متاثرین کے چیک اور امدادی ایجنٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے سے متاثرہ صوبہ سرحد کے شہر بٹہ گرام میں کچھ ایجنٹ رقم کے عوض بینک سے چیک کیش کروانے کی پیشکش کررہے ہیں۔ یہ ’امدادی ایجنٹ‘ امدادی رقم کی دوسری قسط کے اعلان کے ساتھ ہی دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے سادہ لوح متاثرین سے رقم بٹورنے میں بھی مصروف ہیں۔ بٹہ گرام شہر میں چار بڑے بینکوں کی شاخیں موجود ہونے کہ باوجود متاثرین کی لمبی قطاریں بینک کے اوقات شروع ہونے سے کئی گھنٹے پہلے سے لگنی شروع ہوجاتی ہیں۔ بینکوں کے باہر ہجوم میں ہر ایک کا مسئلہ مختلف ہے۔ کسی کو اکاؤنٹ کھلوانا ہے تو کوئی درخواست فارم لینے کے لیئے آیا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ بینک کے عملے پر رشوت مانگنے کا الزام لگاتے ہیں۔ ٹکری نامی گاؤں کے خان محمد نے بتایا کہ امدادی رقم کی ادائیگی کے علاوہ ان سے درخواست فارم تک کے لئے بینک عملے نے پانچ سو روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ الائی کے رہنے والے محمد اکبر کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ دو ماہ میں رقم کی وصولی کے لئے ضابطے کی تمام کاغذی کارروائی پوری کرچکے ہیں لیکن نقد رقم کے لیئے یونائیٹڈ بینک کی بٹہ گرام شاخ کا عملہ ان سے رشوت کا تقاضہ کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عملے کے ایک فرد نے ان سے کہا کہ اگر وہ پندرہ سو روپے ادا کریں تو ان کے امدادی چیک کی ادائیگی جلد ہوسکتی ہے۔ ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے یونائیٹڈ بینک کی بٹہ گرام شاخ کے مینیجر نور پرس کہتے ہیں کہ ان کی پوری کوشش ہے کہ تمام متاثرین کو بغیر کسی مشکل کے امدادی رقوم ادا کی جاسکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی شخص پیسے دے کر قطار میں اپنے سے آگے کھڑے شخص کی جگہ بینک کے اندر آنا چاہے تو یہ اس کی اپنی بیوقوفی ہے اور یہ ناممکن ہے کہ بینک کے عملے کا کوئی فرد متاثرین سے رقم کا مطالبہ کرے۔ حکومت کے اس وعدے پر لوگ اب واپس اپنے علاقوں میں جانا شروع ہوگئے ہیں کہ انہیں وہاں گھر بنانے کے لئے پچھہتر ہزار روپے کی دوسری قسط ادا کی جائے گی۔ اس کے باوجود کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں اب تک پہلی قسط کے پچیس ہزار تک نہیں ملے ہیں۔ ان میں شملائی کی رہنے والی اقبال انساء بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پہلی قسط کے پچیس ہزار میں سے انہیں پندرہ ہزار کی ادائیگی تو ہوچکی ہے لیکن بقایا دس ہزار کے لیئے کئی چکر لگانے کے باوجود ان کی کوئی شنوائی نہیں۔ امدادی رقوم دیئے جانے کے حکومتی اعلان کے بعد سے ہی رقوم کی حصولی میں متاثرین کی جانب سے مختلف شکایات سننے کو مل رہی ہیں۔ کبھی بینک کی سہولت نہ ہونے کا گلہ کیا جاتا ہے تو کبھی بینک میں ادائیگی کے لئے رقم ہی نہیں ہوتی۔ ان مشکلات کی وجہ سے بینک کے باہر منڈلاتے ان ایجنٹوں کا کاروبار خوب چمک اٹھا ہے جو رقم کے عوض تمام قانونی کارروائی کروانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ اور وہ رقم جو متاثرین کا حق ہے، ان کو بھکاریوں کی طرح مانگنی پڑتی ہے۔ متاثرین میں ایسے لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے جنہوں نے اپنی عزت نفس کی وجہ سے یہ امدادی رقم نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ |
اسی بارے میں زلزلہ: کون کتنی امداد دے رہا ہے؟24 October, 2005 | پاکستان زلزلہ: 9000 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں23 December, 2005 | پاکستان پاکستان: 5.1 شدت کا ایک اور زلزلہ11 January, 2006 | پاکستان زلزلہ: 17 جنوری سے نیٹو فوج واپس 09 January, 2006 | پاکستان کالا باغ ڈیم نے زلزلہ بھلا دیا31 December, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا14 February, 2006 | پاکستان زلزلہ: امداد 5ء2 بلین، قرضہ 4 بلین16 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||