تعمیر نو کی نگرانی کا نیا نظام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں آٹھ اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امداد کی خرد برد روکنے اور تعمیر نو کے عمل کی نگرانی کے لیئے برطانوی حکومت ایک نظام وضع کرکے دے رہی ہے۔ برطانیہ کے بین الاقوامی ترقی کے ادارے ’ڈی ایف آئی ڈی‘ کے پاکستان میں پروگرام مینجر ٹم ہیٹن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کے تحت تمام تنظیموں کی امداد کی نگرانی ممکن ہوسکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے فنڈز کی خرد برد اور ڈوپلیکیشن سے بچا جا سکے گا۔ ٹم ہیٹن کا کہنا تھا کہ امداد میں خرد برد یا اس کے غلط استعمال پر تمام امدادی اداروں کو تشویش تھی اور اس کا احساس حکومت پاکستان کو بھی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں حکومت نے مکمل شفافیت اور احتساب کی یقین دہانی کرائی ہے اور وہ اس یقین دہانی سے مطمین ہیں۔ نگرانی کے نئے نظام کے خدوخال پر روشنی ڈالتے ہوئے ٹم ہیٹن نے کہا کہ یہ فیلڈ ٹیمز پر مبنی ہوگا جوکہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں نظر رکھے گا۔ ’اس کے علاوہ اس نظام کے تحت ہر سال ہم امداد کی تقسیم اور اس کے اثرات کا ماہرین سے ایک غیرجانبدارنہ اور آذاد تجزیہ بھی کرایا کریں گے۔ یہ ماہرین ہم تعینات کریں گے۔‘ ڈی ایف آئی ڈی کو یقین ہے کہ اس قسم کا تجزیہ اسے امدادی منصوبوں کی ایک مجموعی سالانہ تصویر مہیا کرے گا۔ ڈی ایف آئی ڈی یعنی ڈیپارٹنمٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ برطانوی حکومت کی بین الاقوامی ترقی کے لیئے قائم ایک وزارت ہے۔ اس وزارت کا اہم مقصد دنیا سے غربت کا خاتمہ ہے جس کے لیئے وہ مختلف نوعیت کے منصوبوں کی تکمیل میں پاکستان جیسے ممالک کی مالی مدد کرتی ہے۔
پاکستان میں اکتوبر کے زلزلے کے بعد ڈی ایف آئی ڈی نے امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اب تعمیر نو کے دوسرے مرحلے میں ادارہ پینتیس ملین پاؤنڈ صوبہ سرحد میں خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ نیا نظام ایک ایسے وقت تیار کیا جا رہا ہے جب حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ آئندہ ایک برس کے دوران زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے ایک بڑے منصوبے کے آغاز کا ارادہ رکھتے ہے۔ زلزلے سے تباہ حال لاکھوں کی آبادی کے لیئے ایک اچھے آغاز کی واحد امید ان علاقوں کو ملنے والی بین الاقوامی امداد ہے۔ ایسے میں بدعنوانی کا تدارک اس علاقے کے مستقبل کو بچانے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں زلزلہ: اقوام متحدہ کا امدادی پروگرام 17 May, 2006 | پاکستان ایک لاکھ متاثرین واپس،57 کیمپ بند08 May, 2006 | پاکستان تعمیرِنو میں تاخیر سے عوام پریشان27 April, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین: صدر مشرف کا وعدہ09 April, 2006 | پاکستان مزید امداد کی ضرورت ہے: آکسفیم08 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||