کیوبا کے ڈاکٹروں کی واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کو آنے والے شدید ترین زلزلے سے متاثرہ افراد کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیئے آنےوالا کیوبا کا طبی مشن امدادی کام ختم کرکے واپس روانہ ہورہا ہے۔ کیوبا کے نائب وزیر خارجہ برونو روڈریگئیز پریلا کی سرربراہی میں چوبیس سو ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف سات ماہ تک کشمیر اور صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دیتا رہا۔ بدھ کے روز کیوبا کے وفد نے صدر جنرل پرویز مشرف سے الوداعی ملاقات کی اور اس موقع پر صدر نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام کبھی بھی کیوبا کی خدمات نہیں بھلا پائیں گے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کیوبا کے صدر فیڈل کاسترو کے جذبہ خیر سگالی کو بھی سراہا اور کہا کہ انہوں نے بروقت ایک بڑا طبی امدادی مشن پاکستان بھیجا۔ کیوبا نے سینکڑوں متاثرین کو طبی امداد پیش کی اور تیس زلزلہ زدگاں، جن کے اعضاء کاٹے گئے تھے ان کا اپنے خرچ پر کیوبا میں علاج کیا اور واپس پاکستان پہنچایا۔ انہوں نے بتیس فیلڈ ہسپتال اور دو امدادی کیمپ قائم کیئے تھے اور اپنا مشن مکمل کرتے وقت تمام فیلڈ ہسپتال پاکستان حکومت کو بطور امداد دیئے ہیں۔ اس موقع پر کیوبا کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے نیک جذبے کے تحت اپنا فرض نبھایا اور مطمئن ہوکر واپس جارہے ہیں۔ صدر سے ملاقات کے وقت کیوبا کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جوئن کارلوس ، پاکستان میں زلزلے سے بحالی کے بارے میں ادارے ’ای آر آر اے‘ کے نائب چیئرمین میجر جنرل ندیم احمد، فوج کے ڈپٹی سرجن جنرل میجر جنرل فرخ بھی موجود تھے۔ | اسی بارے میں درد کا رشتہ، کیوبا کے ڈاکٹر18 November, 2005 | پاکستان میرا کا ’فور سٹار‘ کیمپ18 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: 9000 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں23 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||