حادثوں سے زیادہ منہ زور زندگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد جہاں تباہی اور بربادی کی ان گنت کہانیاں سامنے آئیں وہاں اب بہتری کے آثار بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ زندگی حادثات سے رکتی نہیں بلکہ راستہ بند ہونے کی صورت میں کسی منہ زور دریا کی مانند ڈگر تبدیل کر لیتی ہے۔ یہی کچھ صوبہ سرحد کے زلزلے سے بری طرح متاثرہ بالاکوٹ میں دیکھنے کو ملا۔ اس تباہ حال شہر میں بچ جانے والے ہر شخص کی کہانی بہادری اور جذبے کی کہانی ہے۔ ان میں ہی ایک نوجوان محمد ایاز ہیں۔ ان کی بائیس سالہ زندگی سماعت اور گویائی سے مکمل طور پر عاری تھی۔ تاہم اب وہ آواز کی دنیا سے روشناس ہو رہے ہیں۔ محمد ایاز کو زلزلے میں جہاں والدہ اور بڑے بھائی جیسا بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا وہاں اب ان کی زندگی میں ایک بہتر تبدیلی بھی آ رہی ہے۔ آٹھ اکتوبر سے پہلے ایاز بے روزگار تھے۔ بالاکوٹ میں ایک آدھ گاڑی دھو کر انہیں چند روپے مل جاتے تھے۔ لیکن یہ یقینا ان کے لیئے باقاعدہ یا کافی آمدن نہیں تھی۔ ان کی زندگی میں حادثہ قدرتی آفت کی وجہ سے پیش آیا لیکن اسی سانحے کی وجہ سے ترک ہلال احمر بالاکوٹ پہنچی۔ اس تنظیم کی آمد سے ایاز کو چار سو روپے روزانہ کی نوکری تو ملی ہی ملی لیکن ساتھ میں ان کا علاج بھی ممکن ہوا۔ علاج شاید عام حالات میں ممکن نہ ہوتا۔ پیدائشی گونگا بہرا سمجھ کر سب نے یہاں تک کہ خود انہوں نے بھی ہتھیار ڈال دیے تھے۔
تقریبا پینتیس ہزار روپے کا خرچ برداشت کرکے ایاز کو نئے آلے ملے جن کی مدد سے اب وہ زندگی میں پہلی مرتبہ چند آوازیں نکالنے لگے ہیں۔ ان محدود آوازوں اور اشاروں کی مدد سے انہوں نے بتایا کہ وہ آج کل ملنے والی رقم گھر کے لیئے جمع کر رہے ہیں۔ البتہ شادی کا ان کا پروگرام ابھی دو سال بعد کا ہے۔ گفتگو کے دوران ایاز کی چھوٹی بہن سعدیہ بھی آگئیں جسے گلے لگا کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس وقت وہاں موجود کسی کو شک نہیں تھا کہ یہ یقینا خوشی کے ہی آنسو تھے، ایک اچھے مستقبل کی خوشی کے۔ بالاکوٹ میں ہی کافی صدموں اور مشکلات کے بعد ایک اور مثبت تبدیلی پینسٹھ سالہ ملک ارشاد کی زندگی میں آ رہی ہے۔ خانوں کے محلہ کا کوئی مکان زلزلے میں نہ بچ سکا اور یہی حال ملک ارشاد کے دو منزلہ مکان کا بھی ہوا۔ انہیں بیوی، بھائی اور بچوں کی سات لاشیں اس کے ملبے سے نکالنی پڑیں۔ مکان کی جگہ اب وہاں صرف میدان ہے۔ ’میرا چالیس لاکھ روپے کا مکان تھا اور اب صرف یہ ہے۔ میں ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہوں اور بازار میں ایک دکان کے ذریعے گزارا کر رہا تھا۔ وہ چودہ لاکھ سامان والی دکان بھی زلزلے کی نذر ہوئی۔ اب کچھ نہیں رہا۔‘ تاہم انہوں نے بھی آخری عمر کے حصے میں بھی ہمت نہیں ہاری۔ اب وہ بالاکوٹ کے مرکزی بازار میں سڑک کنارے چار بائی چار کا سگریٹ اور ٹافیوں کا کھوکھا لگائے بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کھوکھے سے کیا گزارا ہونا ہے مگر بس زندگی کی گاڑی دھکیل رہے ہیں۔
زندگی کی یہ جدوجہد صرف بڑے بوڑھوں تک محدود نہیں۔ چھوٹے بچے بھی اس میں شامل ہیں۔ عام حالات میں یہ بےفکری اور سکھ چین والا حصہ تصور کیا جاتا ہے لیکن بالاکوٹ کے تیرہ سالہ ظہور احمد کے لیئے نہیں۔ زلزلے نے ان کے کاندھوں پر ایسا بوجھ لاد دیا جس کا اسے آٹھ اکتوبر سے پہلے خواب میں بھی خیال نہیں آیا تھا۔ ان کے والدین اور پانچ بہنیں اس زلزلے کی نذر ہوگئیں چنانچہ اب انہیں اپنے علاوہ تین چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال بھی رکھنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے یہ اضافی ذمہ داری اب بڑی بہادری سے سنبھالی ہوئی ہے۔ ان کے دن کا آغاز دیگر بچوں کی طرح سکول جاکر ہوتا ہے۔ انہوں نے ان مشکل حالات میں بھی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہیں کیا۔ وہ پانچویں جماعت میں پڑھ رہے ہیں۔ سکول کے بعد وہ سیدھے خالو کے ہوٹل کا رخ کرتے ہیں، وہاں ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ اس چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں وہ گاہکوں کو چائے کھانا پیش کرتے اور برتن دھوتے ہیں۔ ان کے خالو سلطان احمد نے بتایا کہ وہ اس مدد کے بدلے بھتیجے کو سو روپے روزانہ ادا کرتے ہیں۔ ظہور کا کہنا ہے کہ انہیں ہوٹل میں کام کی نسبت سکول میں پڑھنا زیادہ پسند ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ زلزلے کے بعد زندگی زیادہ مشکل ہوگئی ہے۔ وہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں۔ مضامین میں انہیں اردو پسند ہے جس کا ایک شعر انہوں نے مجھے بھی سنایا: اس لاٹھی سے ڈرو جس کی آواز نہیں |
اسی بارے میں وعدہ جو وفا ہوا02 November, 2005 | پاکستان ’اصل کام جینے کی نئی امنگ دیناہے‘ 05 November, 2005 | پاکستان بالاکوٹ: زلزلہ پروف سکول کی تعمیر07 November, 2005 | پاکستان شہروں پر متاثرین کے مسائل کا دباؤ23 November, 2005 | پاکستان نہ میکہ سلامت رہا اور نہ ہی سسرال24 November, 2005 | پاکستان مضبوط تعمیر یا ’صالح اعمال‘؟14 December, 2005 | پاکستان بالاکوٹ: کچھ حصوں کی منتقلی 30 January, 2006 | پاکستان بالا کوٹ اب کہیں اور بسے گا29 March, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||