامی لوگوں میں بھی بہت پسند کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بار انہوں نے جمعے کو پلانٹ نہیں چلایا تو لوگوں کا رش ہوگیا جو روٹی کا مطالبہ کر رہے تھے وہ اسے اس خطےمیں روٹی کی مقبولیت قرار دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امداد کے علاوہ یہی ان کی خواہش اور مقصد تھا جو پورا ہوگیا ہے۔ بالاکوٹ کے ایک نواحی گاؤں کی ناہید کے اہل خانہ کو شروع میں یہ ترکی روٹی عجیب سی لگی تھی لیکن دھیرے دھیرے یہ ان کے من کو بھاگئی۔
ناہید نے کہا کہ اسے چائے کے ساتھ ، انڈے کے ساتھ اور ہر قسم کے سالن کے ساتھ کھایا جاسکتا ہے حتی کہ کچھ نہ بھی ہو تب بھی صرف پانی کے ساتھ کھایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیک وقت کراری اور ترم ، نمکین اور ہلکی سی ترش بھی ہے اور زیادہ دیر تک محفوظ رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی پاکستانی روٹی کے برعکس یہ اکڑتی نہیں اور ڈبل روٹی کی طرح میٹھی نہیں ہوتی۔ بالا کوٹ میں چل رہے پلانٹ سے گرما گرم روٹیاں پک کر نکل رہی تھیں ان کی سوندھی سوندھی خوشبو فضا میں پھیل رہی تھی۔ ایک فوجی جوان پلانٹ کے نزدیک کھڑا اس بات کی نگرانی کر رہا تھا کہ لوگ روٹی مانگنے کے لیے پلانٹ تک نہ پہنچ جائیں لیکن اس کے باوجود کوئی نہ کوئی آنکھ بچا کر پلانٹ تک پہنچ ہی جاتا اور ترک عملے سے ایک دو روٹیاں لے کر ہی لوٹتا۔
ہلال احمر کے لوگوں نے بتایا کہ وہ بالا کوٹ میں روزانہ دس سے گیارہ ہزار روٹیاں پکاتے ہیں۔ انہوں نے گرد ونواح کے گاؤں کی فہرست بنا رکھی ہے جہاں باقاعدگی سے روٹی پہنچائی جاتی ہے اس کے علاوہ تمام بڑی خیمہ بستیوں کے لیے ان کے منتظیمین تک روٹی کی ٹوکریاں پہنچا دی جاتی ہیں۔ مظفرآباد کے روٹی پلانٹ میں چھ سے آٹھ ہزار روٹیاں پکائی جاتی ہیں۔ اس پلانٹ کے لیے میدہ اور دیگر اجزاء ترکی سے آتے ہیں۔ ہلال احمر کے ڈائریکٹر سیزکی چک مک ایک ترجمان کی مدد سے بی بی سی سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مقامی لوگوں کو پلانٹ چلانے کی تربیت دیدی ہے اور ایک فیصلے کے تحت وہ پاکستان سے واپس جانے سے پہلے یہ پلانٹ پاکستانی ہلال احمر کے حوالے کردیں گے لیکن انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کی ضمانت نہیں دے پائیں گے کہ ان کے جانے کےبعد بھی یہ پلانٹ چلتے رہیں اور عیک مک جن لوگوں کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے ان تک پہنچتی رہے گی۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||